کرپشن کہانی، اجمل وزیر مشاورت سے فارغ!

کرپشن کہانی، اجمل وزیر مشاورت سے فارغ!

  

وزیراعظم کی ہدایت پر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے اپنے مشیر اطلاعات اجمل وزیر کو مبینہ بدعنوانی کے الزام میں عہدہ سے فارغ کر دیا اور ان کے خلاف تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔مشیر اطلاعات کی مشاورت سے فراغت ایک آڈیو کال لیک ہونے کی وجہ سے ہوئی۔اس میں ایک ایڈور ٹائزنگ ایجنسی کے نامعلوم نمائندے سے ان کی بات چیت ہو رہی تھی، اس میں جو گفتگو ہوئی اس کے مطابق اجمل وزیر اس ایجنٹ کے ساتھ سرکاری اشتہارات کے حوالے سے کمیشن کی شرح طے کر رہے تھے۔ اجمل وزیر نے اس سے انکار کیا اور موقف اختیار کیا کہ ان کے خلاف گہری سازش کی گئی اور یہ آڈیو ریکارڈنگ مختلف اجلاسوں میں ہونے والی ان کی بہت سی گفتگوؤں سے ایڈٹ کر کے تیار کی گئی، اس سازش کا سراغ لگائیں گے۔ ادھر وزیراعلیٰ محمود خان نے کہا ہے کہ اس پورے معاملے کی مکمل تحقیق ہو گی، کہ تحریک انصاف اور وزیراعظم کرپشن کے سخت مخالف اور کرپٹ افراد کو معاف کرنے کے قائل نہیں ہیں۔پیپلزپارٹی خیبرپختونخوا کی طرف سے ایک پریس کانفرنس میں اس آڈیو کا حوالہ دیتے ہوئے مزید کرپشن کے الزام لگائے اور کہا ہے کہ تحریک انصاف کے حضرات کی مبینہ کرپشن کے کیس نیب کے پاس ہیں،ان پر کوئی کارروائی نہیں کی جاتی، اب اجمل وزیر کی آڈیو ٹیپ نے واضح کر دیا ہے کہ تحریک انصاف والے ملوث ہیں،لہٰذا صوبائی وزیراعلیٰ اور وزیراعظم مستعفی ہو جائیں۔یہ آڈیو ٹیپ اور اس پر کارروائی ایسے وقت میں سامنے آئی، جب وفاقی وزیر علی زیدی نے پیپلزپارٹی کی قیادت کے خلاف محاذ کھولا ہوا ہے، اور عزیر بلوچ کی سرپرستی اور اس کے ساتھ ملی بھگت کے سنگین الزام لگائے جا رہے ہیں،اس آڈیو ریکارڈنگ نے پیپلزپارٹی کو حوصلہ دیا اور اس کی طرف سے اس معاملے کو اچھالنے اور نیب سے کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔یوں ”گندے کپڑے“ بازار ہی میں دھوئے جا رہے ہیں۔اجمل وزیر کی آڈیو آنے پر فوری کارروائی پر وزیراعظم کی تحسین کی جا رہی ہے کہ انہوں نے جرم کو چھپانے کی بجائے، اس الزام کی باقاعدہ تحقیق کا حکم دیا ہے،اب اس تحقیقات کے بعد ہی کچھ مزید لکھا جائے گا کہ نتیجہ کیا نکلتا ہے۔

مزید :

رائے -اداریہ -