ایک نیا تماشا.... اھلاً و سہل

ایک نیا تماشا.... اھلاً و سہل
ایک نیا تماشا.... اھلاً و سہل

  

اً

گزشتہ کئی ہفتوں سے اس قدر نئے تاریخی واقعات رونما ہو رہے ہیں اور نت نئے تاریخی ریکارڈ بن رہے ہیں کہ تاریخ کو مجبوراً ہمارے ہاں "Over stay" کرنا پڑ رہا ہے۔ منتخب وزیراعظم کے طور پر سید یوسف رضا گیلانی نے طویل ترین مدت کا ریکارڈ قائم کر دیا ہے۔ ایک ہی حکومت نے پانچویں بار بجٹ پیش کر کے ایک نیا ریکارڈ بنا ڈالا۔ مسلم لیگ (ن) کو حکومت کی یک طرفہ ریکارڈ بنانے کی یہ روش دیکھ کر مجبوراً میدانِ عمل میں اُترنا پڑا۔ قومی اسمبلی میں مارکٹائی اور دھینگا مشتی کا انہوں نے بھی ایک نیا تاریخی ریکارڈ بنا دیا.... اور اب سپریم کورٹ میں ایک نیا ریکارڈ بن رہا ہے۔ انتہائی مہارت سے پھیلائی ان کہانیوں کو پیشہ ورانہ کمال سے زبان دینے والے شاید یہ توقع کر رہے تھے کہ سانپ سیڑھی کا یہ نیا کھیل شروع کرنے میں انہیں دقت ہوگی، لیکن اللہ بھلا کرے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کا، جنہوں نے سنی سنائی کہانیوں پر نیا دبستان تخلیق کرنے والوں کو عدالتی کٹہرے میں لاکھڑا کیا۔ فریب، سازش اور لالچ کی اس کتھا میں جو تانے بانے بُنے گئے ہیں، آنے والے دنوں میں یہ گرہیں کھلیں گی تو اندازہ ہو پائے گا کہ اصل کہانی کار کون ہے؟.... اصل ہیرو کون ہے اور ولن کون؟.... مظلوم کون اور مضروب کون؟.... اب تک جو معلومات سامنے آئی ہیں۔ ان سے ایک سنگین واردات کی نشان دہی ضرور ہوئی ہے۔ حقائق کی پوٹلی کھلی ہے، نہ سراغ کی۔ ابتدائی اطلاعات ہیں۔ کچھ کچی کچھ پکی، جو کچھ سامنے آیا ہے، ایک ہی ماخذ سے سامنے آیا ہے۔ وہ بھی اس کے چنیدہ صحافیوں اور اینکر پرسنز کے ذریعے .... اب بات چل نکلی ہے تو بات چلانے والوں کا اس پر ملکیتی حق ختم ہوا۔ اب دیکھیں ”سرگوشیوں سے نکلی، کوٹھوں پر چڑھی“ یہ بات کہاں تک پہنچے۔آنے والے کئی ہفتے، بلکہ مہینے اب اسی قضیے کی نذر سمجھیں۔ جن بے شمار قضیوں میں اب تک ملک کی جان اٹکی ہوئی تھی اور ہے، وہ اب نظارئہ خلقِ خدا اور میڈیا سے اوجھل ہی رہیں گے۔ سزا یافتہ وزیراعظم کا حق حکمرانی، نیٹو سپلائی کی بندش اور بحالی، بجٹ کے ساتھ یہ مژدہ بھی کہ آئی ایم ایف کے پاس پھر سے جانا ٹھہر گیا ہے۔ بجلی کی لوڈشیڈنگ کا آسان حل دریافت ہوگیا۔ سوئچ نوید قمر کے غلط ہاتھوں سے احمد مختار کے صحیح ہاتھوں میں آگیا ہے۔ لیون پنیٹا کی تنبیہ کہ امریکہ کا حوصلہ جواب دے رہا ہے.... لیجئے چشم زدن میں منظر ہی تبدیل ہوگیا ہے۔ تماش بینی اور سکینڈل کی اشتہا کی ہمارے ہاں ہمیشہ ہی فراوانی رہی ہے۔ حالیہ سالوں میں میڈیا نے اس اشتہا کا ریموٹ کنٹرول اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے۔ بریکنگ نیوز کے مسلسل جھٹکوں سے وہ چند ہی دنوں میں قوم کو دیوانگی میں مبتلا کرنے پر قادر ہیں۔ نادیدہ ہاتھ اور طاقت میں بدمست کردار اپنی مرضی کے موضوعات، ٹائمنگ اور دورانیے کا انتخاب کرتے ہیں۔ دور کیا جانا میمو سکینڈل میں ایک کاغذ کے پُرزے سے کیا کیا تماشے نہ بنے، کون کون سے وردی پوش اور سادہ پوش اس پُرزے کے اسرار و رموز آشکار کرنے کے لئے مرے جا رہے تھے۔ گزشتہ دنوں جب میمو سکینڈل کمیشن نے اپنی رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کی، تو میڈیا کی دلچسپی سکڑ کر دو کالمی سرخی تک رہ گئی، لیکن قوم پر پانچ چھ ماہ دیوانگی کا عالم طاری رہا، لیکن اب یہ عالم ہے کہ رات گئی بات گئی۔ اب نیا تماشا، ایک نئی دیوانگی....سکینڈل میں کئی عالی دماغ روبہ عمل تھے، لیکن اب تو دور افتادہ دیہات سے دو لڑکے بھی ایک کہانی گھڑنے پر قادر اور میڈیا کو اس کہانی کے فریب میں پھانسنے میں کامیاب ہوئے۔ ضلع کوہستان میں پانچ لڑکیوں کے مبینہ قتل نے عدلیہ، میڈیا، این جی اوز اور عوام کو تگنی کا ناچ نچائے رکھا۔ پردہ گرا تو بھید کھلا کہ یہ ڈرامہ تھا۔ دو بھائیوں نے امریکی ویزے کے لئے سکرپٹ لکھا۔ تماشے کی اشتہا دیکھئے کہ تمام ادارے اور ملک اس سکرپٹ پر پل پڑے۔ بھید کھلنے پر کوئی شرمندہ ہوا، نہ کہانی کار بھائیوں کو فراڈ میں مطلوب کیا۔ اب ایک نیا تماشا سامنے ہے۔ سکرپٹ بھی نیا، کردار بھی من بھاتے، موضوع بھی سنسنی خیز، پیش منظر بھی خواب ناک.... کون نہ مر جائے ایسے سکرپٹ پر.... اس قضیے سے یقیناً ڈاکٹر ارسلان اور ملک ریاض کی نجی اور کاروباری دنیا کے رنگ ڈھنگ سامنے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ملک ریاض، میڈیا مالکان اور چنیدہ اینکر پرسنز کے خصوصی رشتوں کی کہانی بھی سامنے آئی ہے۔ ملک ریاض کے ساتھ ریٹائرڈ جرنیلوں، سیاست دانوں اور افسر شاہی کے تعلقات کی کہانیوں پر انگلیاں اُٹھنا قدرتی امر تھا، لیکن میڈیا ہاو¿سز کے مالکان ، اینکر پرسنز اور کالم کاروں کی ملک ریاض کے پنجرے میں ایسی کون سی مجبوری مقید تھی کہ وہ میڈیا کا بادشاہ گر تھا۔ کہانیاں تو یہ بھی ہیں کہ کچھ اینکرز کو دُبئی میں ملک ریاض کے طفیل گھر تحفے میں ملا۔ کچھ پر پلاٹوں کی بارش ہوئی اور کچھ مہنگی گاڑیوں سے نوازے گئے۔ دوسروں کے گریبانوں کو تار تار کر نے کے شیدائی یہ فدائین لگے ہاتھوں اپنے گریبانوں کے کچھ تار سامنے لے آتے تو ہم عوام کو بھی ان فدائین کے کچھ تانے بانے جاننے کا موقع ملتا۔ کچھ میڈیا ہاو¿سز اور اینکر پرسنز نے خود راستی کا عمامہ زیب تن کر رکھا ہے، جن کی تردامنی سے ہم جیسے خشوع و خضوع کا وضو کر کے دین و دنیا میں انقلاب کے خواب دیکھنے میں مست رہتے ہیں۔ ان کہانیوں نے ہم جیسے سادہ لوگوں کی عقیدت میں کئی دراڑیں ڈال دی ہیں، لیکن کیا کریں، دوسروں کے گریبانوں سے کھیلنے کے عادی اپنے گریبان کو ایک بار پھر صاف بچالے گئے ہیں۔ اب پروگراموں کا رُخ سازشوں کی طرف موڑ کر ایک بار پھر انہوں نے ان کہانیوں اور رشتوں کو طے شدہ حق پرستی کے ڈھیر تلے دفن کر کے اپنا دامن بچا لیا ہے۔اس قضیے سے ایک بار پھر ہماری ازلی کمزوری سامنے آئی ہے کہ کمزور اداروں، کمزور تر حکمرانی، لالچ، حسد اور طاقت کی موجودگی میں یہی کچھ ہو سکتا ہے جو ہو رہا ہے۔ مہذب معاشروں میں ادارے، قوانین اور بے لاگ انصاف ان سفلی جذبوں کو لگام ڈالے رکھتا ہے، لیکن ہمارے موجودہ ماحول میں آئین سے لے کر ٹریفک قانون تک طاقتور کی جوتی بنا رہا ، سو اندھیروں کی فصل بونے کے بعد اب کسی سے کیا گلہ کرنا۔ جب حکمران، سیاست دان بیورو کریٹ، ریٹائرڈ جرنیل اور میڈیا اپنے مفادات کے آگے بے بس ہوں تو کوئی بھی طاقتور اور دولت مند مہم جو اپنی مرضی کا تماشا لگا سکتا ہے، بلکہ کئی صورتوں میں تو فقط شاطر ذہن ہی کافی ہے۔ بس منصور اعجاز کا سا حوصلہ چاہئے، یا کوہستان کے نوجوان کا سا ذہن رسا۔ میڈیا تماشا سجانے کو حاضر ہے اور عوام میڈیا سے دو ہاتھ آگے۔ عوام کی آنکھیں اندھی ہونے کو ہیں، خواب بوسیدہ ہو چکے ہیں ، لیکن تماشا ہے کہ بدلتا ہی نہیں.... بے تکان جاری ہے۔

مزید :

کالم -