’یہ جرم معاف نہیں کیا جاسکتا‘ وہ پاکستانی جس نے لڑکی سے صلح کرلی لیکن چیف جسٹس نے پھر بھی معافی دینے سے انکار کردیا، سخت سزا دے دی

’یہ جرم معاف نہیں کیا جاسکتا‘ وہ پاکستانی جس نے لڑکی سے صلح کرلی لیکن چیف ...
’یہ جرم معاف نہیں کیا جاسکتا‘ وہ پاکستانی جس نے لڑکی سے صلح کرلی لیکن چیف جسٹس نے پھر بھی معافی دینے سے انکار کردیا، سخت سزا دے دی

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) سپریم کورٹ آف پاکستان نے گزشتہ روز ایک تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے متاثرہ لڑکی کی معافی کے باوجود تیزاب گردی کے مجرم کو سزا سنا دی۔ ڈیلی ڈان کے مطابق جاوید اقبال نامی مجرم نے ایک لڑکی پر تیزاب پھینکا تھا اور جرم ثابت ہونے پر اسے زیریں عدالتوں سے سزا سنائی گئی تھی۔ مجرم نے اس دوران متاثرہ لڑکی کے ساتھ کسی طرح صلح کر لی اور عدالت میں درخواست دائر کی تھی کہ مدعی کے ساتھ چونکہ اس کی صلح ہو گئی ہے لہٰذا اس کی سزا ختم کی جائے۔
چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ”تیزاب گردی ایسا جرم نہیں جسے معاف کر دیا جائے۔ یہ قتل سے بھی زیادہ سنگین جرم ہے۔ متاثرہ لڑکی معاف کر بھی دے مگر قانون اس جرم کا ارتکاب کرنے والے کو معاف نہیں کر سکتا۔ یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ اس لڑکی کو ڈرا دھمکا کر صلح کی گئی ہو اور سپریم کورٹ میں بیان دینے سے باز رکھا گیا ہو۔ مجرم نے ایک لڑکی کو تیزاب کے ساتھ جلا کر ظلم عظیم کیا جس کی کوئی معافی نہیں۔یہ ریاست کے خلاف جرم ہے اور اس کی سزا عمر قید ہے۔“