کھیل میں تعصب، بھارت اپنے رویئے پر نظرثانی کرے

کھیل میں تعصب، بھارت اپنے رویئے پر نظرثانی کرے

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


ایک روزہ ورلڈ کپ کے میچوں اور گراؤنڈ سے باہر شائقین کے درمیان جو ہوا وہ کھیل کے معروف طریقوں کے منافی رہا اور اس کی تمام تر ذمہ داری بھارتی حکومت پر ہے، جس نے تعصب کی عینک چڑھا کر کھیل کو بھی ہندو مسلم مسئلہ بنا دیا ہے جیسے کبھی ہندو پانی اور مسلمان پانی تھا، پاکستان کی ٹیم صرف اِس لئے سیمی فائنل کے لئے کوالیفائی نہ کر سکی کہ بھارتی کرکٹ ٹیم نے انگلینڈ ٹیم سے جیتنے کی بجائے اس سے ہارنا منظور کر لیا،حالانکہ اس کے لئے یہی بڑی بات تھی کہ پاکستان بوجوہ لیگ میچ میں اس سے ہار چکا تھا، اس کے علاوہ آئی سی سی کے قواعد آڑے آئے اور پاکستان کی ٹیم محض رن ریٹ کی وجہ سے سیمی فائنل سے باہر ہو گئی،حالانکہ ٹیبل کے مطابق تیسری ٹیم انگلینڈ اور چوتھی نیوزی لینڈ کو لیگ میچوں میں شکست دے چکی تھی۔بہرحال یہ آئی سی سی کا مسئلہ ہے وہ جانے اور معترض سینئر کھلاڑی۔ نیوزی لینڈ کی ٹیم نے سیمی فائنل کھیلا اور بھارتی ٹیم سے مقابلہ ہوا،جو ٹیبل پر نمبر ون تھی۔ بظاہر ٹیم اور سابقہ کارکردگی کے لحاظ سے بھارتی ٹیم کو برتری حاصل تھی، تاہم کھیل تو کھیل ہے جو وقت پر اچھا کھیلے، فتح اُسی کو ملتی ہے، مقابلہ بڑا ہی دِل شکن اور حوصلہ افزا بھی تھا، نیوزی لینڈ کا سکور اتنا زیادہ نہیں تھا کہ بھارتی بلے بازوں کے لئے مشکل ہوتی،لیکن ان کی ابتدا ہی پریشان کن ہوئی اور تین اہم ترین کھلاڑی6رنز کے عوض آؤٹ ہو گئے اس کے باوجود بھارتی ٹیم کی طرف سے اچھی حکمت عملی کا مظاہرہ ہوا، جدیجا اور دھونی کی جوڑی میچ جیت سکتی تھی،لیکن نیوزی لینڈ کی بہتر باؤلنگ اور فیلڈنگ نے یہ ممکن نہ ہونے دیا۔یوں دلچسپ مقابلے کے بعد نیوزی لینڈ والے 18رنز سے جیت گئے۔ اس کے ساتھ ہی بھارتیوں کو ان کے تعصب کا جواب مل گیا اور اس ٹیم کی شکست پر دُنیا بھر میں (مقبوضہ کشمیر سمیت) ان سب نے خوشی منائی،جن کے ساتھ تعصب برتا جاتا ہے،اس صورتِ حال کے بعد خود بھارتی حکومت کو غور کرنا ہو گا کہ وہ اپنے متعصبانہ رویے پر غور کرے اور اسے ترک کرے،حکومتی رویے کے باعث دونوں ممالک کے درمیان مقابلے نہیں ہوئے۔ نتیجہ یہ کہ ایشیائی ٹیمیں باہر اور گوروں ہی میں سے کوئی ورلڈکپ کا حق دار ہو گا۔ بہتر ہے کہ کھیل کو کھیل رہنے دیں، سیاست اور تعصب سے گریز کریں۔

مزید :

رائے -اداریہ -