نیب کے مقدمات میں سزا کی شرح کتنے فیصد ہے؟قومی احتساب بیورو نے مضبوط عزم کا اظہار کرتے ہوئے حیران کن انکشاف کردیا

نیب کے مقدمات میں سزا کی شرح کتنے فیصد ہے؟قومی احتساب بیورو نے مضبوط عزم کا ...
نیب کے مقدمات میں سزا کی شرح کتنے فیصد ہے؟قومی احتساب بیورو نے مضبوط عزم کا اظہار کرتے ہوئے حیران کن انکشاف کردیا

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)قومی احتساب بیورو  چیئرمین نیب جسٹس (ر)جاوید اقبال کی قیادت میں 100فیصد کرپشن فری پاکستان کیلئے میگاکرپشن، وائٹ کالر کرائمز کے مقدمات کو محنت، شفافیت اور میرٹ پر منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے پرعزم ہے، نیب کے مقدمات میں سزا کی شرح 68.8فیصد ہے، معتبر قومی اور بین الاقوامی اداروں نے چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال کی قیادت میں نیب کی کارکردگی کو سراہا ہے۔

قومی احتساب بیورو کی جانب سے جاری ہونے والی پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ جسٹس(ر) جاوید اقبال نے چیئرمین نیب کا عہدہ سنبھالنے کے بعد ناصرف بدعنوانی کی روک تھام کے لئے انسداد بدعنوانی کی موثر حکمت عملی وضع کی بلکہ بدعنوان عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لانے کے لئے ضروری اقدامات بھی کیے۔معتبر بین الاقوامی اور قومی اداروں جیسے ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل پاکستان عالمی اقتصادی فورم پلڈاٹ اور مشال پاکستان نے نیب کی کارکردگی کی تعریف کی ہے، 2019میں نیب کے مقدمات میں سزا کی مجموعی شرح 68.8فیصد رہی۔ گیلانی اینڈ گیلپ پاکستان کے سروے کے مطابق 59فیصد لوگ نیب کی کارکردگی پر اعتماد کرتے ہیں، یہ پاکستان کے لئے فخر کی بات ہے کہ نیب ناصرف ملک کے انسداد بدعنوانی کے اداروں کیلئے بلکہ سارک ممالک کیلئے بھی رول ماڈل کی حیثیت رکھتا ہے۔

نیب سارک اینٹی کرپشن فورم کا چیئرمین ہے جو کہ نیب کی کوششوں سے پاکستان کی بڑی کامیابی ہے،پاکستان واحد ملک ہے جس نےبدعنوانی کی روک تھام کے لئے چین کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے ہیں ،پاکستان اورچین سی پیک منصوبوں میں شفافیت یقینی بنانے کےلئےمل کر کام کر رہے ہیں،نیب ملک کا انسداد بدعنوانی کا واحد ادارہ ہے جو بدعنوان عناصر سے لوٹی گئی رقم وصول کرنے کے لئے بھرپور کوششیں کررہا ہے۔

نیب نے اپنے قیام سے اب تک 466.069ارب روپے بدعنوان عناصر سے وصول کر کے قومی خزانے میں جمع کرائے ہیں یہ وصول کی گئی رقم بعض سرکاری و نجی اداروں اور سینکڑوں متاثرہ افراد میں تقسیم کی گئی ہے جبکہ تمام رقم قومی خزانے میں جمع کرائی گئی جو کہ نیب کی شاندار کارکردگی ہے۔ نیب اپنے انویسٹی گیشن افسران کو جدید خطوط پر تربیت دینے کے لئے پرعزم ہے۔ چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال کے وژن کے تناظر میں نیب نے مشترکہ تفتیشی ٹیم کا نیا نظام وضع کیا ہے جس سے انکوائری اور انویسٹی گیشن کے معیار میں بہتری آئی ہے، مشترکہ تحقیقاتی ٹیم سینئرانویسٹی گیشن افسر، جونیئر انویسٹی گیشن افسر، ایڈیشنل ڈائریکٹر (بطور کیس افسر)لیگل کونسل، مالیاتی ماہر اور فرانزک ماہر پرمشتمل ہے جو کہ اجتماعی دانش سے مستفید ہونے کے لئے متعلقہ ڈائریکٹر جنرل اور ڈائریکٹر کی زیرنگرانی کام کرتی ہے۔

نیب نے اپنی پاکستان ٹریننگ اینڈ ریسرچ اکیڈمی قائم کی ہے جس میں انویسٹی گیشن افسران کی جدید بنیادوں پرخصوصی تربیت شروع کی گئی ہے تاکہ منی لانڈرنگ کے کیسز اور وائٹ کالر کرائم کی انویسٹی گیشن کو بہتربنایا جا سکے۔ دستاویزات، فنگرپرنٹ کی جانچ پڑتال اور ڈیجیٹیل ڈیٹا کے تجزیے کے لئے نیب راولپنڈی میں فرانزک سائنس لیبارٹری قائم کی گئی ہے اس لیبارٹری سے ناصرف سیکرسی یقینی بنانے میں مدد ملے ہے بلکہ انویسٹی گیشن کی تحقیقات کے معیار میں بھی بہتری آئی ہے۔ چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال ہفتہ وار پندرہ دنوں، ماہانہ، سہ ماہی، ششماہی اور سالانہ بنیادوں پر نیب ہیڈکوارٹرز اور تمام علاقائی بیوروز کی کارکردگی کا ناصرف خصوصی طور پر تیارشدہ جدید کمپیوٹر پر مبنی مانیٹرنگ اینڈ ایولیشن نظام کے ذریعے جائزہ لیتے ہیں بلکہ چیئرمین نیب انسپکشن اینڈ مانیٹرنگ ٹیم تمام متعلقہ شعبوں کی کارکردگی کا فزیکلی بھی جائزہ لیتی ہے جس سے نیب کی کارکردگی کا فیصلہ کرنے میں مدد ملتی ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ قانون کے مطابق درست اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ نیب چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال کی قیادت میں 100فیصد کرپشن فری پاکستان کیلئے میگاکرپشن، وائٹ کالر کرائمز کے مقدمات کو محنت، شفافیت اور میرٹ پر منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے پرعزم ہے۔

مزید :

قومی -