نوے لاکھ ستر ہزاربچے دوبارہ سکول کیوں نہیں آسکیں گے؟ افسوسناک خبر

نوے لاکھ ستر ہزاربچے دوبارہ سکول کیوں نہیں آسکیں گے؟ افسوسناک خبر
نوے لاکھ ستر ہزاربچے دوبارہ سکول کیوں نہیں آسکیں گے؟ افسوسناک خبر

  

لندن(ڈیلی پاکستان آن لائن)برطانیہ کے ایک خیراتی ادارے نے خبردار کیا ہے کہ ممکن ہے کہ دنیا بھر کے ایک کروڑ کے قریب بچے اب دوبارہ سکول واپس نہ آسکیں اور انہیں معاشی حالات کی وجہ سے کام کرنا پڑے۔

برطانوی نشریاتی ادارے کی ایک رپورٹ کے مطابق  خیراتی ادارے نے اندازہ ظاہر کیا ہے کہ  کورونا وائرس کی وجہ سے نوے لاکھ ستر ہزاربچے دوبارہ سکول نہیں آ سکیں گے۔

سیو دی چلڈرن تنظیم کے مطابق دنیا بھر میں کورونا وائرس کے سنگین معاشی اثرات کی وجہ سے ایک کروڑ بچے شاید دوبارہ سکول نہ آ سکیں اور وہ جلد کام پر چلے جائیں۔

تنظیم کے مطابق لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیوں کے زیادہ متاثر ہونے کے امکانات ہیں کیونکہ ان میں سے اکثریت کے سروں پر کم عمری کی شادی کے خطرات منڈلا رہے ہیں۔

جن ممالک میں ان بچوں کے سکول چھوڑنے کے امکانات ہیں ان میں مغربی اور وسطی افریقہ، یمن اور افغانستان شامل ہیں۔

سیو دی چلڈرن کی صدر اور سی ای او جانتی سوریپتو کا کہنا ہے کہ یہ ایک غیر معمولی قسم کی تعلیمی ایمرجنسی ہے اور حکومتوں کو فوری طور پر اس شعبے میں خرچ کرنا چاہیے۔

خیال رہےدنیا بھر میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد ایک کروڑ 26 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ اب تک اس مرض کے باعث پانچ لاکھ 64 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

دنیا میں کورونا سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک امریکہ ہے جہاں 32 لاکھ سے زائد افراد اس مرض سے متاثر ہیں جبکہ وہاں اب تک ایک لاکھ 35 ہزار کے قریب افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

پاکستان میں اب تک ڈھائی لاکھ سے زیادہ افراد میں اس مرض کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ 5,266 اموات ہوئی ہیں۔ اب تک یہاں ایک لاکھ 60 ہزار سے زیادہ مریض صحتیاب بھی ہو چکے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق اتوار کے روز دنیا بھر میں کورونا وائرس کی ابتدا سے سب سے زیادہ نئے مریض سامنے آئے ہیں۔

مزید :

بین الاقوامی -تعلیم و صحت -