ری فنڈز کلیمز کی ادائیگی کے مراحل کو تیزی سے مکمل کیا جائے، اسلم طاہر

  ری فنڈز کلیمز کی ادائیگی کے مراحل کو تیزی سے مکمل کیا جائے، اسلم طاہر

  

اسلام آباد (اے پی پی) ری فنڈز کے کلیمز کی ادائیگی کے مراحل کو تیزی سے مکمل کیا جائے۔ پاکستان کارپٹ مینو فیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن نے ایک بار پھر ری فنڈز کے کلیمز کی ادائیگی کے مراحل کو تیزی سے مکمل کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت مارکیٹ سے سرمائے کی قلت ختم کرنے کے لئے جامع اقدامات کرے. ہاتھ سے بنے کارپٹ مصنوعات کی انڈسٹری مشکلات کاشکار ہے اور اسے حکومت کی مالی معاونت کی اشد ضرورت ہے۔ ان خیالات کا اظہار ایسوسی ایشن کے چیئرمین محمد اسلم طاہر،چیئر پرسن کارپٹ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ پرویز حنیف، وائس چیئرمین شیخ عامر خالد، سینئر مرکزی رہنما عبد اللطیف ملک، سینئر ممبر ریاض احمد، سعید خان، اعجاز الرحمان، محمد اکبر ملک، میجر (ر) اخترنذیر نے ایسوسی ایشن کے اجلاس کے بعد اپنے مشترکہ بیان میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں برآمدات بڑھانے پر بھرپور توجہ مرکوز کرنا ہو گی کیونکہ اس سے ہماری معیشت کی ترقی جڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں بتایا گیا ہے کہ جون 2014ء سے جون 2019ء تک ٹیکس ری فنڈز 532 ارب روپے ہیں جبکہ گزشتہ مالی سال کے ٹیکس ری فنڈز اور کلیم کا حجم ملا کر 600 ارب روپے بنتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ برآمدات جے فروغ کے لئے چھوٹی اور بڑی انڈسٹری کی تفریق کے بغیر معاونت کی جائے۔

بلکہ مشکلات کا شکار انڈسٹری کو زیادہ سہولتیں اور مراعات دی جانی چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے کورونا وائرس کی وبا کے دوران بہت سے مثبت اقدامات اٹھائے گئے ہیں جس پر گورنر اسٹیٹ بینک کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔

مزید :

کامرس -