عیدِ سعید یا عیدِ شہید

عیدِ سعید یا عیدِ شہید
عیدِ سعید یا عیدِ شہید

  

پنجاب پولیس نے مختلف خفیہ ایجنسیوں کی جانب سے تھریٹس کے باوجود عید الاضحی کے موقع پر خوداعتمادی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پنجاب کے باسیوں کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا جس کیلئے ہر اضلاع میں جامع سکیورٹی پلان ترتیب دیا گیا۔ پولیس فورس کے تمام دستے اس موقع پر اپنے اپنے علاقہ جات میں گشت کی ڈیوٹی سرانجام دیتے رہے۔ عید کے اجتماعات میں مساجداور کھلے مقامات پر داخلے کے لئے تمام شرکاء کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے پولیس کی اضافی نفری تعینات کی گئی۔پولیس افسران و اہلکار اپنے گھروالوں کے ساتھ عید منانے کی بجائے چھٹی کے چار دن شہریوں کی حفاظت پر مامور دکھائی دیے۔ مویشی منڈیوں، عید الاضحی کے موقع پر مساجد میں ڈیوٹی، قبرستان اور تفریحی مقامات پر الرٹ ہوکر فرائض سرانجام دینے کے لیے افسران سمیت پوری فورس ایک بار پھرعوام کے جان و مال کا تحفظ کرتی نظرآئی۔حالات چاہے کتنے ہی مشکل ہوں، یہ پولیس والے کبھی اپنے فرض سے منہ نہیں موڑتے۔پنجاب میں قیام امن کے لیے جہاں سیکیورٹی اداروں کا کردار قابل تحسین ہے، وہیں محکمہ پولیس کی قربانیاں بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔ پولیس کا چوں کہ عوام سے براہ راست رابطہ ہوتا ہے اور عوام کی پولیس تک رسائی آسان ہے۔ اس لیے پولیس، کارکردگی اور کام کے حوالے سے تنقید کی زد میں بھی رہتی ہے، اس کے باوجود یہ بات بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ قیام امن کے لیے اب تک ہزاروں پولیس افسران اور اہل کار اپنی جانوں کی قربانی دے چکے ہیں۔ تاہم پولیس کے شہیدوں اور ان کے اہل خانہ کو وہ پزیرائی نہیں مل پاتی، جو دوسرے اداروں کے شہیدوں کو ملتی ہے۔ گزشتہ بیس بائیس برسوں کے دوران پنجاب اور خصوصاً لاہور پولیس نے دہشت گردوں،مختلف جماعتوں کے عسکری ونگز،گینگسٹرز،بھتہ خوروں اور اغواء برائے تاوان میں ملوث ملزمان سے مقابلہ کیا،اس دوران جہاں ہزاروں دہشت گردوں اور ملزمان کو کیفرِ کردار تک پہنچایا گیا، وہیں پولیس افسران اور کئی جوان بھی شہید ہوئے، خصوصاً دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پولیس فورس کی قربانیاں سب سے زیادہ ہیں۔ پنجاب پولیس کے ہزاروں افسران اور جوانوں نے اپنی جانوں کی قربانی دی،آئی جی پنجاب کے حکم پر عید کے موقع پر ان شہداء کے لواحقین کو عیدی اور تحائف پیش کیے گئے۔آئی جی پولیس پنجاب راؤ سردار علی خان کی ہدایت پر صوبہ بھر کی پولیس یوں توسال بھر شہدا کی فیلمی سے ملاقات کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہوئے ہے،

تاہم عید کے آیام میں آئی جی پولیس کی جانب سے پولیس افسران کے نام شہدا کے خاندان سے ملاقات کے لیے خصوصی پیغام جاری کیا گیا،صرف لاہور پولیس کے سربراہ ڈی آئی جی بلال صدیق کمیانہ نے گزشتہ دوماہ کے دوران 125 سے زائد شہدا کے وارثان سے ملاقاتیں کی ہیں جس میں انہیں خراج عقیدت پیش کرنے کے ساتھ عید گفٹ دیے گئے۔یہی عید جب زندگی کے کسی خوشگوار واقعے کے بعد پہلی بار آتی ہے تو اس کی اہمیت دو چند ہو جاتی ہے جیسے شادی کے بعد نئے جوڑے کی پہلی عید یا پیدائش کے بعد بچے کی پہلی عید وغیرہ۔ ایسی صورت میں عید کا اہتمام معمول سے زیادہ کیا جاتا ہے اور اسے خصوصی طریقے سے منایا جاتا ہے،لیکن کچھ گھر ایسے بھی ہیں جو عیدِ سعید کے بجائے سوگ میں غَرق عیدِ شہید منا تے ہیں بلکہ عید کے روز ان کے غم کی شدت میں اضافہ ہوجاتاہے کیونکہ ان کے ہاں یہ عید اپنے بے قصور پیاروں کے جسم بارود سے چھلنی ہونے کے بعد پہلی بارآئی تھی اور انہیں یہ عید اْن کے بغیر گزارنی پڑی،تحریک انصاف کے آزادی مارچ کے کریک ڈاؤن کے دوران ماڈل ٹاؤن میں شہید ہونے والے کا نسٹیبل کمال کی بیوہ اور معصوم بیٹی نے نیا جوڑا تو پہنا، لیکن ڈبڈبائی آنکھوں نے سارے خوشنما منظر دْھندلا دیے۔اسی طرح سری لنکن ٹیم کے ساتھ حملے میں،ون فائیو بلڈنگ،ایف آئی اے عمارت،جی پی او، اسمبلی ہال چوک کے شہدا اور داتا دربار پر خود کش بمبار نے 5 پولیس اہلکاروں اور 8 سویلین لوگوں کے پرخچے اڑا دیے۔ آج ان کے ورثا پوچھ رہے ہیں کہ عید کے دن کیسے خوش ہوا جاتا ہے؟ خفیہ ایجنسیوں کے گمنام شہید ہیرو، جن کا ذکر کہیں سننے کو بھی نہیں ملتا، آج اْن کا غم بھی ہمارا ہی غم ہے۔اے قوم کے شہیدو، قرآن کہتا ہے کہ تمہیں مردہ نہ کہا جائے بلکہ تم زندہ ہو اور تمہیں خالق کی طرف سے رزق بھی دیا جاتا ہے۔

تمہاری قربانیاں ہم بھولے نہیں۔ عید کی خوشیاں مناتے ہوئے بھی ہمیں تمہاری جان کا قیمتی نذرانہ یاد ہے اور تمہارے لواحقین کے درد کا بھی احساس ہے کہ آج وہ کس کرب سے گزر رہے ہیں۔اگرچہ ہم دہائیوں سے دہشت گردی کا شکار ہیں اور لاشیں اٹھانا ہمارا معمول بن چکا ہے لیکن اس کے باوجود اب تک ہمارے اندر کسی کا درد محسوس کرنے کی حِس معطل نہیں ہوئی، اور مضبوط قوم کی یہ واضح نشانی ہے۔آج بھی پنجاب کا ایک خوشحال گھرانہ بلوچستان میں اٹھنے والے کسی شہید کے لاشے پر نوحہ کر سکتا ہے۔ آج بھی لاہور میں جامِ شہادت نوش کرنے والوں کے لیے کراچی میں دعائے مغفرت ہوتی ہے۔ آج بھی پشاور میں خون کی ہولی کھیلی جائے تو پورا ملک تڑپتا ہے۔ آج بھی پنجاب میں گولی چلے تو پورا پاکستان چھلنی ہو جاتا ہے۔ ہم آج بھی ایک جسم کی مانند ہیں جس کے ایک حصے میں درد ہو تو سارے جسم کو محسوس ہوتی ہے۔لہٰذا آئیے، تھوڑا سا وقت نکال کر ہاتھ اٹھا کے ان شہیدوں کے لیے بلندی درجات اور ان کے لواحقین کے لیے صبرِ جمیل کی دعا کریں۔اس عید الضحی کا پیغام یہ ہے کہ ہم خواہ کسی بھی مذہب، مسلک، سیاسی پارٹی یا کسی بھی ادارے سے منسلک ہوں، لیکن دہشت گردی کے خلاف ہم متحد ہیں۔اے خدا! اس ارضِ پاک کو دہشت گردی، انتہا پسندی اور فرقہ واریت سے محفوظ کر دے اور ہمیں بقائے باہمی کے تحت ایک ایسا پْر امن معاشرہ عطا فرما جس میں کسی بیٹی کی عصمت تار تار نہ ہو اور کسی بے گناہ کا جسم پرزے پرزے نہ ہو، تاکہ اگلے برس ہماری خوشیاں ہر طرح کے غم کی آمیزش سے پاک ہوں۔ آمین

مزید :

رائے -کالم -