حریت لیڈر عبد القدیر کا نظریہ امریکی ہیرو پیٹرک ہنری سے مختلف نہیں تھا: سردار مسعود خان

حریت لیڈر عبد القدیر کا نظریہ امریکی ہیرو پیٹرک ہنری سے مختلف نہیں تھا: ...

  

مظفرآباد (آن لائن)آزاد جموں و کشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ 13 جولائی 1931ء کا دن ریاست جموں و کشمیر کی تاریخ کا وہ سنگ میل ہے جس نے ریاست کے مسلمانوں کو ظلم و استبداد کے خلاف جدوجہد کا نیا جذبہ اور ولولہ ہی نہیں دیا بلکہ اُنہیں ایک نظریاتی سمت اور جہت بھی دی جس پر چلتے ہوئے اُنہوں نے 16سال بعد ریاست کے ایک حصہ کو ڈوگرہ مہاراجہ کے ظلم و استبداد سے نجات دلائی اورریاست کے مقبوضہ حصہ کی آزادی کے لیے جدوجہد شروع کی جو آج بھی جاری ہے۔ 13 جولائی یوم شہدا کشمیر کے موقع پر اپنے پیغام میں صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ یہ دن تحریک آزادی کشمیر کا ایک خونچکاں باب ہے کیونکہ 1931 تحریک آزادی کشمیر کی تاریخ کا وہ سال ہے جب ڈوگرہ مہاراجہ کا ظلم و استبداد اپنی انتہا کو پہنچ گیا تھا، مسلمانوں کا استحصال کیا جار رہا تھا۔ مساجد اور قرآن پاک کی بے حرمتی کی جا رہی تھی۔ زمین کی ملکیت پر پابندی لگا دی گئی تھی حکومت کی طرف سے نافذ کردہ محصولات آسمان کی بلندیوں کو چھو رہے تھے اور حکمرانوں کی جبر و ظلم کے خلاف کسی بھی شخص کو آوا ز اُٹھانے کی اجازت نہیں تھی۔ اس پس منظر میں 25 جون کو ایک جری شخص عبدالقدیر خان نے سرینگر میں خانقاہ معلی کے مقام پر ینگ مسلم ایسوسی ایشن سے خطاب کرتے ہوئے حاضرین سے کہا کہ وہ مہاراجہ کی دہشت اور بربریت کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوں اور اُن کے پاس اگر ہتھیار نہیں ہیں تو ڈنڈوں اور پتھروں سے لڑ یں۔ عبدالقدیر خان نے مہاراجہ کے شیر گڑھی محل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس نا انصافی، دہشت اور غلام کی علامت عمارت کو گر ا دو۔ صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ عبدالقدیر کی آواز امریکہ کی جنگ آزادی کے ہیرو پیٹرک ہنری کی آواز سے مختلف نہ تھی جس نے 22 مارچ 1775 کو امریکہ کے لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ غلامی سے نجات کے لیے یا مجھے آزادی دو یا موت دے دو۔ عبدالقدیر اُسی دن گرفتار ہوگیا تھا لیکن اُس کی آواز، اُس کی گرفتاری اور اُس کے مقدمے کی سماعت نے خطہ کشمیر میں ایک انقلاب برپا کر دیا۔ لوگ مشتعل ہو گئے اور اُن میں غم و غصے کی ایک لہردوڑ گئی۔ 13 جولائی کو جیل میں عبدالقدیر کے خلاف غداری کے مقدمہ کی سماعت جاری تھی اور جیل کے سامنے ایک ہجوم موجود تھا۔جب نماز کا وقت آیا تو ایک شخص آذان کے لیے اُٹھ کھڑا ہوا اور اُس سے پہلے کہ وہ آذان مکمل کرتا ڈوگرہ پولیس نے اُسے گولی مار کر بے دردی سے شہید کر دیا۔ اس شہادت کے بعد یکے بعد دیگر اکیس مسلمانوں اُٹھے پولیس کی فائرنگ مسلسل جاری تھی لیکن ان اکیس مسلمانوں نے ایک ایک کر کے شہادت کا جام نوش کیا اور آذان کو مکمل کیا۔ آزادی کے لیے اس شجاعت اور جذبے کی دنیا کی کسی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔

سردار مسعود خان

مزید :

صفحہ آخر -