گلگت بلتستان میں بچوں کو پولیو کی غلط ویکسین پلا دی گئی، وزیراعلٰی سندھ کا انکشاف

    گلگت بلتستان میں بچوں کو پولیو کی غلط ویکسین پلا دی گئی، وزیراعلٰی سندھ ...

  

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے گلگت بلتستان میں بچوں کو پولیو کی غلط ویکسین پلانے کا الزام عائد کر دیا ہے۔ تحقیقات کی جائیں ملک میں غلط ویکسین کون لایا؟کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے کہا کہ پچھلے سال گلگت بلتستان میں جو غلط ویکسین لگائی گئی، اس سے پولیو کا وائرس پھیلا۔ کراچی میں بھی دو کیسز رپورٹ ہوئے حالانکہ اس سے پہلے 2018ء میں ہم نے پولیو وائرس کو ختم کر دیا تھا۔ ادویات سکینڈل میں کون کون ملوث ہے میڈیا انویسٹی گیشن کرے۔ میڈیسن کو چیک کریں کہ اسے کون امپورٹ کر رہا ہے۔وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ جس طرح وفاق سندھ کو ٹریٹ کرتا ہے ایسے تو انٹرنیشنل ایجنسی کو بھی نہیں کیا جاتا۔ وہ اس لیے برے ہیں کہ صوبوں کی بات کرتے ہیں۔ ٹڈی دل کے معاملے پر کوئی مشاورت نہیں کی گئی۔انہوں نے کہا کہ کے الیکٹرک وفاقی حکومت کی ناکامی ہے۔ کے الیکٹرک کے بورڈ میں صوبائی حکومت شامل نہیں ہے، صوبائی حکومت کو بھی شامل کیا جائے۔ کے الیکٹرک کا حل وفاقی حکومت کے پاس ہے۔ صرف کے الیکٹرک ہی نہیں حیسکو اور سیپکو بھی ایشو ہے مگر وفاق کے کان پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔ ان سے پوچھا جائے تو پچھلی حکومتوں پر ڈال دیتے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ وفاقی حکومت کے الیکٹرک کے شیئر اور بورڈ میں شامل ہے۔ کے الیکٹرک بورڈ کے ممبران سندھ کو بھی دیئے جائیں۔انہوں نے کہا کہ اگر ہم سمجھ رہے ہیں کہ کورونا وبا پر کنٹرول کر لیاگیا ہے تویہ غلط بات ہوگی،عیدالاضحی بھی آ رہی ہے،2ماہ بہت اہم ہیں۔سندھ میں تقریبا 11ہزار 790ٹیسٹ روزانہ کر رہے ہیں،گزشتہ 15 دنوں میں 1لاکھ 55ہزار سے زائدٹیسٹ کرچکے ہیں۔ سندھ میں کورونا ٹیسٹنگ دیگر صوبوں کے مقابلے میں ڈبل ہے، جب تک کورونا کی ویکسین نہیں آتی مکمل قابو پانا مشکل ہے، سندھ میں ابھی جو ٹیسٹنگ ہو رہی ہے اس سے ابھی مطمئن نہیں ہوں۔وزیراعلی سندھ نے کہا کہ ہمارے پاس 11268بیڈز موجود ہیں۔لوگ ٹیسٹ کروائیں ہم پر پریشر آئے گا تو ہم اپنی صلاحیت بڑھائیں گے۔ صوبے میں 18سے 20گھنٹے لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہے۔کے الیکٹرک کو تحویل میں لے لیں،دیکھتا ہوں کیا کرتے ہیں،ہم نے حیسکو اور سیپکو کے لیے نواز شریف دور میں آفر دی تھی۔

وزیراعلیٰ سندھ

مزید :

پشاورصفحہ آخر -