جنسی بے راہ روی کی وجہ سے کیا چیز تیزی سے یورپ میں پھیلنے لگی؟ انتہائی خطرناک خبر آگئی

جنسی بے راہ روی کی وجہ سے کیا چیز تیزی سے یورپ میں پھیلنے لگی؟ انتہائی خطرناک ...
جنسی بے راہ روی کی وجہ سے کیا چیز تیزی سے یورپ میں پھیلنے لگی؟ انتہائی خطرناک خبر آگئی

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

پیرس(مانیٹرنگ ڈیسک) یورپی معاشروں میں جنسی بے راہ روی خوفناک انجام کی طرف جانی شروع ہو گئی ہے۔ dw.com کے مطابق یورپی ممالک میں ہم جنس پرستی اور دیگر جنسی خباثتوں کے باعث خوفناک جنسی بیماری سیفلس (Syphilis)تیزی سے پھیل رہی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یورپی ممالک کے لوگوں میں بہتر طبی سہولیات کے باعث ایچ آئی وی میں مبتلا ہونے کا خوف بہت کم رہ گیا ہے جس کی وجہ سے وہ جنسی عمل کے غیرمحفوظ طریقے اپنا رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ہم جنس پرست جب غیرمحفوظ طریقے سے جنسی عمل کرتے ہیں تو سیفلس اور دیگر کئی طرح کی جنسی بیماریاں جنم لیتی ہیں، چنانچہ یورپی ممالک ایچ آئی وی سے تو بہت حد تک محفوظ ہیں مگر سیفلس عام ہوتی جا رہی ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق سیفلس ایسی بیماری ہے جس کافوری علاج نہ کیا جائے تو دیگر کئی طبی پیچیدگیوں کو جنم دیتی ہے۔
یورپین سنٹر فار ڈیزیز پروینشن اینڈ کنٹرول کی طرف سے جاری ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2007سے 2017ءکے دوران یورپی ممالک میں سیفلس کے 2لاکھ 60ہزار مریض سامنے آئے ہیں۔2010ءمیں 5ہزار لوگ اس مرض کا شکار ہوئے تھے جبکہ 2017ءمیں 33ہزار 189لوگوں کو یہ مرض لاحق ہوا۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ مرض کسی تیزی سے یورپی ممالک میں پھیل رہا ہے۔