حضرت امیر معاویہؓ کے کارنامے

حضرت امیر معاویہؓ کے کارنامے
حضرت امیر معاویہؓ کے کارنامے

  

خلیفہ سوم سیدنا حضرت عثمان غنیؓ کے دور خلافت میں سیدنا حضرت امیر معاویہؓ جہاد و فتوحات میں مصروف رہے اور آپؓ نے رومیوں کو شکست فاش دیتے ہوئے طرابلس، الشام، عموریہ، شمشاط، ملطیہ، انطاکیہ، طرطوس، ارواڑ، روڈس اور صقلیہ کو حدود نصرانیت سے نکال کر اسلامی سلطنت میں داخل کر دیے.... سیدنا حضرت امیر معاویہؓ ان علاقوں کی فتوحات کے بعد اب یہ چاہتے تھے کہ اسلام ایک آفاقی اور عالمگیر مذہب ہے اس کو اب سمندر پار یورپ میں داخل ہونا چاہیے ”فتح قبرص“ کی خواہش آپؓ کے دل میں مچل رہی تھی یورپ و افریقہ پر حملہ اور فتح کے لیے بحری بیڑے کی اشد ضرورت تھی۔

”بحر روم“ میں رومی حکومت کا ایک بہت بڑا بحری مرکز تھا جو کہ شام کے ساحل کے قریب ہونے کے باعث شام کے مسلمانوں کے لیے بہت قریبی خطرہ تھا اسے فتح کیے بغیر شام و مصر کی حفاظت ممکن نہ تھی اس کے علاوہ سرحدی رومی اکثر مسلمانوں سے چھیڑ چھاڑ کرتے ہوئے مسلمانوں کو تنگ کرتے رہتے تھے.... حضرت عثمان غنیؓ کی طرف سے بحری بیڑے کو تیار کرنے کی اجازت ملنے کے بعد حضرت امیر معاویہؓ نے بڑے جوش خروش کے ساتھ بحری بیڑے کی تیاری شروع کر دی اور اپنی اس بحری مہم کا اعلان کر دیا.... جس کے جواب میں جذبہ جہاد سے سرشار مجاہدین اسلام شام کا رخ کرنے لگے.... 28ھ میں آپؓ پوری شان و شوکت، تیاری و طاقت اور اسلامی تاریخ کے پہلے بحری بیڑے کے ساتھ ”بحر روم“ میں اترے لیکن وہاں کے باشندوں نے مسلمانوں کے ساتھ صلح کر لی لیکن بعد میں مسلمانوں کو تنگ کرنے اور بدعہدی کرنے پر سیدنا حضرت امیر معاویہؓ پوری بحری طاقت اور عظیم الشان بحری بیڑے کے ساتھ جس میں تقریباً پانچ سو کے قریب بحری جہاز شامل تھے قبرص (سائپرس) کی طرف روانہ ہوئے اور بڑی بہادری سے لڑتے ہوئے قبرص (سائپرس) کو فتح کر لیا، اس لشکر کے امیر و قائد خود سیدنا حضرت امیر معاویہؓ تھے آپؓ کی قیادت میں اس پہلی بحری لڑائی اور فتح قبرص کے لیے بڑے بڑے جلیل القدر صحابہ کرامؓ جن میں حضرت ابو ایوب انصاریؓ ، حضرت ابوذر غفاریؓ ، حضرت ابودردائؓ ، حضرت عبادہ بن صامتؓ اور حضرت شداد بن اوسؓ سمیت دیگر صحابہ کرامؓ شریک ہوئے.... اس لڑائی میں رومیوں نے بڑے جوش و خروش سے حصہ لیا، تجربہ کار رومی فوجوں اور بحری لڑائی کے ماہر ہونے کے باوجود اس لڑائی میں رومیوں کو بدترین شکست ہوئی اور مسلمانوں کو تاریخی فتح حاصل ہوئی۔

حضور ﷺ نے ”اُمّ حرام“ والی حدیث میں دو اسلامی لشکروں کے بارے میں مغفرت اور جنت کی بشارت و خوشخبری فرمائی ان میں سے ایک وہ لشکر جو سب سے پہلے اسلامی بحری جنگ لڑے گا اور دوسرا وہ لشکر جو قیصر کے شہر (قسطنطنیہ) میں جنگ کرے گا۔

پہلی بشارت سیدنا حضرت عثمان غنیؓ کے دور خلافت میں پوری ہوئی جب سیدنا حضرت امیر معاویہؓ نے سب سے پہلی بحری لڑائی لڑتے ہوئے قبرص (سائپرس) کو فتح کر کے رومیوں کو زبردست شکست دی تھی.... اور دوسری بشارت سیدنا حضرت امیر معاویہؓ کے دور حکومت میں اس وقت پوری ہوئی جب لشکر اسلام نے قیصر کے شہر قسطنطنیہ پر حملہ کر کے اس کو فتح کیا۔

(1) سیدنا حضرت امیر معاویہ نے سب سے پہلا اقامتی ہسپتال دمشق میں قائم کیا۔ (2) سب سے پہلے اسلامی بحریہ قائم کیا، جہاز سازی کے کارخانے بنائے اور دنیا کی سب سے زبردست رومن بحریہ کو شکست دی۔ (3) آب پاشی اور آب نوشی کے لیے دورِ اسلامی میں پہلی نہر کھدوائی۔ (4) ڈاک خانہ کی تنظیم نو کی اور ڈاک کا جدید اور مضبوط نظام قائم کیا۔ (5) سب سے پہلے احکام پر مہر لگانے اور حکم کی نقل دفتر میں محفوظ رکھنے کا طریقہ ایجاد کیا۔ (6) آپؓ سے پہلے خانہ کعبہ پر غلافوں کے اوپر ہی غلاف چڑھائے جاتے تھے۔ آپؓ نے پرانے غلاف کو اتار کر نیا غلاف چڑھانے کا حکم دیا۔ (7) خط دیوانی ایجاد کیا اور رقوم کو الفاظ کی صورت میں لکھنے کا طریقہ پیدا کیا۔ (8) انتظامیہ کو بلند تر بنایا اور انتظامیہ کو عدلیہ میں مداخلت سے روک دیا۔ (9) آپؓ نے دین اخلاق اور قانون کی طرح طب اور علم الجراحت کی تعلیم کا انتظام بھی کیا۔ (10) آپؓ نے بیت المال سے تجارتی قرضے بغیر اشتراک نفع یا سود کے جاری کر کے تجارت و صنعت کو فروغ دیا اور بین الاقوامی معاہدے کیے۔ (11) سرحدوں کی حفاظت کے لیے قدیم قلعوں کی مرمت کر کے اور چند نئے قلعے تعمیر کرا کر اس میں مستقل فوجیں متعین کیں۔ (12) سیدنا حضرت امیر معاویہؓ کے دور میں ہی سب سے پہلے منجنیق کا استعمال کیا گیا (تاریخ اسلام از اکبر شاہ خان نجیب آبادی)  ٭

مزید :

کالم -