سوشل میڈیا پر گستاخانہ خاکے، ملزموں کو سخت سزا دی جائے، طاہر اشرفی

      سوشل میڈیا پر گستاخانہ خاکے، ملزموں کو سخت سزا دی جائے، طاہر اشرفی

  

ملتان (سٹی رپورٹر) پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین علامہ طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ سوشل میڈیا پر گستاخانہ خاکوں توہین رسالت اور اہل بیت کی شان میں گستاخی کرنے(بقیہ نمبر33صفحہ6پر)

والوں کو سخت سزا دی جائے - اگر کوئی توہین رسالت اور گستاخی کے زمرے میں آئے تو اسے قانون کے مطابق سخت سے سخت سزا دی جائے اور گستاخ رسول اور توہین رسالت کی کم سے کم سزا 20 سال دی جائے بھارت میں مسلمان اور مسیحوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں وہاں پر مسلمان محفوظ نہیں - خواجہ آصف کو مندر کے معاملے پر اتنی تکلیف ہے تو اگلی بار الیکشن اقلیتوں ں کی طرف سے لڑ لیں - ان خیالات کا اظہار انہوں نے گذشتہ روز سرکٹ ہاؤس ملتان میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کی اس موقع پر علامہ عبد الحق مجاہد، علامہ انوار الحق مجاہد، شفقت حسنین بھٹہ محمد ایوب مغل، علامہ سید خالد محمود ندیم، علامہ عبد الحنان حیدری، خواجہ شفیق اللہ بدری سمیت دیگر بھی موجود تھے اس موقع پر انہوں نے مزیدکہاہے کہ ملک میں امن و امان کے لیے علما سے بیٹھک شروع کی ہے سوشل میڈیا پر توہین اسلام کا سلسلہ جاری ہے جس سے ایف آئی اے سمیت دیگر محکموں کیساتھ ملاقات کی، کوئی بھی گستاخی کے زمرے میں آئے اسکو قانون کے مطابق سزا دینی چاہیے، گستاخی کی سزا کم ازکم 20 سال کی جائے اور ملزمان کا کیس انسداد دہشتگردی عدالت میں چلایا جائے، انہوں نے کہا کہ عمران خان سے مطالبہ کرتا ہوں جلد از جلد پیغام پاکستان کو قانونی شکل دی جائے،اہلبیت اور توحید رسالت کی توہین کی جارہی ہے، قرآن او سنت کے خلاف ہر قسم کی فتویٰ بازی کو روکا جائے گا،محرم سے پہلے اگر کسی نے مزہبی منافقت پھیلانے کی کوشش کی اسکے خلاف کاروائی کی جائے گی، شریعت کے لحاظ سے غیر مسلم عبادت گاہوں کی حفاظت کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے یہاں غیر مسلوں کو سب سے زیادہ مزہبی آزدی پاکستان میں حاصل ہے جبکہ بھارت میں مسلمان اور عیسائی محفوظ نہیں،حکومت قومی ایکشن پلان پر فوری عمل کرے،قربانی کی کھالیں جمع کرنے کے لیے جن کو پچھلے سال این او سی ملا تھا ان کو اس سال بھی ملے گا,,علامہ طاہر اشرفی نے کہا کہ اسلام آباد میں مندر کا معاملہ اسلامی نظریاتی کونسل میں چلا گیا عوام کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں,,انہوں نے کہا کہ خواجہ آصف جیسے لوگ اسلام کی حقیقت کو نہیں جانتے اسمبلی کی فلور پر ان کو ایسی تقریر زیب نہیں تھی اگر زیادہ ہی تکلیف ہے تو خواجہ آصف آئندہ الیکشن اقلیت کی طرف سے لڑلیں,,شہباز شریف خواجہ آصف کی تقریر کی کوئی مزمت نہیں کی اسکا افسوس ہے,,علامہ طاہر اشرفی نے کہا کہ خواجہ آصف کو اپنے الفاظ واپس لینے چاہیں جبکہ ن لیگ کی قیادت کو خواجہ آصف کی تقریر کا نوٹس لینا چاہیے اس تقریر کے بعد یہ بات ثابت ہوگئی کہ کون کون قادیانیت کو ہوا دے رہا ہے نواز شریف قادیانیت کے حق میں قانون سازی لیکر آیا وہ ان کو اپنا بھائی کہتا تھا

مزید :

ملتان صفحہ آخر -