’میری بیوی کو شکایتیں مت کرو اب میں کسی کی نہیں سننے والا‘ مومنہ مستحسن کی لکس سٹائل ایوارڈز کی پرفارمنس پر تنقید کے بعد مانی ایک بار پھر میدان میں آگئے

’میری بیوی کو شکایتیں مت کرو اب میں کسی کی نہیں سننے والا‘ مومنہ مستحسن کی ...
’میری بیوی کو شکایتیں مت کرو اب میں کسی کی نہیں سننے والا‘ مومنہ مستحسن کی لکس سٹائل ایوارڈز کی پرفارمنس پر تنقید کے بعد مانی ایک بار پھر میدان میں آگئے

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) مزاحیہ کرداروں کے حوالے سے شہرت رکھنے والے اداکار سلمان شیخ عرف مانی نے مومنہ مستحسن پر واضح کیا ہے کہ وہ ان کی بیوی کو فون کرکے شکایتیں نہ کرے۔
مومنہ مستحسن کی لکس سٹائل ایوارڈز میں پرفارمنس کو ’ موت کے کنویں میں ناچنا‘ قرار دینے کے بعد مانی کو تنقید کا سامنا کرنا پڑا تو انہوں نے کہا ’ہم شریف کیا ہوئے ساری دنیا ہی بدمعاش ہوگئی، تیاری پکڑلیں کیونکہ مواد بہت ہے‘۔


انہوں نے ایک اور پوسٹ میں اپنی بیوی کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ’ حرا کو فون کرکے شکایتیں مت کرو، اب میں کسی کی نہیں سننے والا۔‘


سوشل میڈیا پر خود پر ہونے والی تنقید کے بعد سلمان شیخ نے ایک وضاحتی بیان جاری کیا جس میں انہوں نے اپنی بیوی کے ساتھ تصویر لگائی اور وضاحت دی لیکن کچھ دیر بعد انہوں نے یہ پوسٹ ڈیلیٹ کرکے نئی پوسٹ کی۔


انہوں نے نئی پوسٹ میں ’ کم عقل، جذباتی، خود کش انسٹاگرامرز کیلئے‘ کے عنوان کا اضافہ کیا اورلکھا کہ ان کی جانب سے مومنہ مستحسن کی لکس سٹائل ایوارڈز میں دی جانے والی پرفارمنس پر تبصرہ بطور ناقد بالکل اسی طرح کیا گیا تھا جس طرح گلوکارہ کے گانے ’ کوکو کورینا ‘ پر بعض بلاگرز نے کیا تھا ۔ ’ میں نے نہ تو مومنہ کی جسمانی ساخت کو نشانہ بنایا اور نہ ہی اس کی زندگی پر تنقید کی لیکن کچھ جعلی فیمنسٹوں نے وقت برباد کرکے مجھے سائبر بلی کرنے کی کوشش کی۔ ‘
مانی کا کہنا تھا کہ اگر وہ فیمنزم کے خلاف ہوتے تو ان کی اہلیہ حرا گھر پر بیٹھی کچن سنبھال رہی ہوتیں لیکن ان کی بیوی نے اپنے دم پر اپنا نام بنایا ہے۔
مانی نے کہا کہ وہ جس چیز کو پسند کرتے ہیں اس کی تعریف بھی کرتے ہیں، ان کی نظر میں مومنہ ایک اچھی گلوکارہ ہیں جن کا گانا ’ تیرا وہ پیار‘ ان کے پسندیدہ گانوں میں سے ایک ہے جو ان کے فیملی کے تفریحی دوروں کے دوران باقاعدگی سے سنا جاتا ہے۔’ میں نے مومنہ کے ہنر کو ہدفِ تنقید نہیں بنایا بلکہ ان کے انتخاب کے لتے لیے تھے، میں گزشتہ 19 سال سے میزبانی کر رہا ہوں، اتنے وسیع تجربے کے باوجود اگر میں انگریزی زبان کا کوئی شو ہوسٹ کرنے لگوں تو یہ ایک بری چوائس ہوگی، یہی معاملہ مومنہ کے ساتھ بھی ہوا ہے۔ میری تنقید فنکار کی چوائس پر تھی اس کے ہنر پر نہیں، جو لوگ پرانے مانی کو جانتے ہیں انہیں پتہ ہے کہ میں ایسا ہی تھا، ایسا ہی ہوں اور ایسا ہی رہوں گا۔‘

View this post on Instagram

#lsa #mominamustehsan Kamaqal ,jazbati, khudkush instagramers kay liyae.. My comment on #Mominamustehsan was a Critique. No different to what Bloggers wrote about her koko korina song. I did not remark on her physical appearances or her life. Lekin kuch jaali #Femimist ne waqt barbaad kar ke mujhe cyber bully karnay ki koshish ki. In ka agenda ek hai - Relevant hona. Feminism is about fighting for women's liberation from Oppression, not women's liberation from any sort of professional Critique.(Agar mai #Feminism kay khilaaf houta tou hira aaj ghar ka sirf kitchen sambhal rehi houte,apnay talent pai aaj ussnay apna naam.bana liaye.... (What we like we also praise). Momena is a good singer, and her song 'Tera wo pyar' is amongst my favourites. In fact it's a regular our playlist on our family trips. I'm not criticising Momena singing but her choice of Genres. I've been hosting shows for the past 19 years on tv, in live shows, on FM radio and on the internet, and yet if I host an English language show on any of these formats, it will be a bad choice on my behalf. And that's all I did in her case. The critique was of the artist's choice not of the artiste. Yeh mesg sirf unkay liyae hai jinko laga mai nay aik khatoun ke tazleel kee Jou puranay #Mani ko jantay hain unko pata hai mani aisa he tha aisa he hai aur aisa.he rehayha... ( Sepcial thanks to google translation)

A post shared by Salman Shaikh (@manipakistani) on

مزید :

تفریح -