انسداد کورونا، وزیراعظم سے محدود کرفیونافذ، اے پی سی بلانے کا مطالبہ

انسداد کورونا، وزیراعظم سے محدود کرفیونافذ، اے پی سی بلانے کا مطالبہ

  

اسلام آباد(آئی این پی)چیئرمین قائمہ کمیٹی داخلہ سینیٹر رحمان ملک نے وزیر اعظم عمران خان کو کورونا وائرس خطرات میں کمی کیلئے دس سفارشات پر مشتمل خط ارسال کر دیا، خط میں کورونا خطرات کے پیش نظر وزیر اعظم سے فوری طور پر محدود کرفیو لگانے اور آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا مطالبہ کیا گیا ہے، تفصیلات کے مطابق رحمان ملک نے وزیر اعظم عمران خان کو لکھے گئے خط میں کورونا وائرس کنٹرول کرنے کیلئے دس اہم سفارشات پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ جولائی اور اگست میں کورونا کے مریضوں میں خطرناک حد تک اضافہ ہوسکتا ہے، ملک بغیر کسی تاخیر کے کورونا وائرس کیخلاف ایس او پیز کے نفاذ کے لئے فوج کے زیرانتظام کرفیو نافذ کیا جائے،جولائی، اگست، اور ستمبر 2020کے مہینوں کیلئے ہیلتھ ایمرجنسی کا اعلان کیا جائے، رحمان ملک کی جانب سے لکھے گئے خط میں وزیر اعظم سے سفارش کی گئی ہے کہ کورونا صورتحال کو کنٹرول کرنے کیلئے ایمرجنسی قوانین لائے جائیں جو ادوایات کی ذخیرہ اندوزی و جعل سازی کرنے والوں کیخلاف سخت سزائیں تجویز کرے،ٹی وی چینلز کو ہدایت کی جائے کہ ان جرائم میں گرفتار اور سزا پانے والے افراد کی خبریں نہ دیں، کویڈ 19 کے مریضوں کے فوری و بڑے پیمانے پر علاج معالجے کیلئے عارضی طبی مراکز قائم کیے جائیں، کورونا وائرس کے مریضوں کے علاج کے لئے چین سے مزید ڈاکٹرز و نرسز بھیجنے کی درخواست کی جائے،کورونا وئارس کے مریضوں کے علاج کیلئے تمام ضروری دوائیوں و آلات کی وافر فراہمی یقینی بنایا جائے، خط میں کہا گیا ہے کہکورونا وائرس کے علاج کے لئے ضروری ادویات و آلات کو ٹیکس و ڈیوٹی سے عارضی طور پر مستغنی قرار دی جائے، ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل اسٹاف کے لئے حفاظتی کٹس کی درآمد اور لوکل پروڈکشن پر پابندیاں ختم کی جائے، ڈاکٹروں اور پیرامیڈیکل سٹاپ کے رسک الاؤنس اور تنخواہوں میں سو فیصد تک اضافہ کیا جائے، ڈاکٹرز و پیرامیڈیکل سٹاپ جو کرونا مریضوں کا علاج کرتے شہید ہوجاتے ہیں انکو پولیس کے برابر معاوضے کا اعلان کیا جائے، وزیر اعظم عمران خان کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ عیدالاضحی پر بڑے اجتماعات سے کورونا وائرس کے پھیلنے کا خطرہ کئی گنا بڑھ جائیگا اسلئے عید الاضحی کے موقع پر ایس او پیز پر سختی سے عمل درآمد کے لئے خصوصی انتظامات کیے جائیں۔

رحمن ملک خط

مزید :

صفحہ آخر -