جرمن ہتھیاروں کی برآمد میں ریکارڈ اضافہ

جرمن ہتھیاروں کی برآمد میں ریکارڈ اضافہ

                                                                                                                                                               برلن(آن لائن) جر منی میں گزشتہ برس ہتھیاروں کی برآمدات میں ریکارڈ اضافہ دیکھنے میں آیا اور ملکی اداروں نے مجموعی طور پر 5.85 بلین یورو کے ہتھیار برآمد کیے۔ 2012ءکے مقابلے میں 2013ءمیں ایسی جرمن برآمدات میں 24 فیصد اضافہ ہوا۔ جر من حکو مت کی طرف سے جا ر ی کر دہ سر کا ری رپو رٹ کے مطا بق جرمنی دنیا بھر میں اسلحہ برآمد کرنے والے تیسرا سب سے بڑا ملک ہے۔ 2013ءکے دوران یورپی یونین اور نیٹو سے باہر کی ریاستوں کو جرمن ساختہ ہتھیاروں کی برآمد میں ریکارڈ اضافہ دیکھنے میں آیا۔ ان برآمدات سے جرمن معیشت کو مجموعی طور پر پانچ ارب 850 ملین یورو کی آمدنی ہوئی۔ گزشتہ برس یہ آمدنی 2012ءکے مقابلے میں 1.14 بلین یورو زیادہ رہی۔ایسا زیادہ تر سعودی عرب، قطر، الجزائر اور انڈونیشیا جیسے ان ممالک کو اسلحے کی فروخت میں واضح اضافے کے باعث ممکن ہوا، جو انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزیوں کی وجہ سے اکثر تنقید کی زد میں رہتے ہیں۔جرمنی 2008ءسے امریکا اور روس کے بعد ہتھیاروں کا تیسرا سب سے بڑا برآمد کنندہ ملک چلا آ رہا ہے۔ ان برآمدات میں مسلسل اضافے کے نتیجے میں حکومت پر تنقید اس لیے زیادہ ہو جائے گی کہ اپوزیشن اور انسانی حقوق کی کئی تنظیموں کی طرف سے برلن میں حکمرانوں پر الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ اسلحے اور گولہ بارود کی تجارت کی صورت ’موت کا کاروبار‘ کر رہے ہیں۔دوسری طرف یہ بھی سچ ہے کہ جرمن ساختہ ٹینکوں، بحریہ کی کشتیوں، مشین گنوں اور دفاعی شعبے کی دیگر مصنوعات کو ان کے اعلیٰ معیار کی وجہ سے بین الاقوامی سطح پر اتنا قابل اعتماد سمجھا جاتا ہے کہ ان کی طلب مسلسل بڑھتی جا رہی ہے۔اس تناظر میں وفاقی وزیر معیشت زیگمار گابریئل نے اس رپورٹ کے اجرائ کے موقع پر وعدہ کیا کہ برلن حکومت مستقبل میں جرمن عوام کو دوسرے ملکوں کے ساتھ ہتھیاروں کی تجارت کے بارے میں زیادہ تواتر سے اور جتنی تفصیل سے ممکن ہوا، باخبر رکھے گی۔اس موقع پر قدامت پسند چانسلر میرکل کی قیادت میں وسیع تر مخلوط حکومت میں شامل سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کے سربراہ اور نائب چانسلر زیگمار گابریئل نے یہ بھی واضح کر دیا کہ جرمن ہتھیاروں کی برآمد برلن کے لیے اس کے بیرونی دنیا کے ساتھ کاروباری روابط کا حصہ نہیں بلکہ یہ برآمدات سلامتی کے شعبے کی جرمن سیاست کا حصہ ہیں اور رہیں گی۔

مزید : عالمی منظر

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...