سازشی تھیوریاں اور خبث باطن

سازشی تھیوریاں اور خبث باطن
سازشی تھیوریاں اور خبث باطن

  



نہ جانے کیوں ہم یوٹوپیا(فرضی دُنیا) سے باہر نکلنے کو تیار ہی نہیں۔ کسی ایک ادارے کے بدعنوانی سے پاک ہونے(یہ دعویٰ بھی مبالغہ آرائی سے کم نہیں) اور اسی کی جانب سے کرپشن کے خلاف علم بغاوت بلند کر دینے سے کیا سارا معاشرہ بدعنوانی سے پاک ہو جائے گا؟ ہم فرض کر لیتے ہیں کہ اعلیٰ عدلیہ بدعنوانی سے پاک ہو چکی ہے اور معاشرے کی تطہیر کے لئے عمل پیرا ہے، تو کیا چہار سو پھیلے بدعنوانی کی غلاظت کے ڈھیر محض عدلیہ کی کاوشوں سے دُور ہو کر معاشرے کو گلزار بنا دیں گے؟ ”کان نمک میں سب نمک کے مصداق“ بدعنوانی اس انداز میں معاشرے کی رگ وپے میں سرایت کر چکی ہے کہ اس سے چھٹکارا پانا فی الحال ممکن دکھائی نہیں دیتا۔ بات تنخواہوں اور مراعات کی بھی نہیںکہ گزشتہ چند سال میں فوجی و سول بیورو کریسی، اعلیٰ و ماتحت عدلیہ اور دیگر سرکاری ملازمین کی تنخواہوںمیں کم از کم200فیصد اضافہ تو ہو چکا ہے تو پھر کیا چیز ہے جو اِن طبقات سے بدعنوا نی کو دُور کرنے میں مانع ہے۔ اگرچہ مہنگائی کا کردار بہت اہم ہے، کیونکہ اِس میں بھی کئی گنا اضافہ ہو چکا ہے، لیکن ہمیں اِس حقیقت کو بھی تسلیم کر لینا چاہئے کہ ہمارے خبث باطن نے ہوس زر کو بڑھاوا دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

1998ءمیں جب ملک میں موٹروے کا افتتاح ہوا، تو اس کے ساتھ ہی نیشنل موٹروے اتھارٹی کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا گیا۔ اس زمانے کے اعتبار سے اس فورس میں شامل ہونے والے افسران اور اہلکاروں کی تنخواہیں اور مراعات عام پولیس کے مقابلے میں بہت زیادہ تھیںتاکہ نئے قائم ہونے والے اس محکمے میں بدعنوانی پروان نہ چڑھ سکے، ابتدائی چار پانچ سال اس محکمے کی کارکردگی خاصی شاندار رہی اور اس کو پاکستان کا واحد کرپشن فری ادارہ ہونے کا اعزاز حاصل رہا، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ موٹروے پولیس کا دائرہ کار بڑھتا رہا....(نئے موٹرویز کے قیام سے).... اور بعد میں کچھ نیشنل ہائی ویز، جیسے ملتان تا لاہو کو بھی موٹروے پولیس کے زیر انتظام کر دیا گیا۔ اس لحاظ سے اس میں افسران اور اہلکاروں کی مزید نفری کی ضرورت پیش آئی، لیکن مقررہ تعداد میں بھرتیاں نہ ہونے اور دیگر وجوہات کی بناءپر اِس میں ا فسران کو ڈیپوٹیشن پر لایا گیا ۔ ڈیپوٹیشن پر لائے گئے زیادہ تر افسران کا تعلق پنجاب پولیس سے تھا جو رشوت ستانی میں اپنی مہارت کے حوالے سے خاصی شہرت رکھتی ہے۔ یوں اس محکمے سے جانے والی کالی بھیڑوں نے موٹروے پولیس کے افسران کو بھی اپنے تجربات سے مستفید کرنا شروع کر دیا، نتیجہ کیا نکلا؟ چند سال میں اعلیٰ کارکردگی کے حامل ایک ادارے کی کارکردگی بھی دیگر سرکاری محکموں جیسی ہو گئی۔

ممکن ہے بہت سے لوگوں کے لئے یہ بات اچنبھے کا باعث ہو، لیکن یہ دعویٰ مَیں ذاتی تجربے کی بناءپر کر رہا ہوں۔ ملتان سے خانیوال سفر کے دوران متعدد بار مَیں نے ٹرانسپورٹرز کو اوورلوڈنگ اور اوورچارجنگ کے مرتکب ہونے سمیت دیگر ٹریفک قوانین کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے دیکھا، لیکن موٹروے پولیس کبھی ان کی راہ میں مزاحم نہیں ہوئی۔ ہم یہ بات سمجھنے سے نہ جانے کیوں قاصر ہیں کہ قانون اِس ملک میں طاقتور کے لئے موم کی ناک ہے۔ ہماری جاگیردار و سرمای دار اشرافیہ (جو اس ملک کی اصل حکمران ہے) اِس بات کی قائل ہے کہ اپنے مقاصد کے حصول کے لئے بھاڑے کے ٹٹوﺅں (معاف کیجئے گا، لیکن حقیقت یہی ہے)کا آزادانہ استعمال کرے۔ فوجی یا سول بیورو کریسی ہو، عدلیہ یا میڈیا ہر جگہ ضمیر فروشوں کی بھرمار ہے اور بھاڑے کے ٹٹو وافر مقدار میں بآسانی دستیاب ہیں۔ اعلیٰ عدلیہ میں چند ایک نامور لوگوں کی موجودگی سے نجانے ہم نے کیوںیہ خوش فہمی پال لی ہے کہ عدلیہ بدعنوانی سے پاک ہو گئی ہے۔ ماتحت عدلیہ کی کارکردگی آج بھی سوالیہ نشان ہے، ملک میں جاگیردار مافیا آج بھی اس قول فعل پرعمل پیرا ہے کہ” و کیل نہیں جج کرنا ہے“.... تو ایسے میں اگر عزت مآب چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے صاحبزادے کو کسی نے ٹریپ کرنے کی کوشش کی تو اس میں اتنا غل مچانے کی کیا ضرورت ہے۔

 ہمیں ہر معاملے میں سازسی تھیوریاں تلاش کرنے کی عادت سی ہو گئی ہے، لیکن سازش؟.... ریمنڈ ڈیوس کے معاملے میں مقتولین کے ورثاءدس لاکھ امریکی ڈالر (تقریباً ساڑھے 9کروڑ فی خاندان) اور امریکی ویزوں کے بدلے میں امریکی جاسوس کو معاف کرنے کے لئے تیار ہو گئے، تو یہ بھی اغیار کی سازش! عزت مآب چیف جسٹس کے صاحبزادے جن کا ٹیلی کام سیکٹر میں ماشا اللہ کروڑوں کا کاروبار ہے اور خود ان کے بقول گزشتہ سال22لاکھ روپے انہوں نے ٹیکس کی مد میں ادا کئے۔ اتنے معصوم تو ہر گز نہیں ہو سکتے کہ کوئی انہیں تیس چالیس کروڑ کے تحفے لے کر دے اور وہ اس سے یہ پوچھنے کی زحمت بھی گوارا نہ کریں کہ اس مہربانی کی وجہ کیا ہے؟

 یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ اس ملک کی سرمایہ دار اشرافیہ اپنے ناجائز کام نکلوانے کے لئے ہر فرد کی قیمت مقرر کرنے پر تل چکی ہے اور چند ایک شوریدہ سروںکو چھوڑ کر( میرا گمان ہے کہ عزت مآب چیف جسٹس افتخار محمد چودھری بھی انہی میں شامل ہیں) تمام لوگ ان کے ہمنوا بن چکے ہیں۔

کوئی یہاں یہ جاننے کی کوشش نہیں کرتا کہ اس ملک میں طاقتور ترین شخص کی حیثیت سے پہچانا جانے والا انسان(مَیں اس ملک میں رئیل سٹیٹ کی دُنیا کے لئے بے تاج بادشاہ کی ہی بات کر رہا ہوں) کون سی ایسی ماورائی خصوصیات کا حامل ہے کہ چند دھائیوں میں ایک عام آدمی سے ہزاروں ارب روپے کے سرمائے کا مالک بن گیا۔ یہی ہے اس ملک کی اشرافیہ کا اصل چہرہ کہ وہ احتساب سے بالاتر ہے۔ عدلیہ اپنی تمام توانائیاں صرف کر کے بھی ملک میں انصاف کا بول بالا نہیں کر سکتی، جب تک ریاست کے دیگر ادارے اور افراد بھی اپنی ذمہ داریوں کا احساس نہ کریں، سازشی تھیوریاں نہیں، ہمارا خبث باطن راستے کی دیوار ہے۔  ٭

مزید : کالم