امریکہ شمالی کوریا مذاکرات کا مستقبل

امریکہ شمالی کوریا مذاکرات کا مستقبل
 امریکہ شمالی کوریا مذاکرات کا مستقبل

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

امریکہ اپنی عالمی چودھراھت قائم رکھنے کے لئے ہاتھ پاؤں مار رہا ہے جنگ عظیم دوم 1939-45ء کے بعد امریکہ عالمی منظر پر ابھرا اور پھر 90ء کی دہائی تک ابھرتا ہی چلا گیا 90ء میں سوویت یونین کے انہدام کے بعد اس کی بزرگی اور برتری لاریب ہو گئی۔ اشتراکیت کی شکست کے بعد اس نے کمیونزم اور سوشلزم کے نشانات مٹانے شروع کئے اس حوالے سے کیوبا اور شمالی کوریا اہم ہیں۔ فیڈل کاسترو کے انتقال کے بعد کیوبا کی وہ حیثیت نہ رہی جسے امریکہ مٹانا چاہتا ہو، لیکن شمالی کوریا بدستور امریکہ کی آنکھ میں کھٹکتا ہے امریکہ کے ساتھ (1950-53ء)میں جنگ کوریا کے بعد سے شمالی کوریا کے تعلقات انتہائی کشیدہ رہے ہیں گزشتہ دنوں امریکی صدر اور شمالی کوریا کے سربراہ کے درمیان ایک ملاقات ہوئی جس کی گونج ابھی تک سُنی جا رہی ہے۔


امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور شمالی کوریائی لیڈر کم جونگ ان کے درمیان ہونے والی حالیہ تاریخی ملاقات کے بعد عالمی مبصرین یہ توقع کر رہے تھے کہ دونوں ممالک کے درمیان 66 سال سے جاری کشمکش اور دشمنی میں کمی کی سبیل پیدا ہو گی شمالی اور جنوبی کوریا کے درمیان واقع ڈی ملٹرائیزڈزون (DMZ) میں دونوں رہنماؤں کی ہاتھ ملاتے ہوئے تصویر نے عالمی میڈیا پر ہلچل مچائے رکھی۔


اس سے پہلے دونوں لیڈروں کے درمیان 27-28 فروری 2019ء کو ویتنام کے شہر ہنوئی میں مذاکرات ہوئے تھے یہ دوسری سربراہ کانفرنس تھی، جبکہ اس سے پہلے جون 2018ء میں دونوں سربراھان سنگاپور میں مل چکے تھے فروری 2019ء میں ہونے والی یہ ملاقات نتیجہ خیز ثابت نہ ہو سکی کیونکہ شمالی کوریا کا مطالبہ تھا کہ امریکہ پہلے اقتصادی پابندیاں ختم کرے، جبکہ امریکہ کا مطالبہ تھا کہ شمالی کوریا پہلے ایٹمی میزائل ٹیسٹ بند کرے۔ شمالی کوریا کے وزیر خارجہ ری ینگ ہو کا کہنا ہے کہ ہم نے 2016ء اور 2017ء کے دوران اقوام متحدہ کی طرف سے عاید کردہ پانچ پابندیوں کو جزوی طور پر اٹھانے یا نرم کرنے کا مطالبہ کیا تھا جسے امریکہ نے نہیں مانا۔

اس طرح یہ سربراہ کانفرنس کسی نتیجہ خیز اختتام تک پہنچے بغیر ہی ملتوی ہوگئی تھی۔ اس کے بعد حالیہ ملاقات کو بھی مبصرین اہمیت دے رہے ہیں۔ 2018ء میں پہلی سربراہ کانفرنس کے بعد ستمبر 2018ء میں ”نیو یارک ٹائمز“ میں رپورٹ کیاگیا کہ شمالی کوریا اپنے ایٹمی پروگرام کو بڑی سرعت لیکن خاموشی کے ساتھ آگے بڑھا رہا ہے حتیٰ کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ڈی نیوکلیرائزیشن، یعنی ایٹمی ہتھیاروں سے پاک کرنے کی کاوشیں درست سمت میں آگے بڑھ رہی ہیں پھر امریکی صدر نے اپنے دوسرے سٹیٹ آف دی یونین خطاب میں اعلان کیا کہ 27-28 فروری 2018ء میں امریکہ۔

شمالی کوریا سربراہ کانفرنس ویتنام کے شہر ہنوئی میں ہو گی، جس میں خطے کو ایٹمی ہتھیاروں سے پاک کرنے کے حوالے سے بات چیت کے جائے گی۔ اس کانفرنس میں شمالی کوریا نے اپنے نیو کلیئر پروگرام کے حوالے سے امریکی موقف پر لچک دکھائی اور کہا کہ وہ ایٹمی ہتھیاروں کے پھیلاؤ کے پروگرام کو بند کر دے گا اس حوالے سے شمالی کوریا نے ایک ایٹمی میزائل سائٹ کو بند / تباہ کرنے کا بھی اعلان کیا یہی وجہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ شمالی کوریا سے اب کسی قسم کا ایٹمی خطرہ نہیں ہے۔

نیو یارک ٹایمز نے ٹرمپ کے اس بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ شمالی کوریا بڑا دھوکہ دے رہا ہے اس نے ایک طرف ایک میزائل سائٹ تباہ کرنے کا اعلان کیا ہے، جبکہ دوسری طرف وہ 16 نئی سائیٹس تعمیر کر رھا ہے اور امریکہ کے لئے ایسے ہی ایک چیلنج ہے جیسے 66 سال پہلے تھا۔


امریکہ مشرق وسطیٰ میں گریٹ وار پلان ترتیب دے رہا ہے اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر ایک نئے جنگی پلان پر عمل درآمد کی تیاریاں کر رہا ہے۔ ایران کے ساتھ امریکی چپقلش اور بڑھتی ہوئی مخالفت سموک سکرین ہے اصل ہدف کچھ اور ہے، کیونکہ خطے میں امریکی مفادات، ایران کے ساتھ جنگ سے وابستہ نہیں ہیں امریکہ افغانستان سے نکلنے کے لئے بھی مذاکرات کر رہا ہے، لیکن وہ نکلنے کے لئے تیار نہیں ہے دوسری طرف شمالی کوریا سے مذاکرات بھی ایسے ہی ہیں چین کے ساتھ تجارتی جنگ کے حوالے سے بات چیت بھی ایسے ہی نظر آرہی ہے ایسا لگتا ہے کہ ٹرمپ 2020ء الیکشن کی تیاری کر رہے ہیں۔

امریکی معیشت جنگی بنیادوں پر استوار ہے گزری سات آٹھ دھائیوں کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ امریکہ جنگوں کے ذریعے تعمیر و ترقی کرتا ہے اس کی معیشت اس نقطے پر استوار ہے اور اس کی خارجہ پالیسی بھی ایسی ہی ہے۔ امریکہ نے جنگ ِ عظیم کے دوران جاپانی شہروں،ہیروشیما اور ناگا ساکی پر ایٹم بم گرا کر ہولناک تباہی مچائی تھی، دُنیا نے ایسی تباہی پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی امریکی ایٹم بم نے جنگ کے خاتمے کی راہ ہموار کی اور اس جنگ کے نتیجے میں برطانیہ، عالمی قیادت کے منصب سے ریٹائر ہوا اور امریکہ توانا طاقت کے طور پر عالمی منظر پر اُبھرا۔

اس نے سوویت یونین کی شکل میں ایک دشمن تخلیق کیا اشتراکیت کے خلاف اقوام مغرب کو لائن اپ کیا اور خود قائد بن بیٹھا اسطرح اشتراکیت اور سرمایہ داری کے درمیان ایک نئی طرز کی سرد جنگ (COLD WAR)شروع ہوئی۔

امریکہ نے اشتراکیت کے خلاف سرد جنگ کی آخری لڑائی افغانستان میں لڑی۔کوریائی جنگ (1950-53ء)امریکہ اور شمالی کوریا کے درمیان ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے اس جنگ نے بھی امریکی ہیبت اور عظمت کو تار تار کیا تھا کم خاندان کی تیسری نسل کا شمالی کوریا پر حکمران ہونا اور امریکی بالادستی کو چیلنج کرنا امریکہ کے لئے قابل قبول نہیں ہے، لیکن امریکہ کچھ کر بھی نہیں پا رہا ہے۔ شمالی کوریا آگے بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے۔


نارتھ کوریا ڈیمو کریٹک پیپلز ریپبلک کوریا (DPRK)اور امریکہ کے درمیان 6386 میل 10277) کلو میٹر / 5549 ناٹیکل میل)کا فاصلہ ہے۔ کوریائی جنگ جون 1950ء سے لے کر جولائی 1953ء تک جاری رہی۔ اس جنگ میں 25 لاکھ انسانوں نے اپنی جان گنوائی۔ جون 1950ء میں کوریائی جنگ اس وقت شروع ہوئی جب شمالی کوریا نے سوویت یونین کے کہنے اور اسکی طرف سے جنگی امداد ملنے پر جنوبی کوریا پر دھاوا بول دیا۔ اقوام متحدہ نے امریکہ کی مدد سے اس جنگ میں جنوبی کوریا کا ساتھ دینا شروع کیا۔ اقوام متحدہ کی اپیل پر 40 سے زائد ممالک نے ساؤتھ کوریا کی مدد کے لئے سپاہی، اسلحہ اور دیگر سامان جنگ لڑنے کے لئے مہیا کیا۔

امریکی جنرل میکا رتھر کے خیال میں امریکی فوجی شمالی کوریا کی حملہ آور افواج کو واپس دھکیلتے ہوئے جلد ہی فتح یاب ہوں گے، لیکن جب ان کا سامناشمالی کوریا کی مسلح افواج سے ہوا تو امریکیوں کا فوجی برتری کا خواب تتر بتر ہو گیا۔ جنگ میں اطراف کے 10 لاکھ سے زائد فوجی ہلاک ہوئے۔ پھر جنگ بندی کے لئے بات چیت شروع ہوئی اور جولائی 1953ء میں جنگ ختم ہوئی شمالی اور جنوبی کوریا کے درمیان ایک ڈی ملٹرائیزڈ زون قائم کر دیا گیا جواب تک قائم ہے عملاًیہ زون دونوں ممالک کے درمیان سرحد مانا جاتا ہے۔


جنگ عظیم دوم (1939-45ء)میں جاپانی سلطنت کا خاتمہ ہوا اور اس کے مقبوضہ علاقے اس کے ھاتھوں سے جاتے رہے کوریا، جاپان کے ساتھ 1910ء سے جڑا ہوا تھا جبکہ مانچوریا اور سابقہ مغربی مقبوضات پر جاپان نے 1941/42ء کے دوران قبضہ کیا تھا۔ ان علاقوں پر حکمرانی کے دعویدار چین، جاپان، سوویت یونین اور امریکہ میں پناہ لئے ہوئے تھے ان تمام امیدواران کو فکری طور پر دوگروپوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے پہلا گروپ مارکسٹ انقلابی تھے جو چین کی گوریلا افواج کے ساتھ مل کر مانچوریا میں جاپانیوں کے خلاف لڑے تھے انہی گوریلا لیڈروں میں ایک نوجوان کم ٹوسنگ تھا، جس نے روس میں تربیت حاصل کی تھی اور پھر اسے روسی فوج میں میجر بنا دیا گیا تھا دوسرا گروہ کم قوم پرست نہیں تھا لیکن وہ جاپان، یورپ اور امریکہ سائنس، ٹکنالوجی، تعلیم سے متاثر تھا قوم پرستوں کا یہ گروہ کئی متحارب گروپوں میں تقسیم تھا انہی گروپوں میں ایک لیڈر سنگ مین رہی تھا، جس نے امریکہ میں تعلیم حاصل کی تھی اور کبھی جلاوطن کورین صوبائی حکومت کا صدر بھی رہا تھا۔

کم ٹوسنگ شمالی کوریا پر حکمران بنا اور اس کے بعد ان کا بیٹا اور اب ان کا پوتا شمالی کوریا پر حکمران ہے گویا جنگ کوریا کی سوچ، امریکیوں کے خلاف نفرت نسل در نسل چلتی ہوئی 66 سال میں آج 2019ء میں بھی قائم دائم ہے 90ء کی دہائی میں سوویت یونین کے خاتمے کے بعد شمالی کوریا کو عظیم ریاست کی سرپرستی سے ہاتھ دھونا پڑے تھے، لیکن آج انہیں چین جیسی عظیم مضبوط اور موثر طاقت کی چھتری میسر آگئی ہے شمالی کوریا آج بھی امریکی بالادستی کو چیلنج کر رہا ہے اور اس کے خطے میں عزائم کی راہ میں رکاوٹ ہے۔

سربراہ کانفرنسوں کا ڈرامہ امریکی الیکشن 2020 ء تک جاری رہے گا لیکن موثر نتائج ظاہر ہونے کی توقع نہیں ہے۔

مزید :

رائے -کالم -