بھارتی حکومت کا پناہ گزینوں کو جموں و کشمیر میں بسانے کا فیصلہ سازش ہے، علی گیلانی

بھارتی حکومت کا پناہ گزینوں کو جموں و کشمیر میں بسانے کا فیصلہ سازش ہے، علی ...

سرینگر(آن لائن)کل جماعتی حریت کانفرنس گروپ کے چیئرمین سید علی گیلانی نے پاکستانی پناہ گزینوں کو سٹیٹ سبجیکٹ قرار دیئے جانے کے بھارتی حکومت کے منصوبے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ جموں و کشمیر کی ڈیمو گرافی تبدیل کرنے کی سازش ہے ۔کشمیر ایک متنازعہ علاقہ ہے اور پاکستان سے آئے ہوئے پناہ گزینوں کو یہاں مستقل آباد کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے ۔حیدر پورہ میں2010 ہلاکتوں سے متعلق بلائے گئے مجوزہ سیمینار پر پابندی لگائے جانے کے بعد چیئرمین حریت رہنما سید علی گیلانی پولیس کا حصار توڑ کر گھر سے باہر نکل آئے ۔نے ائیر پورٹ پر احتجاجاً آدھے گھنٹے تک دھرنا دیا۔ دھرنے میں متعدد حریت رہنماﺅں نے شرکت کی ۔اس موقع پر اپنے خطاب میں چیئرمین حریت رہنما نے 2010 کی ہلاکتوں کی غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کرانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ابھی تک کوئی ایف آئی آر درج ہوئی ہے نہ ہی کوئی گرفتاری عمل میں لائی گئی ہے۔عمر عبد اللہ نے اگرچہ حال ہی میں ان ہلاکتوں کی تحقیقات کرائے جانے کا عندیہ دیا تھا تاہم وہ اس وقت ایک سراب ثابت ہوا ۔جب حراست میں شہید کئے گئے عمر قیوم کے لواحقین عمر عبد اللہ سے ملنے ان کی رہائش گاہ پر گئے وہاں ان کی بات نہیں سنی گئی اور انہیں زبردستی وہاں سے نکال دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ بھارتی حکومت کا پناہ گزینوں کو جموں و کشمیر میں بسانے کا فیصلہ سازش ہے ۔انہوں نے کہا کہ یہ جموں و کشمیر کی ڈیموگرافی تبدیل کرنے کی سازش ہے اور ہم اس کے خلاف ایک قومی اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کریں گے ۔کشمیر ایک متنازعہ علاقہ ہے اور پاکستان سے آئے ہوئے پناہ گزینوں فوجیوں کو یہاں مستقلاً بسانے کا کوئی جواز نہیں ہے ۔

مزید : عالمی منظر