گجرات جیل: جہاں قانون کے بجائے پیسہ چلتا ہے

گجرات جیل: جہاں قانون کے بجائے پیسہ چلتا ہے

  

گجرات جیل کا شمار پنجاب کی ان جیلوں میں ہوتا ہے جہاں اکثر اوقات قیدی اپنے ساتھ ناروا رویے کیخلاف احتجاج کرتے رہتے ہیں جبکہ گجرات جیل میں متعدد بار ہنگامے اور ایک دفعہ جیل ٹوٹنے کا واقعہ بھی پیش آ چکا ہے اس واقعہ میں درجنوں ایسے قیدی فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے جنہوں نے بعد ازاں دس سال تک پولیس مقابلے کیے متعدد پولیس ملازمین و افسران شہید ہوئے اور بالاخر وہ اپنے انجام کو پہنچے، چند یوم قبل ڈسٹرکٹ جیل گجرات کے قیدی تقریبا سہ پہر تین بجے کے قریب جیل انتظامیہ کے رویے کے خلاف تنگ آ کر جیل کی چھت پر چڑھ گئے اور احتجاج کرنا شروع کر دیا قیدیوں نے اپنی بیڑیاں توڑ لیں ان کے پاس کدال‘اور کسی وغیرہ موجود تھی اور انہوں نے جیل کی چھت پر چڑھ کر کدال کے ساتھ اینٹیں اکھاڑنا شروع کر دیں اور وسیع پیمانے پر اینٹوں کا ذخیرہ کر لیا گجرات جیل میں اس وقت 960قیدی‘ 52خواتین اور 25کمسن بچے موجود ہیں قیدی اس قدر مشتعل تھے کہ وہ کسی کی بھی بات سننے کیلئے تیار نہ تھے اور جونہی کوئی ان سے کوئی مذاکرات یا بات کرنے کی کوشش کرتا وہ ان پر اینٹوں کی بارش کر دیتے سپرٹینڈنٹ جیل غفور انجم اس موقع پر موجود نہ تھے بلکہ اپنے کسی ذاتی کام کاج کے سلسلہ میں شہر سے باہر تھے واقعہ کی اطلاع ملتے ہی سید توصیف حیدر ڈی پی او“ایس پی سید مصطفی گیلانی‘ ڈی ایس پی سٹی رضا حسنین اعوان‘ حافظ سعید ڈی ایس پی صدر‘ایس ایچ او الطاف گوہر‘ ایس ایچ او امجد گجر‘ پی آر او چوہدری اسد گجر ایڈووکیٹ‘ عمران سوہی پی ایس او‘خاور توقیر انچارج سیکیورٹی برانچ‘ ملک حسرت عباس او ایس آئی‘‘ارشد ڈفرانہ‘ وقار گجر ایس ایچ او سٹی لالہ موسی‘فوری طور پر نفری لے کر گجرات جیل پہنچ گئے ڈی پی او گجرات نے انگریز دور میں تعمیر ہونے والی جیل کی باؤنڈری وال کے ساتھ پولیس کے کمانڈو اور جوان تعینات کر دیے تاکہ قیدی گجرات جیل سے فرار ہونے میں کامیاب نہ ہو سکیں اگر ایک بھی قیدی کدال کے ساتھ اینٹیں نکالنے میں کامیاب ہو جاتا تو جیل خالی ہو جاتی ڈی پی او سید توصیف حیدر اور انکا مذکورہ بالا عملہ اپنے کپتان کے اشارے پر جان قربان کر دینے کے جذبے سے سرشار ہو کر شدید گرمی میں احسن طریقے سے حالات کو کنٹرول کرنے کی کوشش کرتے رہے احتجاج کا سلسلہ رات گیارہ بجے تک جاری رہا مسلسل 8گھنٹے تک جاری رہنے والے اس احتجاج کے سلسلے میں درجنوں پولیس ملازمین اور قیدی زخمی ہو گئے جیل کو جانیوالے تمام راستوں کو سیل کر کے چاروں اطراف پولیس کی نفری تعینات کی گئی اور احتجاج کی آڑ میں سنگین جرائم میں ملوث قیدیوں کی فرار ہونیکی تمام کوششوں کو ناکام بنا دیا مظاہرین کو کنٹرول کرنے کیلئے ضلع بھر سے نفری اور ایلیٹ فورس کے دستے طلب کر لیے گئے گجرات جیل میں بند خطرناک قیدی اگر فرار ہونے میں کامیاب ہو جاتے تو گجرات میں جرائم کی نئی تاریخ رقم کرتے مگر سید توصیف حیدر ڈی پی او گجرات نے بہترین کمانڈر ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے آپریشن کی خود قیادت کی اور کسی بغیر کسی جانی نقصان کے حالات پر قابو پا لیا سینکڑوں قیدیوں اور جیل انتظامیہ کے درمیان لڑائی اس وقت شدت اختیار کر گئی جب جیل انتظامیہ کی طرف سے آنسو گیس کا بے دریغ استعمال شرو ع کیا گیا جیل میدان جنگ میں تبدیل ہو گئی قیدیوں پر آنسو گیس اور لاٹھی چارج جبکہ قیدیوں کی طرف سے پتھراؤ کیا گیا آنسو گیس کے بے دریغ استعمال سے جیل سے ملحقہ آبادیوں کے مکین بھی زبردست متاثر ہوئے کئی گھنٹے تک جاری رہنے والے احتجاج میں درجنوں قیدیوں سمیت متعدد پولیس اہلکار بھی شدید زخمی ہوئے جنہیں فوری طو رپر عزیز بھٹی شہید ہسپتال اور جیل کے اندر قائم ہسپتال منتقل کیا گیا دوسری طرف ان ایک ہزار کے قریب حوالاتیوں اور قیدیوں کے ہزاروں عزیز واقارب‘ بچے اور والدین اس قدر شدید مضطرب ہوئے کہ انہوں نے جیل میں قید اپنے عزیز واقارب کی خیریت دریافت کرنے کے لیے گجرات جیل کا رخ کر لیا پولیس نے جگہ جگہ ناکے لگا کر وہ راستے بند کر دیے کسی کو جیل میں جانے کی اجازت نہیں تھی بعد ازاں سید توصیف حیدر ڈی پی او گجرات کی حکمت عملی کے تحت کلا چور کے رہائشی مسلم لیگ ق کے رہنما فاروق افگن کو بذریعہ ایس ایچ او تھانہ صدر جلالپور جٹاں الطاف گوہر گجرات جیل لایا گیا جہاں پر انہوں نے قیدیوں اور حوالاتیوں کی منت سماجت کر کے انہیں مذاکرات کی ٹیبل پر بٹھا دیا قیدیوں کا پر امن طریقے سے احتجاج ختم کرانے میں سابق وفاقی وزیر چوہدری وجاہت حسین اور آئی جی جیل خانہ جات مرزا شاہدسلیم بیگ کا کردار بھی قابل ستائش رہا چوہدری وجاہت حسین کی ہدایت پر فاروق افگن آف کلاچور جو خود بھی 7سال گجرات جیل میں گزار چکے ہیں اور بیشتر قیدیوں سے انکے اچھے تعلقات ہیں فورا ڈسٹرکٹ جیل پہنچے اور قیدیوں سے مذاکرات کیے ان کے مطالبات کو انتظامیہ کی مدد سے متعلقہ حکام تک پہنچایا اس موقع پر قیدیوں کی طرف سے بڑا مطالبہ کرونا وائرس کی وجہ سے پیدا ہونے والے خدشات کی وجہ سے جیل انتظامیہ کی طرف سے ادویات فراہم نہ کرنا اور جیل میں موجود قیدیوں کو لا وارث چھوڑ دینا تھا جس پر چوہدری فاروق افگن نے ذاتی گرہ سے ایک لاکھ روپے میڈیکل سہولیات کے لیے فوری طور پر انتظامیہ کو دیئے پنجاب بھر میں ایک طویل عرصہ بعد کسی جیل میں اس قدر شدید ہنگامہ برپا ہونے کے اس واقعہ نے پوری پنجاب کی انتظامیہ اور افسران کو پریشان کر دیا الیکٹرانک میڈیا پر بریکنگ نیوز چلتی رہی،بلکہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی بھاری تعداد ان حالات میں شدید مضطرب نظر آئی اور اپنے اہل خانہ کو فون کر کے خیر خیریت دریافت کرتے رہے ریاض نذیر گاڑا آر پی او گوجرانوالہ اور ان کی ٹیم مسلسل سید توصیف حیدر سے رابطے میں رہی بدترین حالات میں سیدتوصیف حیدر نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور جذبات سے کام لینے کی بجائے ہوش سے کام لیتے رہے جس کی وجہ سے قیدیوں کے نمائندہ وفد سے بات چیت ممکن ہو سکی، جیل میں ہنگامے کی خبریں سن کر کمشنر گوجرانوالہ سید گلزار حسین شاہ، آر پی او گوجرانوالہ ریاض نذیر گاڑا،ڈی آئی جی جیل خانہ جات سلطان فیروز‘ سپرٹینڈنٹ منڈی بہاؤالدین‘ سیالکوٹ بھی گجرات جیل پہنچے طویل ترین مذاکرات اور خفیہ ایجنسیوں کی رپورٹوں کے بعد گجرات جیل کے ڈپٹی سپرٹنڈنٹ عطاء الرحمن اعوان کی مدعیت میں ڈسٹرکٹ جیل گجرات کے سپرٹنڈنٹ جیل عبد الغفور انجم‘ ڈپٹی سپرٹنڈنٹ سرمندحسن‘ رانا محمد لطیف اسسٹنٹ سپرٹنڈنٹ‘ شمس الحق اسسٹنٹ سپرٹینڈنٹ‘محمد نواز ہیڈ وارڈن نمبر 3602‘اللہ بخش ہیڈ وارڈن نمبر 5080‘ ظفر اقبال ایس جی وارڈر نمبر 8775‘ مزمل شاہ ایس جی وارڈر نمبر 5302‘ محمد ثاقب وارڈر نمبر 5998‘نوشیر خان وارڈر نمبر 5067‘ انجم غفار وارڈ ر نمبر 5861کے خلاف تھانہ سول لائن میں اقدام قتل اور رشوت ستانی سمیت 10 مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے جبکہ بعض قیدیوں کو بھی ہنگامہ آرائی کے الزام میں اسی مقدمہ میں ملزم فریق بنایا گیا ہے وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے آئی جی جیل خانہ جات کو ذمہ داروں کے خلاف سخت کاروائی کا حکم جاری کیا وزیراعلیٰ پنجاب نے صوبے بھر کی جیلوں میں فوری طو رپر شکایات بکس رکھوانے کی بھی ہدایت کی ہے محکمہ جیل خانہ جات کے کرپٹ افسروں اور اہلکاروں کی فہرستیں تیار کرنے سمیت سپیشل برانچ کو جیل کے اندر جا کرحالات کا جائزہ لینے اوررپورٹ پیش کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی قیدیوں کے نمائندہ وفد نے مذاکراتی ٹیم کو بتایا کہ پہلے کورونا وائر س کی وجہ سے تین ماہ تک لاک ڈاؤن رہا بعد ازاں سمارٹ لاک ڈاؤن اور پھر عدلیہ کی چھٹیوں کی وجہ سے وہ ایک طویل عرصہ سے اپنے عزیز واقارب‘ بچوں سے ملاقات نہیں کر سکے جیل کی انتظامیہ مبینہ طو رپر ان سے بھاری رشوت طلب کرتی ہے وگرنہ انہیں چکی میں بند کر دیا جاتا ہے انہوں نے یہ بھی موقف اختیار کیا کہ احاطہ جیل میں واقع کینٹین سے انہیں سامان مارکیٹ سے ہزار گنا زائد قیمت وصول کر کے دیا جاتا ہے ان کے اہل خانہ جیل کے کیشیئر کو رقم جمع کرا جاتے ہیں جو انہیں مختلف قسم کے ووچر جاری کرتے ہیں حتی کہ اگر ان کے عزیز واقارب کوئی پھل فروٹ‘ یا دوسرا کوئی سامان دے جائیں تو ان تک نہیں پہنچتا بلکہ جیل انتظامیہ حتی کہ وارڈن بھی ان کا یہ سامان ہضم کر جاتے ہیں حکومت کے اعلان کے باوجود قیدیوں کو اپنے اہل خانہ کو فون کرنے کی اجازت نہیں معمولی معمولی باتوں پر قیدیوں کو چکر میں لا کر شدید ذو د کوب کیا جاتا ہے بعد ازاں انہیں چکی میں بند کر کے تنہائی کی اذیت سے دوچار کر کے ذہنی مریض بننے پر مجبور کر دیا جاتا ہے یہ حالات ان کے لیے کسی صورت بھی قابل قبول نہیں حکومت کرپشن کے خاتمہ کا نعرہ لگا کر برسر اقتدار آئی مگر قیدیوں کے موقف کے مطابق کسی بھی محکمہ میں اس قدر رشوت ستانی نہیں جتنا جیل میں قید ملزمان و مجرمان کو مجبور اور بے بس کر کے ان سے ورثا سے لی جاتی ہے جیل حکام کو خدا کا کوئی خوف نہیں اور نہ ہی و ہ کورونا سے ڈرے ہیں جیل میں مبینہ طور پر کورونا وائر س کا شکار قیدی بھی موجود ہیں اگر کوئی حوالاتی یا قیدی بیمار ہو جائے تو اسے ہسپتال میں

داخل کرنے کے لیے لاکھوں روپے دینا پڑتے ہیں اور بدقسمتی کی انتہا یہ ہے کہ ہسپتال میں بخار کیلئے پینا ڈول تک بھی دستیاب نہیں ہر چیز برائے فروخت ہے جو قیدی کسی بھی سہولت کی قیمت ادا کر دیتا ہے تو اس کے وارے نیارے ہو جاتے ہیں لیکن یہ تمام عمل مستقل نہیں بلکہ ماہانہ یا پندرہ روزہ کی بنیاد پر سودے بازی کی جاتی ہے قیدیوں کے وفد نے یہ بھی موقف اختیار کیا کہ پہلے ان کی تاریخ پیشی عدالتوں میں ہوتی تھی وہ جیل کی وین سے ہی اپنے پیاروں کی شکلیں دیکھ لیتے تھے مگر چھ ماہ سے وہ مجبور اور بے بس ہیں انہیں کوئی اس بات کا علم نہیں کہ انکا کون مر گیا ہے یا ان کے بچوں کی کیا حالت ہے اب عدالتوں میں تعطیلات ہیں مقدمات اور پیشی کا سلسلہ بند پڑا ہے قیدیوں کی اس بے بسی اور لاچارگی پر مذاکراتی ٹیم کے تمام اراکین کی آنکھیں نمناک ہو گئیں کیونکہ ان قیدیوں میں کوئی گنہگار اور کوئی بیگناہ اپنے مقدمات کے فیصلے کا منتظر ہے دوسری طرف ان ایک ہزار کے قریب حوالاتیوں اور قیدیوں کے ہزاروں عزیز واقارب‘ بچے اور والدین اس قدر شدید مضطرب ہوئے کہ انہوں نے جیل میں قید اپنے عزیز واقارب کی خیریت دریافت کرنے کے لیے گجرات جیل کا رخ کر لیا پولیس نے جگہ جگہ ناکے لگا کر وہ راستے بند کر دیے کسی کو جیل میں جانے کی اجازت نہیں تھی گجرات جیل ہنگامہ اور مذاکرات اپنے اختتام کو پہنچ کر بہت سی بری اور دل گرفتہ یادوں کے ساتھ کئی سوال چھوڑ گیا ہے کہ ارباب اختیار کی نظر پاکستان کی جیلوں میں قید افراد کے مسائل کے حل کیلئے کیوں نہیں اٹھتیں ہر ضلع کا ڈپٹی کمشنر کم و بیش مہینے میں دو بارجیل کا وزٹ کرتا ہے ہر ضلع کا سیشن جج یا انکا نمائندہ بھی مہینے میں ایک دو بار جیل کا وزٹ کرتا ہے ضلع کے دیگر ججز بھی جیل کا وزٹ کرتے رہتے ہیں وکلاء بار کے صدر اور جنرل سیکریٹری بھی مہینے میں ایک دو بار وزٹ کرتے ہیں جیل کے دو یا تین ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ بھی ہوتے ہیں جو کم ازکم گزٹیڈآفیسر ہوتے ہیں جیل سپرٹینڈنٹ جو کم و بیش 17گریڈ کا آفیسر ہوتا ہے اتنے سینئر پڑھے لکھے اور تجربہ کار لوگوں کے وزٹ کرنے کے باوجود سب اچھا کی رپورٹ لکھ دینا یا فارورڈ کر دینا ایک بہت بڑا سوال ہے قیدیوں کا مجبور اور بے بس ہو کر احتجاج کرنا بالکل ایسے ہی ہے جیسے جنگل میں بھیڑ بکریاں کمزور اور لاغر جانور چیتے اور شیر کے سامنے احتجاج کریں احتجاج اسی وقت ہوتا ہے جب ناامیدی پوری طرح حاوی ہو جاتی ہے اور بہتری کی تمام امیدیں دم توڑ جاتی ہیں قیدیوں کی امیدوں کا کس نے قتل عام کیا او رکون کون ان کے ورثا کو مجبور کر کے بھاری بھر کم رشوت وصول کرتا رہا اسکا تعین ہونا ضروری ہے تھانہ سول لائن میں درج ہونیوالی ایف آئی آر عین ممکن ہے کہ محکمہ اینٹی کرپشن کے سپرد کر دی جائے مگر محکمہ جیل خانہ جات نے مقدمہ ہذا میں ملوث جیل انتظامیہ و ملازمین کو پیڈا ایکٹ لگا کر فوری طو رپر معطل کر دیا ہے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سپرٹینڈنٹ غفور انجم جیسا ایک تجربہ کار ماہر نفسیات اور ماہر تعلیم اتنے سالوں سے اپنے ماتحت افسران کی حرکات و سکنات پر کیوں نہ نظر رکھ سکے جو پورا سال قیدیوں سے مختلف حیلوں بہانوں سے پیسے لیتے ہیں تنگ کرتے ہیں اور پیسے نہ دینے پر چھترول کرتے ہیں ڈپٹی کمشنر اور ججز حضرات جب جیل کے دورے پر جاتے ہیں تو جیل کی انتظامیہ کے افسران انہیں وزٹ کیوں کراتے ہیں کیونکہ اگر جیل انتظامیہ کے افسران اور ملازمین ان کے ہمراہ ہونگے تو کوئی قیدی اگر شکایت لگا دے تو اسکا وہ حشر کیا جاتا ہے جس کا کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا جیل کے افسران کو ساتھ لے کر وزٹ کیوں کرتے ہیں اگر آفیسر ساتھ ہوں گے تو کیا قیدی ان کے ڈر سے اپنے مسائل بتائیں گے کیا ڈی سی اور سیشن جج نے کبھی بھی جیل کے وزٹ کے دوران قیدیوں کو علیحدہ کرکے ان کے مسائل بابت پوچھا ہے یہ چند ایک سوال ہیں ان کو تمام ارباب اختیار کے ساتھ ساتھ بالخصوص جیل سپرنٹنڈنٹ ڈپٹی کمشنر گجرات اور سیشن جج کو بغور جائزہ لینا ہوگا تاکہ قیدیوں کو بھی انسان سمجھتے ہوئے ان کے مسائل کو حل کیا جائے کیونکہ وہ قیدی ہیں، جیل میں کافروں کے بھی حقوق ہوتے ہیں یہ تو پھر مسلمان قیدی ہیں نفرت جرم سے کی جاتی ہے انسان سے نہیں‘لہذا ہمیں دکھاوے کے وزٹ دکھاوے کے احکامات اور سب اچھا کی رپورٹ کو پس پشت ڈال کر حقیقی مسائل پر توجہ دینا ہو گی ہر کام کو ڈنڈے سوٹے سے کرنے کے بجائے پیار محبت شفقت اور نفسیاتی طریقہ استعمال کرنا ہوگا پیار واحد طریقہ ہے جو جانور کو بھی مولڈ کر لیتا ہے امید ہے گجرات کے ارباب اختیار اس پر ہمدردانہ غور فرمائیں گے اور گجرات کی بہتری کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں گے گجرات جیل میں قیدیوں کی ہنگامہ آرائی کے حوالے سے خالصتا نفسیاتی اور ناروا سلوک کا مسئلہ ہے احتجاج کرنیوالے قیدیوں کا موقف تھا کہ تین ماہ سے نہ عدالتی سماعت کیلئے انہیں لے جایا گیا نہ گھروالوں سے ملاقات کی اجازت ملی ہے بعض چھوٹے ملازمین پیسے مانگتے ہیں اور کنٹین پر اشیائے خوردونوش بھی مہنگی دی جاتی ہیں قیدیوں کی لیڈ گجرات کے سیاسی گھرانوں کے لوگ اور ان سے وابستہ کارکن کر رہے تھے گجرات کی ساری انتظامیہ موجود ہونے کے باوجود قیدیوں کو مذاکرات پر قائل نہ کرسکے یہ انتظامیہ پر ایک انتہائی اہم سوالیہ نشان ہے اب قیدی " تنگ آمد بجنگ آمد" کے مصداق شور شرابہ اور ہنگامہ آرائی نہ کرتے تو کیا کرتے، ہماری جیلوں میں وہی پرانا سسٹم اور وہی مولابخش سسٹم موجود ہے اب اس کو تبدیل کرنے اور نفسیاتی طریقے سے مسائل حل کرنے کا وقت ہے ہنگامہ آرائی کے وقت سپرٹینڈنٹ جیل غفور انجم میٹنگ کے سلسلہ میں راولپنڈی گئے ہوئے تھے میرا یقین اور وجدان ہے اگر وہ جیل میں موجود ہوتے تو ہنگامہ آرائی نہ ہوتی وہ معاملہ فہم اور ماہر نفسیات ہیں قیدیوں کے مسائل فردا فردا اپنی توفیق کے مطابق سنتے ہیں اور انہیں حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں اب ضرورت اس امر کی ہے کہ انتظامیہ قیدیوں کے جائز مطالبات پورے کریں اور ایسا لائحہ عمل تیار کریں کہ آئندہ کوئی ایسا ہنگامہ نہ ہوروزنامہ پاکستان کی ویب سائٹ پر عمران ظفر نے 16جنوری 2020 کو ایک کالم تحریر کیا جس میں گجرات جیل سے عمرقیدسزا کی آدھی مدت کاکٹھن مرحلہ طے کرنیوالے قیدی کی روداد بیان کی گئی ہے جس کے مطابق سزا سے متعلق آپ بیتی اور جیل میں دیگر تمام قیدیوں کا احوال جان کر ڈر خوف سے بھرپور اور خود کو شیروں بھیڑیوں کے جنگل میں محسوس کرتے محسوس ہوتا ہے بے گناہ پابند سلاسل رہنے والے قیدی کی روداد کے مطابق جب کوئی نیا حوالاتی جیل میں آتا ہے تو اس سے جیل کی صفائی کروائی جاتی ہے تاہم 500 روپے دیکر عزت بچائی کا سکتی ہے ورنہ انکا رکی صورت میں تشد دکا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے نئے آنے والے قیدیوں کے بال کاٹے جاتے ہیں لیکن اگر آپ اپنی ذلفیں ترشوانا نہیں چاہتے تو کوئی بات نہیں جیل حکام کو 1500 روپے رشوت دے کر اپنے بال اپنی مرضی سے سلامت رکھ سکتے ہیں افسران بالا کے ملاحظہ میں نئے حوالاتیوں پر تھپڑوں گھونسوں کی بارش کے کھٹن مرحلے سے بچنے کے کئے 2000 دے کر جان چھڑائی جا سکتی ہے حوالاتی کو اس کی فرمائش پر من پسند بارک میں بھیجے کے لئے 5000 سے 10000 روپے وصول کئے جاتے ہیں اگر کوئی حوالاتی جیل میں پیسے دینے سے انکار کر دے تو اس کی ارڈی لگا دی جاتی ہے تو پھر بے چارے حوالاتی کو ہر روز کے 300 روپے دینے ہوتے ہیں ایک ہی بارک میں رہنے اور ارڈی رکوانے کا ٹھیکہ 2 لاکھ فی ماہ ہوتا ہے ڈپٹی سپریٹنڈنٹ کو ہفتہ وار جیل کا دورہ کرنے کا گورنمنٹ فنڈ درکار ہے جبکہ ہر بارک کا انچارج، قیدیوں اور حوالاتیوں سے ہر ماہ چونا پینٹ اور صفائی کا سامان لانے کی مد میں 2000 ہزار روپے وصول کرتا ہے ہر بارک کا انچارج اپنی بارک کے حوالاتی سے ایک ہزار فی کس ہر ماہ وصولی کرتا ہے اور انکار پر حوالاتی کو کسی نہ کسی بہانے سزاکے طور پر”سولہ بی“ جسکو عرف عام میں ’قصوری‘ کہتے ہیں اس میں بند کر دیا جاتا ہے کسی حوالاتی یا قیدی کا ملاقات پر ملنے والے سامان کا زیادہ تر حصہ جیل ملازمین کی نظر ہو جاتا ہے ملاقات شیڈ میں ملاقات کا وقت 35 منٹ متعین ہوتا ہے اور اگر قیدی کو ملاقات کا زیادہ وقت درکار ہو تو 1000روپے فی گھنٹہ کے حساب سے وصول کئے جاتے ہیں اور زیادہ تر متعین کئے گئے ملاقات کے وقت کو 20 منٹ تک محدود کر دیا جاتا ہے جبکہ اس مد میں شیڈ کا ٹھیکہ 170000 ماہانہ وصولی ہے اگر کسی قیدی کو عدالت کیطرف سے قید با مشقت ہوئی ہو تو قیدی سے مشقت والی سزا سے بچنے کے لئے 6000 روپے ماہانہ وصولی کی جاتی ہے اس وقت جیل میں قید با مشقت والے قیدیوں کی تعداد 250 کے لگ بھگ ہے جس میں سے صرف 50 قیدی مشقت کی اذیت میں باقی افراد کی بھی مشقت کا بوجھ بھی برداشت کرتے ہیں اور بہت کم قیدی تعلقات کی بنا پر6000فیس وصولی سے محفوظ ہیں اور اس مد میں تقریباً8لاکھ لاکھ روپے ماہانہ اکٹھے ہو جاتے ہیں اگر کسی قیدی کو اپنی مشقت کچن اسیران سے سنٹرل ٹاور کروانی ہو تو اس سے 20000 وصول کئے جاتے ہیں اورسنٹرل ٹاور کو عرف عام میں ’چکر‘ کہتے ہیں جس کا ٹھیکہ 3 لاکھ ماہانہ ہوتا ہے اس جگہ قیدیوں اور حوالاتیوں سے پیسے تشدد کر کے لئے جاتے ہیں منشیات بارک میں سگریٹ پینا منع ہے مگر جو حوالاتی بارک انچارج کو رقم دے گا وہ سگریٹ کے علاوہ تمام قسم کی منشیات کا استعمال کر سکتا ہے جبکہ اس بارک کے ٹھیکہ کے لئے متعین ملازم کو 80000 روپے بارک انچارج کو ادا کرنے ہوتے ہیں اور عدم وصولی پر مقررہ رقم کی حامی بھرنے والے نئے ملازم کا تقرر کر دیا جاتا ہے گورنمنٹ آف پنجاب کی طرف سے ہفتہ میں چار دن حوالاتیوں اور قیدیوں کو چکن فراہم کیا جاتا ہے مگر کبھی کبھار چکن شادی ہالوں میں باراتیوں کے پیٹ کی زینت بنتا ہے گورنمنٹ کیطرف سے لوکل فون (پی ٹی سی ایل) کی سہولت قیدیوں کو فراہم کی گئی ہے مگر 15000 ماہانہ ادا کرنے والا روزانہ کی بنیاد پر لامحدود فون کر سکتا ہے مگر غریب قیدیوں کو ہفتہ میں صرف ایک دفعہ چند منٹوں کے کے فون کرنے کی اجازت دی جاتی ہے بارک نمبر 5,6,7,8,9,10 کا ٹھیکہ 10000 ہزار ماہانہ ہے اور بارک انچارج ماہانہ موجودہ رقم ادا کر کے ہی اپنی ڈیوٹی متعلقہ بارک میں جاری رکھ سکتا ہے جبکہ بارک انچارج 40 سے 45000 ماہانہ کما لیتا ہے قیدی بارک نمبر 3 کا ماہانہ ٹھیکہ 30000 ہزار ہے جبکہ بارک 14 کا 70000, بارک 16بی (قصوری) کا 25000, بارک یو سی سی پی (UCCP) کا 25000 ماہانہ متعین کیا گیا ہے ایک بااثر ملازم کے پاس یک مشت تین عدد ٹھیکے (چکر، شیڈ اور کچن اسیران) ہیں جو کہ کارخاص کی حیثیت سے پہچانا رکھتا ہے،اسی طرع ارڈی جو کہ کار خاص اور منشی کے طور پر پہچان رکھنے والے وراڈن کی زیر نظر ہے حقوق اسیران کے باب میں درج دفاعی حکمت عملی کے مطابق اگر کوئی حوالاتی یا قیدی افسر اعلی کی طرف سے تیار کی گئی پالیسی کے کسی ایک پیرا کے خلاف بھی عدالت میں درخواست دے تو جیل سے منسلک ملکی و صوبائی سطح پر متعین اعلی افسران کی طرف سے بجائے شفاف انکوائری کرنے کی بجائے نرمی یا سختی کی قانونی حکمت عملی کے پیش نظر قائم مقام متعلقہ جیل کے اعلی افسر الٹا قیدی کو درخواست واپس لینے کے لئے جیل میں موجود حامی قیدیوں سے لڑائی جھگڑا یا منشیات برآمد کا کیس بنا کر 16بی (قصوری)میں بند کر کے تشدد، دباؤ یا دونوں کو ملحوظ خاطر رکھ کر اس طرع کے اقدامات کئے جاتے ہیں کہ قیدی اپنی درخواست سے واپس لینے پر مجبور ہو جاتا ہے اس کے علاوہ قیدیوں کی ذہنی مریض یا انتشار انگیز زہنیت کا حامی کی فائل تیار کر کے اس کا ریکارڈ خراب کر کے دوسری جیل میں بھیج دیا جاتا ہے محکمہ جیل خانہ جا ت کی وزارت نے بھی اسکا انتہائی سنجیدہ نوٹس لیا ہے ضرورت اس امر کی تھی کہ جیل حکام کا قبلہ درست کرنے اور قیدیوں کی حالت زار پر فوری توجہ دی جاتی مگر انہیں جیل حکام کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے اب بھی جیل کے بارے میں فوری طو رپر اصلاحات نافذ نہ کی گئیں تو ایسے ہنگامے دیگر جیلوں میں بھی ممکن ہو سکتے ہیں۔

٭٭٭

مزید :

ایڈیشن 1 -