وفاقی کابینہ نے رضوان اللہ خان کو چیئرمین سوئی نادرن گیس کمپنی بنانے کی منظوری دیدی لیکن پھر ان کیساتھ کیا ہوا؟ تفصیلات منظرعام پر، یقین نہ آئے 

وفاقی کابینہ نے رضوان اللہ خان کو چیئرمین سوئی نادرن گیس کمپنی بنانے کی ...
وفاقی کابینہ نے رضوان اللہ خان کو چیئرمین سوئی نادرن گیس کمپنی بنانے کی منظوری دیدی لیکن پھر ان کیساتھ کیا ہوا؟ تفصیلات منظرعام پر، یقین نہ آئے 

  

اسلام آباد (ویب ڈیسک) ایس این جی پی ایل کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین کا انتخاب آج ہوگا تاہم  دو افراد کو رضوان اللہ خان کے مقابلے میں وزیراعظم سیکرٹریٹ سے وابستہ کچھ لوگوں  کی جانب سے نامزد  کردیا گیا اور  چیئرمین کے امیدوار کی بجائے   اپنےان  من پسند امیدوار کو لانے کے لئے آج حتمی زور لگائیں گے، وفاقی کابینہ نے کوکا کولا کمپنی کے سابق سی او رضوان اللہ خان کو بورڈ کا نیا چیئرمین نامزد کیا تھا، سوئی ناردرن بورڈ میں تمام اراکین حکومت کے حمایت یافتہ ہیں۔

مقامی اخبار میں ناصر جمال نے ذرائع کے حوالے سے لکھا  کہ  سوئی ناردرن کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین کے انتخاب کے لیے  آج ہونے والے اجلاس میں وفاقی کابینہ کے فیصلے کو پلٹانے کے لیے زور آزمائی جاری ہے، وزیراعظم سیکرٹریٹ سے جڑے کچھ لوگ وفاقی کابینہ کے نامزد کردہ امیدوار کی بجائے اپنے حمایت یافتہ امیدوار کو چیئرمین منتخب کروانے کے لیے ایڑھی چوٹی کا زور لگائیں گے،یہ  لوگ دراصل سابق بورڈ کی ایک اہم شخصیت کو چیئرمین کے عہدے پر دیکھنا چاہتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق وفاقی کابینہ نے کوکا کولا کمپنی کے سابق سربراہ رضوان اللہ خان کو بورڈ کے چیئرمین کے لئے نامزد کیا ہے  مگر   وفاقی کابینہ کے فیصلے کے برعکس یہ لوگ وزیراعظم سیکرٹریٹ میں بیٹھی ایک شخصیت کو خوش کرنے کے لیے کسی اور منظور نظر شخصیت کو بورڈ کا چیئرمین بنوانا چاہتے ہیں۔

 ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ دو  اہم شخصیات کئی روز سے اپنے من پسند چیئرمین کو لانے کے لیے لابنگ کررہے ہیں اور اس میں سوئی ناردرن گیس کمپنی کی انتظامیہ بھی ان کا بھرپور طریقے سے ساتھ دے رہی ہے۔ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا کہ یہ لوگ چیئرمین کے بعد اپنا من پسند ایم ڈی سی بورڈ کے ذریعے لے کر آئیں گے اور موجودہ ایم ڈی عامر طفیل کے متبادل ایک اور تیسرا شخص تلاش کیا گیا ہےجس کا انٹرویو سابق بورڈ کی منظوری کے بغیر وزارت پٹرولیم کے ٹرائیکا نے کیا تھا۔

سوئی ناردرن بورڈ میں حال ہی میں بورڈ ممبران کی تعداد چودہ سے کم کر کے بارہ کی گئی تھی۔ ایم ڈی بلحاظ عہدہ بورڈ کا ممبر ہوتا ہے  جس کے بعد بورڈ ممبران کی تعداد 12 ہوجاتی ہے۔ کئی پرائیویٹ ممبرز کو بورڈ سے اٹھا کر باہر پھینک دیا گیا جبکہ حکومت نے حیرت انگیز طور پر ریگولیٹری  کی طاقت استعمال کرتے ہوئے بورڈ کے تمام ممبران اپنے نامزد کردئیے اور وہ 11 میں سے 10 ممبر بنوانے میں کامیاب رہی۔ احمد عقیل اس بورڈ میں واحد پرائیویٹ ممبر ہیں۔ اس سے قبل محمود مرزا مصطفی خان اور میاں مصباح الرحمن پرائیویٹ شعبہ سے ممبر تھے۔ انہیں ممبر بنوانے میں کامیاب بھی رہی۔ حالانکہ حکومت کا سوئی ناردرن میں حصص کے حساب سے 56 فیصد حصہ ہے۔

واضح رہے کہ رضوان اللہ خان بنیادی طور پر کارپوریٹ پروفیشنل ہیں اور ان کی شخصیت صاف ستھری شہرت کی حامل مانی جاتی ہے جبکہ ان کی غیر جانبداری اور پروفیشنل ازم ان کے مخالفین بھی مانتے ہیں۔ مگر ریگولیٹری کلچر پر یقین رکھنے والی وفاقی بیورو کریسی ایک کمزور چیئرمین کو لانا چاہتی ہے تاکہ وہ بورڈ میں اپنی من مانیاں ماضی کی طرف سے جاری رکھ سکیں۔ انڈسٹری کے ذرائع کا کہنا ہے کہ بورڈ کی نئی فارمیشن اور بورڈ سے پرائیویٹ ممبرز کے اخراج کے بعد سوئی ناردرن گیس کمپنی کے مستقبل پر بہت سے سوالات کھڑے ہوگئے ہیں۔ سوئی سدرن کے بعد اپ سوئی ناردرن کی تباہی دیوار کا لکھا نظر آرہی ہے۔ یہاں یہ امر بھی انتہائی دلچسپی کا باعث ہے کہ سوئی ناردرن پچھلے تقریباً ڈیڑھ سال سے مستقل سربراہ کے بغیر کام کررہی ہے۔ اس کے اندر انتظامی کنٹرول انتہائی کمزور ہوا ہے  جبکہ وزارت کی خواہشات اور ایجنڈے کمپنی کے مفادات کے اوپر حاوی ہیں جو کہ انتہائی تشویشناک ہے۔ یہاں یہ امر بھی قابل ذکرہے کہ سابق چیئرپرسن روئی خان کا نام اگلے چیئرپرسن کے لئے تھا مگر وفاقی کابینہ نے اسے نظر انداز کردیا۔ نئی صورتحال میں اگر رضوان اللہ خان چیئرمین منتخب نہیں ہوتے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ وفاقی کابینہ کوبھی شکست ہوگئی۔

مزید :

علاقائی -اسلام آباد -قومی -