امریکہ میں 17سال بعد کسی مجرم کوسزائے موت دینے کا فیصلہ، لیکن اس شخص کا جرم کیا ہے؟

امریکہ میں 17سال بعد کسی مجرم کوسزائے موت دینے کا فیصلہ، لیکن اس شخص کا جرم ...
امریکہ میں 17سال بعد کسی مجرم کوسزائے موت دینے کا فیصلہ، لیکن اس شخص کا جرم کیا ہے؟

  

واشنگٹن(ڈیلی پاکستان آن لائن) امریکی وفاقی عدالت نے 17سال میں پہلی بار سزائے موت کے مجرم کی سزا پر عملدرآمد کی اجازت دے دی ہے جس کے بعد سترہ سال میں پہلی بار کسی شخص کو سزائے موت دی جائے گی۔

الجزیرہ کی ایک رپورٹ کے مطابق  پیر کو امریکی ریاست انڈیانا میں مجرم کو زہریلا انجکشن لگا کر موت کے گھاٹ اتارا جائے گا۔  امریکی وفاقی عدالت نے   سزائے موت پر عملدرآمد رکوانے کے لیے ذیلی عدالت میں کی گئی اپیل کو مسترد کرتے ہوئے سزا پر عملدرآمد کی اجازت دی۔ 

متاثرہ خاندان نے بھی مجرم کی سزائے موت کو التوا میں رکھنے اپیل کی تھی تاہم عدالت نے کہا ہے کہ اس اپیل کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔

رپورٹس کے مطابق جس مجرم کی سزا پر عملدرآمد ہونا ہے اس  کی شناخت سفید نسل پرست ڈینیئل لیوس لی کے نام سے ہوئی ہے۔ مجرم نے  1996میں  آرکانسس خاندان کے تین افراد کو قتل کردیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق مقتولین کے خاندان کے کچھ افراد نے بھی سزائے موت کی مخالفت کی ہے تاہم عدالت کی جانب سے سزا پر عملدرآمد کا گرین سگنل دے دیا گیاہے۔

مجرم کو پیر کوانڈیانا میں واقع محکمہ انصاف کے ایگزیکیوشن چیمبر میں زہریلا انجکشن لگا کر سزائے موت دی جائے گی۔

مجرم کی سزا پر جمعہ کو عملدرآمد ہونا تھا تاہم متاثرہ خاندان کی اپیل کی وجہ سے سزا کو روکنا پڑا تھا۔ متاثرہ خاندان نے کہا تھا کہ کورونا وائرس کے خطرے کے پیش نظر وہ اس سزا پر عملدرآمد کے وقت نہیں آسکتے۔

مزید :

بین الاقوامی -