برنی سینڈرز اورامریکی سیا سی نظام کی حقیقت

برنی سینڈرز اورامریکی سیا سی نظام کی حقیقت
 برنی سینڈرز اورامریکی سیا سی نظام کی حقیقت

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

”امریکہ میں ایک فیصد سے بھی کم سرما یہ دارا تنی دولت رکھتے ہیں جتنی 90 فیصد عام امریکی بھی نہیں رکھتے۔ ”کل امریکی آمدنی کا 57فیصد حصہ صرف ایک فیصد طبقہ لے جا تا ہے“۔ ”وال اسٹریٹ، بڑے کاروبار، کارپوریٹ سیکٹرز، اور امریکن انٹرنیشنل گروپ امریکی کانگرس، امریکی ریاستوں کی قانون ساز اسمبلیوں، اور صدارتی امیدواروں پر اربوں ڈالرز کی سرمایہ کاری کرتے ہیں، تاکہ اپنے معاشی مفادات کا تحفظ کیا جا سکے۔

اس کے نتیجے میں وفاقی اور ریاستی حکومتی اور قانون ساز ادارے کارپوریٹ سیکٹر کے ہاتھوں کٹھ پتلی بن کر ان کے مفادات پورا کرنے والی مشینری بن جاتے ہیں، حتیٰ کہ ان کے مفادات کو پورا کرنے کے لئے اکثر اوقات قومی مفا دات کو بھی قربا ن کر دیا جاتا ہے“ ……”ایک طرف دولت اور وسائل کے ارتکاز میں زیادہ سے زیادہ اضافہ ہو رہا ہے تو دوسرے طرف 45ملین امریکی غربت کی زندگی بسر کر رہے ہیں“……”30ملین امریکی صحت کی انشورنس حاصل کرنے کے قابل نہیں“……”نسلی امتیاز سے اقلیتوں کے خلاف مزید تفریق پیدا ہو رہی ہے“……،”تعلیمی قرضوں میں سود کی زیادہ شرح کے با عث بہت سے ذہین طالب علم یو نیورسٹیوں میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے سے محروم ہیں۔“…… ”انتخابی مہم میں سرمایہ کا روں کی فنڈنگ سراسر کرپشن ہے“


امریکی سیاسی نظام کے حوالے سے ایسی سوچ کسی ایسے دانشور یا مفکر کی نہیں جو امریکی سرمایہ داری نظام کا نا قد ہو، بلکہ حقائق پر مبنی یہ الفاظ سینیٹر برنی سینڈرزکے ہیں جو ڈیمو کریٹک پا رٹی کے ان صدارتی امیدواروں میں شامل ہیں جو2016ء کی طرح 2020ء کے صدارتی انتخابات کے لئے بھی ڈیمو کریٹ پارٹی کے اندر پرائمریز میں حصہ لے ر ہے ہیں۔سینیٹر برنی سینڈرز امریکی ریا ست ورماؤنٹ کے سینیٹر ہیں، جبکہ ماضی میں امریکی ایوان نما ئندگان کے رکن بھی رہ چکے ہیں۔

ان کا شما ر شروع سے ہی ایسے سیا ستدان کے طور پر کیا جا تا ہے جو سیا ست میں کامیاب ہو نے کے با وجود امریکی سیا ست میں سرما ئے کے حد سے بڑھے ہو ئے کردار کا مخالف ہے۔ ڈ یمو کریٹک پا رٹی کی پرائمری انتخابی مہم کے دوران سینیٹر برنی سینڈرز امریکی سیا ست میں سرما ئے کے کردار، کا رپو ریٹ سیکٹر کی فنڈنگ اور اس کے بدلے امریکی حکومت و کانگرس سے مرا عات، وسائل و دولت کی غیر منصفانہ تقسیم پر بھر پو ر تنقید کر رہے ہیں۔

2016کی طرح اس مرتبہ بھی سینیٹر برنی سینڈرزنے اعلان کیا ہے کہ وہ بھی ڈیمو کریٹک پا رٹی کی طرف سے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کے لئے میدان میں اترنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو اس کے ساتھ ہی انہوں نے اعلان کیا کہ وہ Super PAC(کا رپوریٹ سیکٹر سے فنڈز حاصل کرنے والی تنظیم)سے کو ئی فنڈ نہیں لیں گے، بلکہ انتخابی مہم کے لئے وہ عا م اور متوسط طبقے کے امریکی شہریوں سے ہی فنڈزحاصل کریں گے۔


امریکی سیا ست میں سرما ئے کے کردار اور سیاست و معیشت پر اس کے انتہا ئی منفی اثرات پر بہت با ت کی جا تی ہے۔ اس حوالے سے خود امریکی صحا فیوں اور دانشوروں کی تحقیقا تی کتابیں بھی موجود ہیں۔ہالی وڈ کے کئی ڈائریکٹرز درجنوں کی تعداد میں ایسی فلمیں بنا چکے ہیں جن میں امریکی سیا ست میں سرمائے کے انتہا ئی منفی کردار کو بھرپور طریقے سے دکھایا گیا ہے۔ امریکہ کے صدارتی انتخابات دراصل گھوڑوں کی ایسی ریس ہے جس میں مختلف سرمایہ دار اور کارپوریٹ سیکٹرز اپنی اپنی پسند کے گھوڑے پر کروڑوں کی سرمایہ کاری کرتے ہیں اور پھر اپنے گھوڑے کی جیت کی صورت میں اس سے اربوں بنا تے ہیں۔

خود امریکی اخبارات، تحقیقاتی رپورٹس اور انتخابی اداروں کی شائع ہونے والی رپورٹس کے مطابق 2016ء کے امریکی صدارتی انتخابات پر ڈیموکریٹس، ری پبلکن پا رٹی، پی اے سی، کا رپو ریٹ سیکٹرز اور بڑے کاروبار کی جانب سے جو رقم خرچ کی گئی تھی،اس کا تخمینہ10ارب ڈالرز لگایا گیا۔ امریکی سیا ست میں سرما ئے کا کردار اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ اب امریکی میڈیا کے ایسے حصے کیلئے بھی اسے چھپا نا ممکن نہیں جو خود کا رپو ریٹ سیکٹر کے ذریعے کنٹرول کیا جا تا ہے۔اس کی ایک مثال واشنگٹن پو سٹ میں چھپنے والے آر ٹیکل …… fundraising shows power tilting to groups backed by wealthy elite……کی ہے۔اس میں دعوی ٰکیا گیا ہے کہ امریکی سیا ست میں سرما ئے کا کردار تو کئی عشروں سے ہے مگر اب تو وہ تمام حدیں عبور کرتا جا رہاہے۔


ری پبلکن پا رٹی تو واضح طور امریکہ کے بڑے سرمایہ داروں کے مفادات کی ترجمان جما عت رہی ہے۔دوسری طرف ڈیمو کریٹک پا رٹی جس کا دعویٰ ہے کہ وہ عام امریکیوں کے حقوق کی نگہبان جماعت ہے، مگر سرما یہ داروں سے سرمایہ کے حصول کے معا ملے میں اس جماعت کا حا ل بھی ریپبلکن پا رٹی جیسا ہی ہے۔ ڈیمو کریٹک پا رٹی (بارک اوباما)کے آٹھ سالہ دور(2008ء تا2016ء) کے دوران امریکہ میں سماجی عدم مساوات میں اضافہ ہوا اور بارک اوباما کے اقتدار کے پہلے سال یعنی 2009ء سے2016 ء تک آمدنی میں ہونے والا 95فیصد اضافہ صرف ایک فیصد امیر طبقے تک ہی پہنچ پایا۔

وارن بفٹ، جارج سورس اور ٹام سٹئیرجیسے مشہور ارب پتی امریکی سرمایہ دار ڈیمو کریٹ پارٹی پر ہی سرمایہ کاری کرتے ہیں، جبکہ میڈیا کمپنی کے ارب پتی ہائیم سبان، سیلی کون ویلی، ہالی وڈ کے ارب پتی افراد اور وال اسٹریٹ کے بڑے بڑے سرما یہ دار بھی ڈیموکریٹ پا رٹی کو بھرپور فنڈز دیتے ہیں، مگرسینیٹر برنی سینڈرزنے کا رپو ریٹ سیکٹر سے فنڈ نہ لینے کا اعلان کیا ہے وہ عام امریکیوں سے ہی فنڈ لے رہے ہیں۔ عام امریکی خاص طور پر نوجوان دل کھول کر سینیٹر برنی سینڈرزکو فنڈ دے رہے ہیں، مگر ظاہر ہے امریکی صدارتی انتخابات جیسے دولت کے کھیل میں چند سو ملین ڈالرز کی رقم کی حیثیت اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر بھی نہیں ہے۔

سینیٹر برنی سینڈرزکے نظریات کے باعث امریکی کارپوریٹ سیکٹر کبھی نہیں چا ہے گا کہ سینیٹر برنی سینڈرز جیسا شخص امریکی صدر بن جا ئے، مگر اس کے با وجود ڈیمو کریٹک پارٹی کی پرائمری کے امیدوار کے طور پر بھی سینیٹر برنی سینڈرزنے امریکی سیا ست کے حقائق کو جس طرح بے نقاب کیا وہ قابل ستا ئش ہے۔سینیٹر برنی سینڈرزکے نظریا ت دنیا بھر میں موجود ایسے دانشوروں کے لئے بھی آنکھیں کھولنے کا باعث ہونے چاہیں جو دن رات امریکی سیا ست اور سرما یہ داری نظام کے گن گاتے ہیں۔

امریکی نظام کے خلاف جو بھی دانشور آواز بلند کر تا ہے،اسے نا کام یا حاسد شخص کے طور پر پیش کیا جا تا ہے، مگر سینیٹر برنی سینڈرزتو امریکی سیا ست کا ایک کا میا ب شخص ہے جو سینیٹر بھی بنا اور ایوان نمائندگان کارکن بھی۔ ایسے کامیاب امریکی سیاست دان کی امریکی نظام کے حوالے سے سوچ کو مسترد کرنا آسان نہیں ہو گا۔برنی سینڈرز، ڈیمو کر یٹ پا رٹی کے پرائمری انتخابات میں کامیاب ہو پائیں گے یا نہیں،مگر انہوں نے 2016ء کی طرح اس مرتبہ بھی،جس طرح امریکی سیاست میں سرمایے کی کردار کو بے نقاب کیا ہے یہ بھی ان کی بہت بڑی کامیابی ہے۔

مزید :

رائے -کالم -