پاکستان پر امریکی ڈرون حملے (آخری قسط)

پاکستان پر امریکی ڈرون حملے (آخری قسط)

پاکستان پر امریکی ڈرون حملے (آخری قسط)

پاکستان پر امریکی ڈرون حملے (آخری قسط)

  

امریکا کے ڈرون حملوں کے جارحانہ اقدام کو پشاور ہائی کورٹ کے اس تاریخی فیصلے کی روشنی میں دیکھنا ضروری ہے جو 9مئی 2013ءکو دیا گیا ہے۔ اس میں عدالت نے صاف الفاظ میں کہا ہے کہ:

۱۔ڈرون حملے جو قبائلی علاقوں (فاٹا) خصوصاً شمالی اور جنوبی وزیرستان میں سی آئی اے اور امریکی انتظامیہ کر رہی ہے، بنیادی انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہیں اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور یو این جنرل اسمبلی کی متفقہ طور پر منظور کردہ قرارداد اور جنیوا کنونشن سب کے خلاف ہیں، لہٰذا اس کو جنگی جرم قرار دیا جاتا ہے جو عالمی عدالت انصاف یا جنگی جرائم کے خصوصی ٹربیونل ، جو اقوامِ متحدہ نے اس مقصد کے لیے قائم کیا ہو یا قائم کرے، کی حدود میں آتا ہے۔

۲۔ ڈرون حملے جو ان مٹھی بھر مبینہ عسکریت پسندوں کے خلاف کیے جائیں جو امریکی حکومت، حکام یا افواج سے حالتِ جنگ میں نہیں ہیں، اس موضوع پر بین الاقوامی کنونشن اور ضوابط کی خلاف ورزی کے مترادف ہیں۔ اس لیے یہ قرار دیا جاتا ہے کہ یہ ک±لی طور پر غیرقانونی ہیں اور ریاست پاکستان کی خودمختاری کی صریح خلاف ورزی ہیں، کیونکہ اس کی حدود اور فضائی حدود میں اس کی اجازت کے بغیر بلکہ اس کی مرضی کے خلاف باربار مداخلت کی جاتی ہے۔ اس پر امریکا سے حکومت پاکستان کے احتجاج کے باوجود، اس کی اجازت کے بغیر اور مرضی کے خلاف یہ حملے برابر جاری ہیں۔

۳۔ شہری ہلاکتیں جیساکہ ا±وپر بتایا گیا بشمول املاک، مویشی، جنگلی حیات اور ننھے بچے، دودھ پیتے بچے، خواتین اور چھوٹے بچوں کا قتل امریکی حکام بشمول سی آئی اے کا ناقابلِ معافی جرم ہے، اور عدالت یہی قرار دیتی ہے۔

۴۔شہری ہلاکتوں، جائیداد اور مویشیوں کو پہنچنے والے نقصان کی، ثابت شدہ حقائق اور اعدادوشمار کے پیش نظر، امریکا متاثرین کی امریکی ڈالروں میں مقررہ شرح کے مطابق تلافی کرنے کا پابند ہے۔

۵۔ حکومت پاکستان اور اس کی سیکورٹی فورسز یہ یقینی بنائیں گی کہ مستقبل میں ایسے ڈرون حملے پاکستان کی خودمختار حدود میں نہ کیے جائیں۔ اس حوالے سے مناسب تنبیہ کردی جائے اور اگر یہ نتیجہ خیز نہ ہو تو حکومت پاکستان اور ریاستی ادارے خصوصاً سیکورٹی فورسز کو یہ حق حاصل ہوگا کہ دستوری اور قانونی تقاضوں کے تحت پاکستان کی فضائی حدود میں داخل ہونے والے ڈرون کو گرا دیں۔

۶۔ حکومت پاکستان کو ہدایت کی جاتی ہے کہ اس معاملے کو سنجیدگی سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں لے جائے اور اگر وہاں کامیابی نہ ہو اور امریکی حکام بغیرجواز ویٹو پاور استعمال کریں تو جنرل اسمبلی کا ہنگامی اجلاس طلب کیا جائے تاکہ اس خطرناک مسئلے کا مو¿ثرانداز سے حل ہوسکے۔

۷۔ حکومت پاکستان ایک مناسب شکایت درج کرائے گی جس میں ڈرون حملوں سے پاکستان کے شہریوں کے جان و مال کا جو نقصان ہوا ہے، اس کی مکمل تفصیل ہوگی۔ اس میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو کہا جائے گا کہ ایک آزاد وار کرائم ٹربیونل قائم کرے جس کا یہ مینڈیٹ ہو کہ تمام معاملات کی تحقیق و تفتیش کرے اور یہ حتمی فیصلہ دے کہ آیا یہ جنگی جرم کے مترادف ہے یا نہیں۔ پہلی صورت میں امریکی حکومت یا حکام کو ہدایت کرے کہ پاکستان کی فضائی حدود اور علاقے میں ڈرون حملے فوری طور پر روک دے، اور فوری طور پر متاثرہ خاندانوں کی عالمی معیارات کے مطابق مقررہ شرح اور تناسب کے مطابق جان و مال کی تلافی کی جائے۔

۸۔ وزارتِ خارجہ کو ہدایت کی جاتی ہے کہ مناسب قرارداد، اپیل اور ریکوزیشن کے لیے عدالت کی دی ہوئی ہدایات کے خطوط کی روشنی میں کم سے کم ممکنہ وقت میں تیاری کرے اور ساتھ ہی سلامتی کونسل سے یا جنرل اسمبلی سے (جو بھی صورت ہو) یہ مطالبہ کیا جائے کہ ایک قرارداد کے ذریعے سی آئی اے اور امریکی حکام کی یو این چارٹر اور یواین کے دیگر مختلف ضابطوں اور روایات کی خلاف ورزی کرنے پر ڈرون حملوں کی مذمت کرے، جیساکہ پہلے بیان کیا گیا ہے۔

۹۔ اس صورت میں کہ امریکی حکام اقوام متحدہ کی قرارداد کی تعمیل نہ کریں، خواہ یہ سلامتی کونسل نے منظور کی ہو یا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے، حکومت پاکستان ایک احتجاج کے طور پر امریکا سے ہرطرح کے تعلقات ختم کردے گی اور بطور احتجاج امریکا کو کسی بھی طرح کی لاجسٹک سہولیات فراہم نہیں کرے گی۔

ہمیں افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ تو بالکل واضح اور دستور، عالمی قانون اور پاکستان کے مفادات کے عین مطابق ہے لیکن اسے ملک کے میڈیا اور سیاسی قوتوں نے قرارِ واقعی اہمیت نہیں دی۔ عبرت کا مقام ہے کہ جس ملک پر یہ حملے ہورہے ہیں اور جس کی حاکمیت اور عزت کو یوں پامال کیا جا رہا ہے وہاں تو بات صرف تحفظات کی ہے لیکن خود امریکا کا ایک معروف کالم نگار کلائیو اسٹین فورڈ اسمتھ دی گارڈین لندن کی21مئی 2013ءکی اشاعت میں عدالت کے اس فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے چیف جسٹس کے احکام کی مکمل تائید کرتا ہے اور امریکا کو شرم دلاتا ہے___ یہ اور بات ہے کہ پاکستانی حکمرانوں کا حال یہ ہے کہ ”شرم تم کو مگر نہیں آتی“۔

وہ لکھتا ہے:

پھر وہ ایک بالکل سامنے کی بات کہتے ہیں۔ پاکستانی افواج کا اوّلین فریضہ اپنے شہریوں کاتحفظ ہونا چاہیے۔ سیکورٹی فورسز کو یہ یقینی بنانا چاہیے کہ مستقبل میں اس نوعیت کے ڈرون حملے پاکستان کی خودمختار حدود میں نہیں کیے جائیں گے۔ پھر پہلے قدم پر ہی شوٹ کرنے کے بجاے، حکومت کو ’مناسب انتباہ‘ دینے کی ہدایت دی جاتی ہے لیکن اگر اس کا کوئی نتیجہ برآمد نہ ہو تو پاکستان کی فضائیہ کو ڈرون طیارے فوراً گرا دینے چاہئیں۔

گو، کہ مَیں خود ایک امریکی ہوں، اس ناخوش گوار صورت حال کے بارے میں استدلال کرنا بے حد مشکل ہوتا ہے۔ اگر ایسا ہو کہ پاکستان سے کوئی بے پائلٹ ڈرونز کے ذریعے ٹیکساس میں دہشت گردی کرے تو میں یہ ا±مید کروں گا کہ اوباما فوراً ہی فوجی طیارے بھیجے۔

یہ عدالتی فیصلہ ک±ل کا ک±ل جمہوریت اور قانون کی حکمرانی سے بحث کرتا ہے۔ امریکا 200برس سے زائد سے اپنے آپ کو ان نظریات کے علَم بردار کے طور پر پیش کرتا رہا ہے۔ یہ بڑی شرم کی بات ہے کہ سی آئی اے کی ڈرون حملوں کی خفیہ مہم دونوں نظریات سے ب±عد کی مظہر ہے اور گوانتاناموبے اور ابوغریب جیسے سابقہ المیوں کو آگے بڑھاتی ہے۔

بات بہت واضح ہے۔ پاکستان کی آزادی اور حاکمیت پر مسلسل حملے ہورہے ہیں، اور امریکا ہمارے خلاف اقدامِ جنگ کا مرتکب ہوا ہے۔ پاکستانی عوام ہرسطح پر اس اقدام کو فوری طور پر رکوانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ پارلیمنٹ تین قراردادوں کی شکل میں انھیں حاکمیت پر حملہ قرار دے چکی ہے اور حکومت سے مطالبہ کر رہی ہے کہ ان حملوں کو رکوانے کے لیے ہرممکن اقدام کرے۔

انتخابات میں عوام نے ایک بار پھر اپنا فیصلہ دے دیا ہے۔ اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ عدالت عالیہ کے فیصلے نے دو اور دو چار کی طرح متعین کردیا ہے کہ حکومت اور قوم کو ان حالات میں کیا کرنا ہے۔ اب محترم میاں نواز شریف کا امتحان ہے اور ان کے لیے اس کے سوا کوئی راستہ نہیں کہ حلف برداری کے بعد تقریر میں صاف الفاظ میں اعلان کردیں کہ یہ حملے کسی شکل میں بھی قابلِ قبول نہیں۔ اگر امریکا پاکستان کے ساتھ دوستی کا رشتہ رکھنا چاہتا ہے تو اسے ان کو فی الفور بند کرنا ہوگا۔

ایک گروہ میاں صاحب کو ابھی سے یہ سبق پڑھا رہا ہے کہ اصل مسئلہ معاشی اور انرجی کے بحران کا ہے۔ بلاشبہہ معاشی مسئلہ اور انرجی کا یہ بحران اہم ہیں لیکن آزادی، حاکمیت اور سالمیت پر حملوں سے زیادہ نہیں۔ اور اگر دقتِ نظر سے دیکھا جائے تو معاشی بحران کے پیدا کرنے میں امریکا کی اس ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ میں ہماری شرکت نے ایک اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس کی وجہ سے صرف معاشی میدان میں سرکاری تخمینے کے مطابق11سال میں97بلین ڈالر کا نقصان ہوچکا ہے اور تباہی کا یہ سفر جاری ہے۔ معیشت کی اصلاح اور بحالی اور آزادی اور حاکمیت کے تحفظ کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ یہ الگ الگ شعبے نہیں ہیں۔ آج میاں نواز شریف جس صورت حال سے دوچار ہیں وہ مئی 1998ئسے مختلف نہیں ہے۔ اس وقت امریکا ایٹمی دھماکے روکنے پر مصر تھا اور رشوت اور دھمکی دونوں حربے استعمال کر رہا تھا لیکن ملک و قوم نے وہی فیصلہ کیا جو آزادی اور حاکمیت کا تقاضا تھا، خواہ اس کے معاشی اثرات منفی ہی کیوں نہ ہوں اور ہوئے، لیکن تھوڑے ہی عرصے میں معاشی حالات تبدیل ہوگئے لیکن جو تحفظ اور دفاعی قوت حاصل ہوئی وہ ملک کی زندگی اور سلامتی کی ضامن بن گئی۔ آج پھر ایک تاریخی موقع ہے، ذلت اور محکومی کی ان بیڑیوں کو کاٹ پھینکا جائے اور آزادی، حاکمیت اور عزت و وقار کی حفاظت کے راستے کو اختیار کیا جائے۔ یہ ایک تاریخی موقع ہے اور پہلا اور آخری موقع ہے۔ معاملہ محض تحفظات کا نہیں ہے، دوٹوک فیصلہ آج وقت کی ضرورت ہے۔ جماعت اسلامی اور دوسری دینی جماعتیں پہلے دن سے مضبوطی کے ساتھ اس موقف پر مصر ہیں اور اب تحریکِ انصاف بھی، مسلم لیگ کے ووٹر اور ان سب پر مستزاد پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ جسے عدالتی حکم کی حیثیت حاصل ہے، ان سب کا تقاضا ہے کہ پاکستان کے موقف کو دوٹوک انداز میں امریکا اور پوری دنیا کے سامنے واضح کردیا جائے کہ ڈرون حملے ہماری حاکمیت کی خلاف ورزی ہیں اور ناقابلِ قبول ہیں۔ اس پر کسی قسم کا سمجھوتا ممکن نہیں ہے۔

اگر اس موقع پر نئی حکمت عملی کا جرا¿ت کے ساتھ اعلان نہ ہوا تو پھر یہ موقع دوبارہ نہیں آئے گا۔ ہمارا مخلصانہ مشورہ ہے کہ میاں نوازشریف صاحب اس موقعے پر اپنی دینی اور ملّی ذمہ ادارکریں اور پاکستان اور امریکا کے تعلقات میں ذلت اور محکومی کے اس باب کو بند کریں، اور عزت اور برابری کی بنیاد پر نئے باب کے آغاز کا راستہ اختیار کریں اور تاریخ کا یہ سبق سامنے رکھیں کہ ع

یک لحظہ غافل بودم و صدسالہ راہم دور شد

مزید :

کالم -