حکومت کی الٹی گنتی شروع ہو گئی، بات مائنس آل تک جا پہنچی: سراج الحق

  حکومت کی الٹی گنتی شروع ہو گئی، بات مائنس آل تک جا پہنچی: سراج الحق

  

دیر بالا(آئی این پی)امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ حکومت کی الٹی گنتی شروع ہوگئی ہے اور بات مائنس ون ٹو تھری سے آگے بڑھ کر مائنس آل تک جاپہنچی ہے۔حکومت 22ماہ سے مصنوعی آکسیجن پر چل رہی ہے۔ہاتھ تھامنے والوں کا خیال تھا کہ تھوڑے بہت سہارے سے یہ چلنا سیکھ جائیں گے مگر تمام تجربات ناکام ثابت ہوگئے ہیں۔کے پی کے سمیت ملک بھر میں ترقی کا پہیہ جام ہے۔وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم سے چھوٹے صوبوں اور غریب علاقوں میں احساس محرومی بڑھ رہا ہے۔حکومت نے مالاکنڈ ڈویژن کو فراموش کردیا ہے۔جب تک ملک میں قانون کی حکمرانی،میرٹ کی بالادستی اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کو یقینی نہیں بنایا جاتا ملک آگے نہیں بڑھ سکتا۔ ان خیالات کا اظہا ر انہو ں نے دیر بالا میں کارکنوں کے تربیتی کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔کنونشن سے سابق رکن قومی اسمبلی صاحبزادہ طارق اللہ،خیبر پختونخواہ اسمبلی کے رکن عنایت اللہ خان،سابق رکن صوبائی اسمبلی اعزازالملک افکاری،سعید گل و دیگر نے بھی خطاب کیا۔سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ حکو مت کو لانے اور ہاتھ پکڑ کرچلانے والے حکمرانوں کی نااہلی سے سر پکڑ کر بیٹھ گئے اورسوچ میں پڑ گئے ہیں کہ اب کیا کیا جائے۔وزیر اعظم سمیت سب کو پتہ چل گیا ہے کہ اب ان کا چل چلاؤ ہے،کبھی مائنس ون اور کبھی مائنس ٹو تھری کی بات ہوتی ہے مگر اب یہ بات بہت آگے بڑھ چکی ہے اور جب حکومتی شیش محل کا دھڑم تختہ ہوگا تو کوئی ایک دیوار یا کونہ نہیں پورامحل زمین بوس ہوگا۔بہت بڑی بڑی باتیں کرنے اور قوم کو سبز باغ دکھانے والے اپنی حسرتوں پر آنسو بہانے پر مجبور ہوگئے ہیں۔معیشت کو ایک رات میں ٹھیک کردینے اور آئی ایم ایف سمیت کسی کے سامنے ہاتھ نہ پھیلانے کے دعوے کرنے والوں نے ملکی معیشت کا بیڑا غرق کردیا ہے اور آئی ایم ایف سے بائیس ماہ میں تیرہ ارب ڈالر قرضہ لیکر سابقہ حکمرانوں کا ریکارڈ توڑ دیا ہے۔اب معیشت کو سنبھالنے میں شاید سالوں کا عرصہ درکار ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے مہنگائی اور بے روز گاری میں اتنا اضافہ کردیا ہے کہ ہر طرف مایوسی اور پریشانی نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔لوگوں کیلئے اپنے بچوں کا پیٹ پالنا مشکل ہوگیا ہے،مزدور اور کسان سارا سارا دن محنت کرنے اور پسینہ بہانے کے باوجود دو وقت کی روٹی نہیں کما سکتا۔

سراج الحق

مزید :

صفحہ آخر -