علی زیدی نے بے وقوفوں کے دار: سعید غی، سانحہ بلدیہ فیکٹری کا مقدمہ درج کیا جائے، وفاقی وزیر بحری امور

علی زیدی نے بے وقوفوں کے دار: سعید غی، سانحہ بلدیہ فیکٹری کا مقدمہ درج کیا ...

  

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک)سندھ کے وزیرتعلیم سعید غنی نے کہا ہے کہ صدر مملکت،گورنر سندھ اور علی زیدی کو امن کمیٹی کو تحریک انصاف میں شامل کرنے کا ٹاسک دیا گیا، حبیب جان نے تصدیق کی پی ٹی آئی کے کراچی کے جلسے امن کمیٹی کی وجہ سے کامیاب ہوئے۔نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے لیاری کینگ وار کے سرغنہ عذیر بلوچ کے ساتھی حبیب جان نے کہا 2011 میں عمران خان نے ذوالفقار مرزا سے فون پر بات کی، اس بات چیت کے بعد طے ہوا کہ عزیر بلوچ پی ٹی آئی کی حمایت کرے گا کیونکہ عذیر بلوچ کی مدد کے بغیر عمران خان اور افتخار چوہدری کا کراچی آنا اور جلسہ کرنا ممکن نہیں تھا۔سعید غنی نے اس بیان پر ردعمل میں کہا کہ حبیب جان نے تصدیق کی تحریک انصاف کے کراچی کے جلسے امن کمیٹی سے کامیاب ہوئے۔ حبیب جان اور عمران خان کی 2011 میں فون پر بات ہوئی،جس میں امن کمیٹی کو پی ٹی آئی کو سپورٹ کرنے کیلئے کہا گیاجبکہ 2014 میں علی زیدی نے کہا امن کمیٹی کے خلاف مقدمات سیاسی بنیادوں پر بنائے گئے۔انہوں نے کہاکہ علی زیدی بے وقوف نہیں بے وقوفوں کے سردار ہیں جنہوں نے دو روز قبل دعویٰ کیا کہ وہ ایک تہلکہ خیز ویڈیو منظر عام پر لانیوالے ہیں اور پھر وہ حبیب جان کی ویڈیو ریلیز کی۔سعید غنی نے پی ٹی آئی کے حلیم عادل شیخ کو نیب نوٹس پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا اور کہا کہ ایسا لگ رہا ہے نیب نے معاملہ حلیم عادل کو کلین کرنے کیلئے اٹھایا ہے۔کو ئی شک نہیں حلیم عادل کو کلین چٹ دیدی جائیگی۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ کراچی میں بجلی کا بحران سلیکٹڈ حکومت کی وجہ سے آیا، پہلے حکومت نالائقی سے بحران پیدا کرتی ہے پھر بیان بازی سے کریڈٹ لیتی ہے۔ دوسری جانب وفاقی وزیر علی زیدی نے کہا ہے کہ صوبائی وزیر حقیقی مسئلے سے توجہ ہٹانے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں عذیر بلوچ برسوں سے قانون نافذ کرنیوالے اداروں کی حراست میں ہے، عذیر بلوچ کی سرپستی کرنیوالے طاقتور سیاستدانوں کے نام جے آئی ٹی میں ہیں۔ جے آئی ٹی میں نام آنیوالے طاقتور سیاستدان آزادگھوم رہے ہیں، عذیر بلوچ کی سرپرستی کرنیوالوں کو قانون کے کٹہرے میں آنا چاہیے۔ نازبلوچ پی ٹی آئی میں تھیں،اب پیپلزپارٹی میں ہیں۔انہوں نے کہا کہ کیا نازبلوچ اب بھی اپنے گزشتہ نظریے پر قائم ہیں؟۔علی زیدی نے کہا کہ انہوں نے کھلی درخواست کی تھی کہ عذیر بلوچ کو رینجرز کی تحویل میں دیاجائے، خدشہ تھا طاقتور مافیا عزیر بلوچ کو سندھ حکومت کی تحویل میں مروا دے گا۔ اپنی ٹوئٹ میں علی زیدی نے کہا کہ بلدیہ فیکٹری سانحے میں 250 معصووں کی جان گئی، جے آئی ٹی میں کہا گیا بلدیہ فیکٹری سانحے پر سندھ پولیس سے کوتاہی ہوئی، جے آئی ٹی میں تجویز کیا گیا بلدیہ فیکٹری سانحے کی ایف آئی آر دوبارہ درج کی جائے۔

سعید غنی

مزید :

پشاورصفحہ آخر -