شانگلہ میں کول مائن کا بھوک ہڑتالی کیمپ کا میاب مذاکرات کے بعد ختم

شانگلہ میں کول مائن کا بھوک ہڑتالی کیمپ کا میاب مذاکرات کے بعد ختم

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


لپوری (ڈسٹرکٹ رپورٹر) شانگلہ کول مائن ویلفیئر ایسوسی ایشن کا بھوک ہڑتالی کیمپ دوسری روز پی ٹی ائی رہنماؤں کے ساتھ مذاکرات کے بعد ختم۔ ایسوسی ایشن کے نو نکات پر عملی اقدامات اٹھائے جائیں گے۔وقار خان و لیاقت علی یوسفزئی۔دوسرے روزبھوک ہڑتال کے بعد بیشترہڑتالیوں کے حالات غیر ہوگئے تھے۔ہسپتال منتقل۔بھوک ہڑتالی کیمپ میں اظہار یکجہتی کیلئے مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کا کیمپ آمد۔ہر فورم پر ساتھ دینے کی یقین دہانی۔کوئلہ کان مزدوروں کے حقوق کیلئے ہر فورم پر آواز اٹھانے کاعزم۔ مطالبات کی منظوری اور کول مائنز ایکٹ کی منظوری کیلئے پی ٹی ائی رہنماؤں اور صوبائی حکومت کو دو ماہ کی ڈیڈ لائن۔شانگلہ میں کوئلہ کان مزدوروں کی حقوق کیلئے کام کرنے والی کول مائن ویلفیئر ایسوسی ایشن کا دوسرے روز بھی شانگلہ پریس کلب الپوری کے سامنے بھوک ہڑتالی کیمپ جاری رہا تاہم جمعہ کے دوپہر کے بعد پی ٹی ائی کے رہنماء و سابق امیدوار قومی اسمبلی وقار احمد خان و شوکت یوسفزئی کے بھائی لیاقت یوسفزئی نے ہڑتالی کیمپ آکر ان کے ساتھ مذاکرات کئے اور یقین دہانی کرادی کہ جتنی جلد ممکن ہوسکے ان نکات پر صوبائی اسمبلی کے فلور پر بل پاس کیا جائیگا جبکہ لیبر قانون جلد منظور ہوگا۔ ہڑتالی کیمپ میں حکمراں جماعت کے رہنماؤں کے علاوہ مسلم لیگ کے رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر عباد اللہ، ضلع ناظم شانگلہ نیاز احمد خان، عوامی نیشنل پارٹی کے حاجی سدید الرحمان، متوکل خان ایڈووکیٹ، قومی وطن پارٹی شانگلہ کے ارگنائزر شاہ سعود خان ایڈووکیٹ،سماجی کارکن عدالت خان، ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر شانگلہ رسول شاہ، ڈی ایس پی امجد علی،اسسٹنٹ کمشنر الپوری فدا الکریم سمیت مختلف سماجی وسول سوسائیٹی کے نمائندوں نے کثیر تعداد میں کیمپ آکر ان کے ساتھ بیٹھے رہے۔دو دن سے بھوک ہڑتالی کیمپ میں بیٹھے ہوئے کول مائن ویلفیئر ایسوسی ایشن شانگلہ کے عہدیداران کا کہنا تھا کہ کسی بھی صورت مزدوروں کی مزید استحصال نہیں ہونے دیں گے،مختلف ادوار میں حکومتوں نے کول مائنز کے مزدوروں کے حقوق پر سیاست کی اور پس پردہ ان کی بیخ کنی بھی کی گئی، کوئلے کے مزدور ہزار وں فٹ زیر زمین سے کوئلے نکال کر ملک کی معیشت بہتر بنانے سمیت رزق حلال کما رہے ہیں جبکہ ان کی حقوق کیلئے کوئی واضح اور مثبت اقدامات نظر نہیں آرہے، ائے روز نئے نئے حادثات ہوکرمزدور جان بحق ہوتے ہیں جبکہ بعض جسمانی طور پر خراب ہوکر مزدوری یا کوئی کاروبار کرنے کا اہل نہیں رہتے، بھوک ہڑتالی کیمپ میں شرکاء گزشتہ دودن سے فاقہ کر رہے ہیں جس کی وجہ سے ان کی جسمانی حالت غیر ہوگئی ہے،حقوق وتحفظ مزدور کوئلہ کان شانگلہ کیلئے انتہائی اقدام اٹھائیں گے۔کوئلہ کان میں جان بحق مزدوروں کیلئے یکساں معاوضہ مقرر کیا جائے،لواحقین،یتیموں،بیواوں کو ماہانہ پندرہ ہزار روپے مقرر کیا جائے،EOBIکا کارڈ بنانا ٹھیکدار پرلازمی کریں،ورکرز ویلفیئر بورڈ انسپکٹرآف مائنز اور کرپٹ مائن مالکان،ٹھیکداران کے خلاف کارروائی کی جائے۔ لیبر کالونیز میں کول مائنز مزدوروں کو گھر الاٹ کیا جائے،انسپکٹر مائنز جدید مشینری کے ذریعے مائن کا معائینہ یقینی بنائے،خطرناک مائن کو بند کئے جائیں،سابق گورنربلوچستان اویس احمد غنی نے جو فوکس ورکرز گرائمر سکول شانگلہ میں منظور کرایا تھا ان کو عملی جامہ پہنایا جائے۔کول مائنز کے مزدوروں کے بچوں کیلئے میڈیکل وانجینئرکالجوں میں کوٹہ مقررکیا جائے۔معاوضہ کا طریقہ کار سہل بنایا جائے،ILOکے قوانین پر مکمل عمل کیا جائے،کوئلہ مائن مزدوروں کو مستقل مزدور تصور کیا جائے،کوئلہ کان میں معذورافراد کیلئے بیت المال اور زکواۃ سے مالی معاونت کی جائے،کول مائنز میں حفاظتی اقدامات کو یقینی بنایا جائے،ملکی اور بین الاقوامی قوانین کے تحت کوئلہ کان مزدوروں کو باقاعدہ طور پر رجسٹرڈ کیا جائے۔۔