اورنج ٹرین…… وزیر اعلیٰ کا درست اقدام

اورنج ٹرین…… وزیر اعلیٰ کا درست اقدام

  

پنجاب کے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے کہا ہے کہ میٹرو ٹرین چلا کر سابق حکومت کے منصوبے بند کرنے کی روایت کا خاتمہ کر رہے ہیں۔ اورنج ٹرین سی پیک منصوبے کا حصہ ہے جلد از جلد چلانے کی کوشش کریں گے، تعمیراتی کام تقریباً مکمل ہو چکا ہے ساز گار حالات کا انتظار کر رہے ہیں کورونا کی وجہ سے پیدا ہونے والی رکاوٹیں دور ہوتے ہی باقاعدہ آغاز کر دیا جائے گا انہوں نے اورنج ٹرین کے ڈیرہ گوجراں سٹیشن کا دورہ کیا اس موقع پر سیکرٹری ٹرانسپورٹ، ڈی جی ایل ڈی اے اور دوسرے متعلقہ افسروں نے وزیر اعلیٰ کو بریفنگ دی۔

وزیر اعلیٰ کا یہ اعلان خوش آئند ہے کہ سابق حکومت کے منصوبے ختم کرنے کی روایت ختم کر رہے ہیں کوئی بھی حکومت جو منصوبہ بناتی ہے قطع نظر اس بات کے کہ وہ کسی آنے والی حکومت کو پسند ہو یا نہ ہو، اس پر رقوم قومی خزانے ہی سے خرچ ہوتی ہیں، اگر کسی منصوبے پر کسی بینک کی سرمایہ کاری ہوتی ہے یا قرض لے کر اخراجات کئے جاتے ہیں تو یہ قرض بھی جلد یا بدیر کسی نہ کسی حکومت ہی کو اُتارنا ہوتا ہے اس لئے اگر کوئی بھی منصوبہ ختم ہو جائے یا تاخیر کا شکار ہو جائے اور اس سے متوقع نتائج حاصل نہ ہوں تو اس کا نقصان بھی قومی خزانے ہی کو ہوتا ہے۔ اس لئے دانشمندی تو یہی ہے کہ کسی بھی دور میں جو منصوبے شروع کئے جائیں ان کی تکمیل پروگرام کے مطابق ہو سابق حکومت نے جب اورنج ٹرین منصوبہ شروع کیا تھا تو اس کا خیال تھا کہ وہ اپنے دور میں اس کی تکمیل کر دے گی لیکن عدالتی حکم امتناہی کی وجہ سے تقریباً 22 ماہ کام رکا رہا اس دوران نئے انتخابات کا وقت آ گیا، نگران حکومت کو بھی اس منصوبے سے دلچسپی نہیں تھی، تحریک انصاف کی نئی حکومت آئی تو بھی اس کے نزدیک یہ منصوبہ قابل ترجیح نہیں تھا کیونکہ اگر سرسری طور پر دیکھا جائے تو اتنے بڑے عوامی منصوبے کی بروقت تکمیل سے استفادہ کرنے والے اس کا سارا کریڈٹ منصوبہ سازوں ہی کو دیتے اس لئے نئے حکمرانوں نے طاقِ نسیاں پر رکھ دیا ترقیاتی کام سست رفتاری سے ہوتا رہا یا بالکل ہی بند کر دیا گیا کورونا تو کہیں 2020ء فروری کے آخر میں آیا اس سے پہلے ہی یہ منصوبہ ترجیحات میں بہت نیچے چلا گیا تھا، پھر نئی حکومت کے عالی دماغ ایسے منصوبوں کو ”مال بنانے کا ذریعہ“ تصور کرتے ہیں انہیں اس سے چنداں غرض نہیں کہ یہ ٹرین چلنے کی صورت میں لاکھوں لوگ روزانہ اس سے استفادہ کریں گے ان کے ذہن میں یہی سودا سمایا ہوا تھا کہ منصوبے پر رقم ضائع کی گئی ہے اس کی بجائے کم ترقی یافتہ علاقوں کو ترقی دینی چاہئے تھی۔

دُنیا کے عالمی شہرت یافتہ شہروں کی ضروریات بھی بڑی ہوتی ہیں اس لئے حکومت کوئی بھی ہو، ان شہروں کی ترقی کا عمل جاری رہتا ہے۔ نیو یارک کی انڈر گراؤنڈ ریلوے سوسال سے زیادہ عرصے سے چل رہی ہے یہ شہر کے مختلف علاقوں کو آپس میں ملاتی ہے، سروس تقریباً پندرہ بیس گھنٹے اور بعض صورتوں میں تو چوبیس گھنٹے چلتی رہتی ہے رات گئے مسافروں کی تعداد کم ہو جاتی ہے اس کے باوجود ٹرین کا سفر نہیں رُکتا، رش کے اوقات میں یہاں کھڑے ہونے کی جگہ نہیں ملتی، یہی حال لندن کی انڈر گراؤنڈ کا ہے اس نے برطانیہ کے بڑے بڑے ایئرپورٹس کو شہروں سے ملایا ہوا ہے، ہیتھرو، مانچسٹر سے آنے والے مسافر اگر چاہیں تو جہاز سے اُتر کر سیدھے ٹرین میں بیٹھ کر اپنا اگلا سفر شروع کر سکتے ہیں یہ صرف دو شہروں کا معاملہ نہیں ہے ترقی یافتہ شہروں میں ٹرانسپورٹ کی ایسی سہولتیں عام دیکھی جا سکتی ہیں ایسی ٹرینیں ماس ٹرانزٹ کا بڑا ذریعہ ہیں لیکن ہم اس معاملے میں دقیانوسی سوچ سے جان نہیں چھڑا سکے نتیجہ یہ ہے کہ ملک کے سارے ایئرپورٹس پبلک ٹرانسپورٹ کی سہولتوں سے محروم ہیں اگر کہیں بس سروس دستیاب بھی ہے تو گھنٹے دو گھنٹے بعد ایک بس آتی ہے جن مسافروں کو ان کی اپنی گاڑیاں ایئرپورٹ لانے یا لے جانے کے لئے دستیاب نہیں ان کا سارا انحصار ٹیکسی سروس پر ہے جن کے کرائے ہوشربا ہیں کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ ذاتی کاریں نہ رکھنے والے مسافروں کے پاس کوئی چوائس ہی نہیں ہے۔

ایسے میں ضرورت تو یہ تھی کہ اورنج ٹرین کو نہ صرف جلد از جلد چلایا جاتا بلکہ اگلے مرحلے میں اس کی توسیع کر کے ڈیرہ گوجراں کو ایئرپورٹ تک ملا دیا جاتا، راولپنڈی اسلام آباد اور ملتان میں چلنے والی میٹرو بسوں کو بھی ایئرپورٹوں تک توسیع دی جا سکتی ہے لیکن بدقسمتی ہے کہ ہم ترقی معکوس کی بھول بھلیوں ہی میں اُلجھ کر رہ جاتے ہیں اور اگلا سفر شروع کرنے کی بجائے پرانے منصوبوں میں ہی کیڑے تلاش کرتے رہتے ہیں اگر مل جائیں تو منصوبہ ٹھپ، نہ ملیں تو پہلے اِدھر اُدھر سے کیڑے تلاش کر کے ڈالنے کی کوشش کی جاتی ہے اور جب ایسا کچھ نہیں ملتا تو پھر مجبوراً منصوبہ مکمل کیا جاتا ہے اس عرصے میں پیداواری لاگت کئی کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ ایسے درجنوں منصوبوں کی مثالیں دی جا سکتی ہیں جو اگر بروقت مکمل ہوتے تو کم لاگت آتی، تاخیر کی وجہ سے ان کی لاگت بھی بڑھی اور تاخیر کے نقصانات بھی ہوئے، کوئی بھی موٹر وے بروقت مکمل نہ ہو سکی اسلام آباد پشاور موٹر وے پر کام جاری تھا کہ حکومت بدل گئی نئی حکومت نے پہلے تو کام بند کرایا پھر چھ لین کی موٹر وے کو چار لین کرنے کا حکم دیا، تعمیراتی کمپنی نے کہا کہ اس طرح کوئی بچت نہیں ہو گی کیونکہ تمام پل چھ لین کے حساب سے بنا دیئے گئے ہیں، معاملہ عدالتوں تک پہنچا، پھر ثالثی ہوئی، تب کہیں جا کر کام مکمل ہوا، اب اس موٹر وے پر ٹریفک رواں دواں ہے، بعد از خرابی بسیار اس منصوبے کو مکمل کرانے والے کے نام کی افتتاحی تختیاں تو لگ گئیں لیکن لوگ تو جانتے ہی ہیں کہ منصوبے کیسے شروع ہوئے اور کتنی مشکلات کے بعد پایہئ تکمیل کو پہنچے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب نے بالکل درست فیصلہ کیا ہے کہ سابق حکومت کے منصوبوں کو روکنے کی روایت ختم کر رہے ہیں بلکہ اس سلسلے میں تو ایک تحریری میثاق معیشت بھی ہونا چاہئے کہ حکومت کی تبدیلی کی صورت میں ترقیاتی منصوبے بلا روک ٹوٹ جاری رہیں اور سیاسی ضرورتوں کے تحت انہیں معرضِ التوا میں نہ ڈالا جائے، کیونکہ اربوں روپے کے اخراجات کے بعد منصوبہ شروع نہ ہو تو بالآخر ملک و قوم ہی کا نقصان ہوتا ہے توقع ہے اورنج ٹرین وزیر اعلیٰ کے اعلان کے مطابق جلد چلنا شروع ہو جائے گی۔

مزید :

رائے -اداریہ -