ریاست مدینہ اور مندرکی تعمیر

ریاست مدینہ اور مندرکی تعمیر
ریاست مدینہ اور مندرکی تعمیر

  

ریاست مدینہ کی دعویدار ی کرنے والے ملک پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے اسلام آباد کے سیکٹر ایچ 9ٹو میں ہندوؤں کو بیس ہزار فٹ سکوائر پلاٹ کے ساتھ ساتھ دس کروڑ کی گرانٹ مندر بنانے کے لئے منظور کی ہے۔ ہندو ارکان اسمبلی نے2017ء میں عبادت گاہ کی تعمیر کیلئے ہیومن رائٹس کمیشن میں درخواست دی تھی۔ وزارت انسانی حقوق کی درخواست پر وفاقی ترقیاتی ادارے (سی ڈی اے) نے 2020ء میں مندر کے لئے جگہ الاٹ کی۔ گزشتہ ماہ وزیراعظم نے ہندو برادری کے لئے مندر بنانے کا اعلان کیا تھا۔اس حوالے سے جب مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ ریاست مدینہ کے امیر سیدنا حضرت عمر ؓ کے دور کا جائزہ لیتے ہیں تو ان کے دور حکومت میں شام فتح ہوا تو وہاں کے عیسائیوں نے حضرت عمر ؓسے جان کی امان طلب کرتے ہوئے چند شرائط پیش کی تھی ان کے عبادت خانوں کے حوالے سے،وہ شرائط یہ تھیں کہ آج کے بعد ہم اپنے شہر اور اس کے گردو نواح میں عبادت خانہ،گرجے او ر راہب کی جھونپڑی ازسر نوتعمیر نہیں کریں گے۔

اور خراب شدہ گرجوں کومرمت نہیں کریں گے، اسی طرح وہ گرجے جو مسلم آبادی میں ہوں گے ان کو دوبارہ نہیں بنائیں گے۔ ہم اپنا گرجا گھروں کو مسلمانوں کیلئے رات دن کھلا رکھیں گے۔ اسی طرح گزرنے والوں اور مسافروں کے لئے گرجاؤں کے دروازے وسیع، یعنی کھلا رکھیں گے تاکہ ان میں آرام کر سکیں اور ہم مسلم مہمانوں کی تین دن تک میزبانی کریں گے، نہ ہم ان گرجا گھروں اور اپنے رہائشی گھروں میں کسی جاسوس کو ٹھہرائیں گے۔ مسلمانوں سے دھوکا نہیں کریں گے، ہم کھلے عام شرک نہیں کریں گے اور نہ کسی کوشرک کی دعوت دیں گے، ہم کسی قرابت دار کو اسلام قبول کرنے سے نہیں روکیں گے اگر وہ حلقہ بگوش ہونے کا ارادہ کریں گے، ہم مسلمانوں کی تعظیم کرتے رہیں گے، ہم ان کو بٹھانے کے لئے اپنی جگہیں چھوڑ دیا کریں گے اگر وہ بیٹھنا چاہیں گے۔ ہم ان کا لباس، ان کے جوتوں جیسے جوتے، ان کی ٹوپیوں جیسی ٹوپیاں اور ان کے عماموں جیسے عمامے نہیں پہنیں گے وغیرہ۔کہنے کا مقصد یہ ہے ایک سچی ریاست مدینہ کا طرز حکومت،ایک اسلامی ریاست قطعا اس بات کی پابند نہیں ہے کہ وہ غیر مسلموں کے عبادت خانے تعمیر کرے اور ان کی تعمیر کے لئے چندہ دے یا ان کی تعمیر کے لئے گرانٹ جاری کرے جیسے کہ موجودہ حکومت کر رہی ہے۔

ایک جانب حکومت دعوی کرتی ہے کہ وہ ریاست مدینہ بنانا چاہتی ہے اور اسی ریاست میں دوسری جانب مندر کو گرانٹ جاری کر رہی ہے۔ واضح رہے کہ اسلام آباد میں موجود ہندوؤں کی تعداد چند سو سے زیادہ نہیں ہے اور رہی بات کہ اسلامی حکومت اقلیتوں کے تحفظ کی ذمہ دار ہوتی ہے، لیکن ان کے عبادت خانے بنانے کی ذمہ دار نہیں ہوتی جیسا کہ حضرت عمر ؓ اور شام کے نصرانیوں کے درمیان ہونے والے معاہدے سے واضح ہو جاتا ہے۔ ویسے بھی اگر اسلامی ملک کے دارلحکومت جس کا نام بھی اسلام آباد ہو اس کے قلب میں کسی کو مندر بنانے کا اتنا ہی درد ہے تو ہندو برادری اپنے پیسوں سے زمین خریدے پھر اس پر مندر بنائے یا جو اس کا دل کرتا ہے بنائے اس سے تو ان کو دنیا کی کوئی طاقت نہیں روک سکتی۔باقی پاکستان میں بھی تو ہندو اور دیگر اقلیتیں آباد ہیں اور وہاں اگر ان کے عبادت خانے موجود ہیں ان پر کسی کو اعتراض نہیں تو اس کی بنیادی وجہ یہ ہی ہے کہ وہاں موجود اقلیتیں خود اپنے عبادت خانوں کو چلا رہی ہیں اور اگر حکومت ان کی تزئین و آرائش کرتی بھی ہے تو اس پر کوئی معترض نہیں ہے، کیوں کہ وسائل پاکستان پر ان کا بھی برابر کا ہی حق ہے جتنا آئین میں طے کر دیا گیا ہے۔

جیسا کہ چودھری پرویز الٰہی دور میں کٹاس راج مندر اور دیگر متروک مندروں کو بحال کیا گیا۔یا موجودہ حکومت نے سکھوں کو کرتار پور میں گردوارہ تعمیر کر کے دیا گیا، کیونکہ وہاں پہلے سے ہی ان کے مذہبی گرو کے نام پر گردوارہ موجود تھا۔ ویسے بھی اسلام آباد پاکستان بننے کے بعد بسایا گیا شہر ہے اور اس حوالے سے مسلمانوں کے نئے آباد کردہ شہروں میں غیر مسلموں کونئے عبادت خانے بنانے کی اجازت نہیں۔ جب اہل کتاب عیسائیوں اور یہودیوں کے لئے رسول اللہؐ نے دار السلام میں گرجے یا عبادت خانے تعمیر کرنے کی اجازت نہیں دی، حالانکہ وہ اہل کتاب ہیں تو پھر ہندوؤں کو دارالاسلام اور مسلمان ملک میں عبادت خانہ بنانے کی اجازت کیونکر دی جاسکتی ہے؟ اس حوالے سے وفاقی مذہبی وزارت نے اسلامی نظریاتی کونسل سے رائے طلب کر لی ہے، جس کا فیصلہ ستمبر میں متوقع ہے۔ اسلامی نظریاتی کونسل کا فیصلہ بھی یقینا مندر بنانے کے حق میں نہیں آئے گا، وفاقی حکومت جو ریاست مدینہ بنانے کا نعرہ لگا کر اقتدار کے ایوانوں میں براجمان ہے اسے اپنے موقف پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے اور اپنی کوششیں اس ملک کو مدینہ طرز کی ریاست بنانے پر صرف کرنی چاہئں نہ کہ وہ ایسے اقدامات کریں، جس سے غیر مسلموں کو خوش کیا جا سکے، انہیں ترک صدر طیب ارگان سے سیکھنے کی ضرورت ہے، جنہوں نے چھ سو سال تک مسجد رہنے والی تاریخی عمارت آیا صوفیہ کو مغربی دباؤ کے باوجود دوبارہ سے عجائب گھر سے مسجد میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -