صرف اور صرف مکمل انصاف

صرف اور صرف مکمل انصاف
صرف اور صرف مکمل انصاف

  


ٹرائل جج کی ٹیپ کا سامنے آنا اور جج کا اس ٹیپ میں پریشر کا اقرار کرنا ایک سنگین مسلہ ہے جس سے آزادانہ عدلیہ اور نیب کے ذریعے جاری احتساب پر انگلیاں اٹھنے کا خدشہ ہے،جج کا اس ٹیپ میں شامل افراد سے شناسائی کا اقرار اور اس میں موجود کچھ مواد سے بادی النظر سیاق و دباؤ سے ہٹ کر رپورٹنگ اور انکار اور حلف یہ بیان اسے مزید پیچیدہ بنا دیتا ہے۔ اعلی عدالت کو اس واقعی کی سنگینی کا اندازہ پہلے لگالینا چاہیے تھا اور انصاف کے نام پر کسی بھی قسم کی استحصالی کوششوں کو روکنا چاہیےتھا اور ابھی بھی چاہیے۔ اعلی عدالت کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ مکمل انصاف کرے اور آئین کا آرٹیکل 184 اور 187 اعلی عدلیہ کو مکمل انصاف کا اختیار دیتا ہے اور تمام ادارے شخصیات اور عہدیدار آرٹیکل پانچ کے تحت ملک کے مفاد کے تحفظ کے پابند ہیں۔کرمنل لاء میں عزت ماب آصف سعید کھوسہ سے بڑا جیورسٹ کہاں سے لائیں گے جو ٹرائل کی شفافیت پر ہمیں سبق دے؟اب انکو اپنے لفظوں کو عملی اقدامات کے ذریعے انصاف کی تسبیح میں پرونے کا وقت ہے،یہ اختیار وہ خود بھی استعمال کرسکتے ہیں اور اپیل کنندہ ان سے پٹیشن کے ذریعے رجوع بھی کرسکتا ہےلیکن جج کے پریس بیان کے بعد ادارہ جاتی تحقیقات بھی وقت کی اہم ضرورت ہیں کیونکہ ٹیپ میں جج صاحب سے منسوب بیان کی نوعیت بہت سنگین ہے۔سپریم کورٹ پہلے ہی آصف زرداری بنام ریاست (PLD 2001 SC 568 @ 599) میں اعلی عدالت نے یہ کہا تھا کہ حقائق اور قانون پر فیصلہ دینے والا جج اگر متعصب ہوگا تو ٹرائل کا فیصلہ کالعدم ہوسکتا ہے۔

عدالت عظمی نے اس ٹیپ پر پٹیشن کے ذریعے استغاثہ لیا ہے اور کچھ نوٹسز جاری کئے ہیں،ہمارے وکلاء کی نمائندہ ایسوسی ایشنز ، بار کونسلز ، جیورسٹ ، ججز ، میڈیا اور سول سوسائٹی کو وہاں شامل تشویش ہونا چاہیے۔سپریم کورٹ بار کو تو افتخار چوہدری کے مقدمے کی طرز پر اس کیس میں فریق کے طور پر شمولیت اختیار کرنا چاہیے کیونکہ یہ انتہائی حساس اور پیچیدہ معاملہ ہے اور اسے اشفاق کی پٹیشن تک محدود کرکے نہیں چھوڑنا چاہیے اور بعد میں اگر مذکورہ فریق اس پٹیشن کو واپس لےکے تو بار کے پاس شاید موقعہ نہ بچے اپنی گزارشات پیش کرنے کا ۔ جن کو نوٹس ہوئے ہیں وہ بھی جہان دیدہ وکلاء اور جیورسٹ کو ساتھ لیکر جائین تاکہ عدالت کی ممکنہ معاونت ہوسکے تاکہ “مس ٹرائل “ روکا جاسکے اور انصاف کی فراہمی کا راستہ کھولا جاسکے۔عدالت ازخود بھی یہ کام کرسکتی ہے اور اسلام آباد کورٹ کو بھی اس کام کی مذکورہ اپیل کے ذریعے حکم دے سکتی ہے تاکہ انصاف کا بول بالا ہو ۔عدالت عظمی کمیشن بھی مقررکر سکتی ہے کہ کیوں نہ یہ جانا جائے کہ ایسا کیوں ہوا اور ایسا کیونکر اور کیسے روکا جاسکتا ہے؟ ججز کو بلیک میل کرنا یا اسکے الزامات ایسے مقدمے میں سامنے آنا جس میں ایک فریق تین دفعہ رہنے والا سابق وزیراعظم ہے اور جس مقدمے اور ٹرائل کو عدالت عظمی نظر ثانی جج کے ذریعے مانیٹر کررہی ہو ایک معمولی بات نہیں ہے۔غیر معمولی واقعات غیر معمولی اقدامات کےمتمنی ہوتے ہیں،اب بار اور بنچ کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ وہ سیاسی مقدمات پر عوام کا اعتماد بحال کرے اور کسی بھی قسم کی سیاسی کمزوری اور فائدہ کے تخت انتقام اور تعصب کے اثر کے الزام کو زائل کرے ،اگر ایک دفعہ یہ اعتماد مزید کمزور ہوا تو عوام شاید کسی بھی احتساب پر یقین نہ کرسکیں،فوجی اور مذہبی عدالتوں کی پاکستان کے آئین میں گنجائش تو موجود نہیں ہے لیکن ہر چوک پر عدالت لگانے کا موقعہ”عوامی جسٹس “جانے نہیں دیتا ، کوشش یہی ہونا چاہیے کہ عوامی انصاف ووٹ کے ذریعے الیکشن کے زریعے ہی ہو وگرنہ پبلک جسٹس جیسا کہ ہم نے مذہبی الزامات پر دیکھا بھی ہے ملک کو کہیں کا نہیں چھوڑے گا۔پارلیمان قانون سازی کے ذریعے نیب کے قانون میں موجود سقم دور کرے اور یہ دوسرا وزیراعظم ہے جو اس سلوک کا اسطرح نشانہ بنا ہے،عوامی نمائندوں کے ساتھ اس زیادتی پہ پارلیمانی خاموشی لمحہ فکریہ ہے۔جب سپریم کورٹ کے ایک جج احتسابی عمل کی نگرانی کررہے تھے ، ہر دو ہفتوں بعد رپورٹ لے رہے تھے تمام اضافی درخواستیں ،اجازتیں ،حکم امتناعی یا پیشی کے متعلقہ درخواستیں انکی مرضی سے نپٹا ئی جاتی تھیں تو یہ کیسے ہوگیا کہ ایک جج کے کمرے میں ہونی والے کارروائی پر بلیک میلنگ کا الزام لگ گیا، فلمیں چل گئیں اور کوئی رپورٹ نہیں ہوئی اور نگران جج کو بتایا نہیں گیا اور انصاف ادھورا رہ گیا اور اسکی پامالی ہوئی،اعلی عدلیہ نے عوام کو یہی اعتماد دلانا ہے کہ انکی نگرانی میں انصاف کی اجتماعی زیادتی ہوئی بھی ہے تو دوبارہ نہیں ہوگی۔ وکلاء کا مطالبہ یہی ہے کہ عدالت نواز شریف کے کیس میں تعصب اور پریشر کے تحت انصاف کی پامالی جیسے الزامات کی مناسب تحقیق کا حکم صادر کرے اور انصاف کی پامالی روکتے ہوئے انصاف کا راستہ بحال کرے اور سچ پر مبنی فیصلہ صادر کرنے کا اہتمام کرے۔ ایسا کرتے ہوئے جج اور ثبوت لانے والے گواہان کی حفاظت کا مکمل انتظام کا حکم بھی دائر کرے کیونکہ اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ غلطی میں پکڑا شخص غلطیوں کی ایک سیریز چھوڑ کے جاتا ہے جیسا کہ مزکورہ جج پریس ریلیز حلفیہ بیان اور انکے حمایتی پریس کانفرنسز کی شکل میں داغ رہے ہیں ۔ ممبر سپریم کورٹ بار اور ہیومن رائیٹس کمیشن کے ناطے عدالت سے ایسے مکمل انصاف کی امید ہے جو کہ ہوتا نظر آئے کیونکہ کئی دفعہ کٹہرے میں کھڑا شخص آناً فاناً ہماری غلطیوں کی وجہ سے ولن سے ہیرو بن جاتا ہے جب ہم انصاف کے بنیادی اصولوں سے انحراف کرتے ہیں۔لگتا یہی ہے مذکورہ “بلیک میلنگ” ویڈیو ہی تمام فساد کی جڑ ہے،وہ ننگی اور گندی ویڈیو معزز عدالت کو دیکھنی چاہیے یا نہیں جسکے وجہ سے جج صاحب بادی النظر میں بلیک میل ہوئے یا اسکا فارینزک ہونا چاہیے یا نہیں اگرچہ جیورسٹ اور پاکستان بار اور سپریم کورٹ بار اس کے بارے میں بہتر بتا سکتے ہیں اورانہیں اس معاملے میں اصولی طورپر شرکت بھی کرنا چاہیے لیکن سوال یہ بھی ہے کہ یہ ملتانی ٹوپی کسنے کسکو کب پہنائی ہے اور ایسا جج یہاں کیسے پہنچا ہے جو ہماری طرح سر تا پا اخلاقی انحطاط کا مجسمہ تھا اس پر خلائی اداروں سے کوئی پوچھ گچھ ضرور ہونی چاہیے کہ جب یہ سب ہورہا تھا تب آپ لوگ کہاں تھے؟یہ سوالات ضرور ہیں اور جج صاحب کی کلئیرئنس اتنی آسانی سے کیسے ہوگئی تھی؟ عدالت عالیہ و عظمی کو یہ حکم بھی دینا چاہیے کہ ایسی تمام ویڈیوز اگر کہیں موجود ہیں تو بحق سرکار ضبط کی جائیں اور اگر کسی جج کے خلاف کوئی شکائت ہے تو وہ ویڈیو سپریم جوڈیشل کونسل میں 30 دن کے اندر جمع کروائی جائے تاکہ اس پر کاروائی ہوسکے۔ آپ ویڈیو کے زریعے ججوں کو مستقل انصاف کی فراہمی سے دور نہیں کرسکتے کیونکہ ججوں کی ذاتی زندگی پر اثرانداز ہونے والے واقعات 2007 میں بھی مغربی زرائع ابلاغ میں رپوٹ ہوئے تھے۔ مذکورہ اداروں کو بھی یہ حکم ہونا چاہیے کہ تمام اعلی عدالتوں کے ججوں کے خلاف اگر کوئی مواد ایسا ہے تو چیف جسٹس کو جمع کروایا جائے تاکہ وہ ادارہ جاتی نظر ثانی اور چھانٹی کرسکیں نہ کہ ان پر میڈیا ٹرائل ہو یا ویڈیو کے ذریعے مذکورہ جج سے مرضی کے کام کروائے جا سکیں ۔ ’’ہنی ٹریپ‘‘ کے ذریعے جاسوسی کے اداروں نے مغرب میں بڑا کام لیا ہے لیکن ہم اسے بھی درجہ دوم پہ لے آئے ہیں اور گلی محلے میں اسکا استعمال استعماری طاقتوں کی طرح کررہے ہیں۔ سیاستدانوں کے پیچھے ہنی ٹریپ کی بجائے پورا پورا شہد کا چھتہ ہی لگادیا ہے اور ججوں اور اعلی افسران کی گلی گلی کی کارروائی ان کو گلی گلی رسوائی کرنے کے لئے استعمال کی جارہی ہے۔ سب لائین میں ہیں نہ جانے کب ایک دفعہ بس “نہ“ کہیں اور نہ جانے کونسی ویڈیو کسی سے کیا کہہ دے؟بدترین سنسرشپ میں بھی میڈیا کے دوست خراج تحسین کے مستحق ہیں جنہوں نے بدترین مشکلات میں عوام کو قانون انصاف اورمشکل قانونی پیچیدگیوں کو آسان لفظوں اور پیرائےمیں سینئر صحافیوں اور جیورسٹ کے ذریعے اور انٹرویوزکے ذریعے ہم تک پہنچایا۔ہم بحیثیت قوم ان سب کے مشکور ہیں جوکام کے دوران نوکری سے گئے مگر انہوں نے سوشل میڈیاکے ذریعےاپنا پیشہ نہیں چھوڑا ،جو ان کا فرض ہے ۔ ‏ہمارے نظام اور مغرب کے نظام میں صرف اتنا فرق ہے کہ انہوں نے اصلاحات کو خوش آمدید کہا ہے اور ہم عدالتی اور قانونی اصلاحات سے کوسوں دور بھاگتے ہیں،اسی لئے ہم شفاف ٹرائل ،اسکے مندرجات اور انصاف کی مکمل فراہمی میں کمزور ہیں ، تب ہی تو مغرب ٹرائل کے لئے الطاف حسین براہمداغ بگٹی اور شریف فیملی کے افراد  کو پاکستان کے حوالے نہیں کرتا۔‏آخر میں بس اتنی ہی استدعا ہے کہ ’’انصاف ہوتا نظر آنا چاہیے‘‘انصاف کی پامالی اور انصاف کی راہ میں حائل تمام رکاوٹیں دور کی جانی چاہیے۔مانیٹرنگ جج مقرر کرنے کے بعد اس ٹرائل اور  اسکے فیصلے کی حفاظت کی ذمہ داری کا بوجھ بھی عزت ماب عدالت عظمی پر تھا۔ اگر پھر بھی کچھ غلط ہوا ہے تو یہ ریاست کے اداروں کی اور انصاف فراہم کرنے والے اداروں کی ناکامی ہے،ہم سب کچھ کرکے بھی متاثرہ شخص کو اس جگہ پر نہیں پہنچا سکتے جہاں وہ ٹرائل سے پہلے کھڑا تھا، خاص طور پر اگر وہ ایک عوامی نمائندہ بھی ہو ۔ سپریم کورٹ آف پاکستان اپنا اختیار استعمال کرتے ہوئے مکمل انصاف فراہم کرے۔ایسا انصاف جو ہوتا نظر آئے اور رہتی دنیا تک اسے یاد کیا جائے۔ اب معافی تلافی نہیں انصاف سے بات بننی ہے ، عوام افسردہ ہیں کیونکہ احتساب کا تو یہی حال ہوا کہ “ کھودا پہاڈ اور نکلا چوہا” وہ بھی مرا ہوا۔ بس چیف جسٹس متاثرہ فریق کے ساتھ انصاف کریں تو سو کریں لیکن عوام کی دلجوئی ضرور کریں کیونکہ انکے پاس انصاف کی امید کے سوا کچھ بھی نہیں،انکی امید اس بھونڈے انداز میں نہیں ٹوٹنی چاہیے۔

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں 

(بیرسٹر امجد ملک چئیرمین ایسوسی ایشن آف پاکستانی لائیرز برطانیہ ہیں اور سپریم کورٹ بار اور ہیومن رائیٹس کمیشن آف پاکستان کے تاحیات ممبر ہیں ۔)

مزید : بلاگ