ججوں کیخلاف ریفرنسز پر حکومت کے جواب الجواب کا جائزہ لیا گیا ، وکلا کا احتجاج یوم سیاہ منایا

  ججوں کیخلاف ریفرنسز پر حکومت کے جواب الجواب کا جائزہ لیا گیا ، وکلا کا ...

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) سپریم جوڈیشل کونسل میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس کے کے آغا کے خلاف ریفرنس کی سماعت کےلئے تیسرا اجلاس ہوا جو ایک گھنٹے سے زائد جاری رہنے کے بعد ختم ہو گیا ۔ جمعہ کو سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور سندھ ہائی کورٹ کے جج جسٹس کے کے آغا کے خلاف حکومتی ریفرنسز پر سماعت کےلئے سپریم جوڈیشل کونسل کا تیسرا اجلاس ہوا، بند کمرہ اجلاس کی صدارت چیئرمین سپریم جوڈیشل کونسل چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کی ۔ چیف جسٹس کے ساتھ جج جسٹس گلزار احمد ، جسٹس شیخ عظمت سعید، پشاور ہائیکورٹ سے جسٹس وقار احمد اور سندھ ہائیکورٹ سے جسٹس احمد علی شیخ بھی اجلاس میں شریک ہوئے جبکہ اٹارنی جنرل پاکستان انور منصور خان اور رجسٹرار سپریم کورٹ ارباب عارف رحیم نے بھی شرکت کی ۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق اجلاس میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس کے کے آغا کے جواب پر حکومت کے جواب الجواب کا جائزہ لیا گیا ، جواب الجواب اٹارنی جنرل آف پاکستان انور منصور خان نے سپریم کورٹ میں پیش کیا،حکومتی جواب الجواب کا جائزہ لینے کے بعد اجلاس کی کارروائی ختم کر دی گئی ۔ اٹارنی جنرل انور منصور خان نے ریفرنس کی سماعت سے قبل میڈیا سے غیر رسمی بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ سپریم جوڈیشل کونسل نے مجھے بات کرنے سے روک رکھا ہے، میری ذاتی رائے میں فیصلے تک ریفرنس پر بات کرنا مناسب نہیں ۔

سپریم جوڈیشل کونسل

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر ) سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل کی سماعت سے قبل وکلا ء نے احتجاج کرتے ہوئے یوم سیاہ منایا ۔ سپریم کورٹ میں وکلا کی جانب سے احتجاجی بینرز بھی ;200;ویزاں کیے گئے ۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس پر بلوچستان بار کونسل، بلوچستان ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن و دیگر وکلا تنظیموں نے عدالتی بائیکاٹ کیا اور یوم سیاہ منا یا ۔ پاکستان بار کونسل نے کہا ہے کہ وکلاء عدلیہ کی آزادی کےلئے متحد ہیں ، آزادی تک جدو جہد جاری رکھیں گے دوسری طرف میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے پاکستان بار کونسل کے وائس چیئر مین امجد شاہ نے کہاکہ پشاور میں وکلاء کنونشن (آج)ہفتہ کو ہوگا ،عدلیہ کی آزادی کو متاثر کرنے والے ایجنڈے کی حوصلہ شکنی کرنی ہوگی،امید ہے سپریم جو ڈیشل کونسل ججز کے خلاف ریفرنسز خار ج کر دے گی،ہم نرم لہجے میں درخواست کرتے ہیں ریفرنس واپس لئے جائیں ،اسی میں ریفرنس بھیجنے والوں اور بنانے والوں کی عزت ہے، اگر ہماری عزت پر ہاتھ ڈالا گیا تو کوئی ہ میں روک نہیں سکے گا ۔ انہوں نے کہاکہ وکلاء کی تمام قیادت اس وقت سپریم کورٹ میں موجود ہے اور کسی قسم کے کوئی اختلافات نہیں ہیں ۔ سینئر وکیل حامد خان نے کہاکہ میں وکلاء قیادت کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں ،ہ میں خوشی ہے کہ وکلاء نے عدلیہ کی آزادی کےلئے آواز اٹھائی ۔ حامد خان نے کہاکہ وکلاء عدلیہ کی آزادی کےلئے متحد ہیں ، وکیل عدلیہ کی آزادی تک جدوجہد جاری رکھیں گے ۔ سینئر وکیل حامد خان نے کہاکہ تحریک کو کامیاب کرنے کے لئے ہر ممکن کوشش کریں گے ۔ انہوں نے کہاکہ ہم امید کرتے ہیں کہ سپریم جوڈیشل کونسل ریفرنسز خارج کرےگی ۔ حامد خان نے کہاکہ عدلیہ کی آزادی کو متاثر کرنے والے ایجنڈے کی حوصلہ شکنی کرنی ہوگی ۔ سینئر وکیل یاسین آزاد نے کہاکہ ستر سال سے طاقت کے بل بوتے پر سویلین آزادی کو سلب کیا گیا، یہ ریفرنسز بھی طاقت کے بل بوتے پر بنائے گئے ۔ سابق صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن علی احمد کرد نے کہاکہ جھلسادینے والی گرمی میں ہم عدلیہ کی آزادی کے لئے کھڑے ہیں ، ہ میں مجبور نہ کریں ہم نے فیصلہ کر لیا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ہم نے کہا کہ ریفرنس بددیانتی پر مبنی ہے، صدر مملکت سے زیادہ ہماری بات میں وزن ہے ۔ انہوں نے کہاکہ (آج)ہفتہ کو پورے ملک میں احتجاج کیا جائےگا ۔ انہوں نے کہاکہ ہم سپریم کورٹ کے ججز کے لئے لڑ رہے ہیں ، آج قاضی فائز عیسیٰ ہیں تو کل کسی اور جج کی باری آئےگی ۔ انہوں نے کہاکہ جب اپنی مرضی کے ججز لگائیں گے تو کوئی سپریم کورٹ نہیں آئےگا ۔ انہوں نے کہاکہ وکلاء عدلیہ کی آزادی کے لئے ایک ہیں ، ہم نرم لہجے میں درخواست کرتے ہیں ریفرنس واپس لئے جائیں ۔ انہوں نے کہاکہ اسی میں ریفرنس بھیجنے والوں اور بنانے والوں کی عزت ہے، اگر ہماری عزت پر ہاتھ ڈالا گیا تو کوئی ہ میں روک نہیں سکے گا ۔

یوم سیاہ

مزید :

صفحہ اول -