مسائل کے حل کیلئے کراچی کے لوگ آگے بڑھیں ،نثار میمن

  مسائل کے حل کیلئے کراچی کے لوگ آگے بڑھیں ،نثار میمن

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

کراچی (اسٹاف رپورٹر) روشنیوں کے شہر اور عروس البلاد کے طور پر ترقی کے لئے، اور پاکستان کے سب سے بڑے شہر کے حیثیت سے، کراچی کے مسائل کے حل کے لئے ;79;wnership یعنی شہر کو اپنا سمجھنے کی ضرورت ہے ۔ ان خیالات کا اظہار کراچی میں پیدا ہوئے اورتعلیم حاصل کرنے والے سابق وفاقی وزیر نثار میمن نے کیا ، جو ;87;ater ;69;nvironment ;70;orum کے چیئرمین ہیں ۔ انہوں نے پاکستان سینیٹ میں چھ سال تک خدمات انجام دیں ۔ نثار میمن نے ان خیالات کا اظہار ، سوساءٹی فار گلوبل ماڈریشن(;837177;) کے زیر اہتمام منعقدہ ایک خطاب میں کیا جس کا عنوان تھا ’’کیا کراچی کسی کا ہے;238;‘‘ اس خطاب کا انعقادسی ایم سی کراچی کے دفتر میں ہوا ۔ انہوں نے کہا کہ یہ دنیا کاساتواں بڑا شہر ہے، جس کو کئی برسوں سے یونہی چھوڑ دیا گیا ہے، مگر یہ بات حیرت انگیز ہے کہ اس کی 2 ملین سے زائد آبادی نہ صرف قائم ہے بلکہ اس میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کراچی پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہے اور آزادی کے بعد1960 ء تک پاکستان کا دارالحکومت رہا ہے، کراچی پاکستان کا تجارتی اور صنعتی دارالحکومت ہے، لیکن اس کے مسائل بہت بڑھ گئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کو چلانا ایک ڈراءونا خواب بن گیا، کیونکہ یہاں سیاسی محاذ آرائی ہے ، اسی وجہ سے نہ تو شہری حکومت اور نہ ہی صوبائی حکومت ا س شہر کو اپنانے کے لئے تیار ہیں ۔ نثار میمن نے کہا:’’ آپ اور رمیرے جیسے لوگ جو اس شہر سے فائدہ اٹھا چکے ہیں ، لیکن ہم نے اپنا قرض ادا نہیں کیا،اور وہ نوجوان جنہیں اس شہر کو اپنانا چاہئے اور اس کے لئے کھڑا ہونا چاہئے، وہ اسے اپنا نہیں رہے ۔ ہمارے پاس پانی کے وسائل ہیں لیکن بڑھتی ہوئی آبادی کے مطابق منصوبہ بندی نہیں کی گئی ، اسی طرح پبلک ٹرانسپورٹ کا بھی مسئلہ ہے ۔ کراچی کے مسائل اور شہر کے مستقبل کے حوالے سے نثار میمن نے کہا کہ صورتحال بہت غیر معمولی ہو گئی ہے، کیونکہ شہر بٹا ہوا ہے اس کے مختلف حصے بہت سے محکموں کی ملکیت ہیں اور شہر کا انتظام مرکزی نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کراچی شہر کے انتظام کے لئے اسے پانچ اضلاع میں تقسیم کیا گیا ہے، اس کے علاوہ ڈی ایچ اے، 6 کنٹونمنٹس، کے ڈی اے، ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی، لیاری ڈیولپمنٹ اتھارٹی، پاکستان بحریہ، گڈاپ، بن قاسم، وغیرہ کے علاوہ کچی آبادیاں بھی شامل ہے ۔ انہوں نے کہا :’’اندرونِ سندھ سے بہت سے لوگ اس شہر میں حکومت کرنے آتے ہیں لیکن ان میں اس شہر کے مسائل کی سمجھ بوجھ نہیں ہوتی، ان میں زیادہ تر کا تعلق نواب شاہ، خیرپور، لاڑکانہ یہاں تک کہ لاہور اور اسلام آباد سے ہوتا ہے ۔ ‘‘ ایک سوال کے جواب میں نثار میمن نے کہا کہ چونکہ مسائل بہت زیادہ ہیں اس لئے لوگوں کو منظم ہونا چاہئے اور باہر آنا چاہئے، انہوں نے کہا کہ حالات کو تبدیل کرنا لازمی ہے کیونکہ اس طرح کام نہیں چل سکتا ۔