عراق کے شمالی اور وسطی علاقوں پر عسکریت پسندوں کا قبضہ برقرار

عراق کے شمالی اور وسطی علاقوں پر عسکریت پسندوں کا قبضہ برقرار

                                                                       نےوےارک/ واشنگٹن/ انقرہ/ بغداد(آئی اےن پی )عراق کے شمالی اور وسطی علاقے پر قبضے کے بعد عسکریت پسندوں نے دارالحکومت بغداد کی طرف پیش قدمی شروع کر دی،تےن شہروں پر قبضے کے بعد عراقی فضایہ نے اسلامی انتہاپسند باغیوں کے فضائی کارروائیوں کا آغاز کر دیا ،ترکی نے دھمکی دی ہے کہ موصل میں یرغمال بنائے گئے 49 سفارتکاروں سمیت 80 شہریوں کو نقصان پہنچا تو بھرپور کارروائی کی جائے گی، ترک حکومت کی درخواست پر بلائے گئے نےٹو کے ہنگامی اجلاس مےں سفارتکاروں نے ترکی کی حمایت کرتے ہوئے بھرپورمدد کا اعلان کیاہے۔ادھر اوباما انتظامیہ نے عراقی عسکریت پسندوں کے خلاف ڈرون حملوں سمیت مختلف آپشنز پر غور شرع کر دیا ہے۔غےر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق عراق کے شہروں موصل ،فلوجہ اور تکرےت پر شدت پسندوں کا قبضہ برقرار ہے ، شدت پسندوں کے قبضے کے بعد ہزاروں افراد محفوظ مقامات کی طرف نقل مکانی پر مجبور ہو گئے ہیں۔شدت پسندوں نے دارالحکومت بغداد کی جانب پےش قدمی شروع کردی ہے ۔اس سے قبل موصل اورسابق صدرصدام حسین کے آبائی شہرتکریت پرالقاعدہ نے قبضہ کرکے49 سفارتکاروں سمیت ترکی کے 80 شہریوں کویرغمال بنالیا۔موصل میں یرغمال بنائے جانے والے افراد میں وہاں قائم ترک قونصل خانے کے عملے کے افراد اور ان کے اہلِ خانہ بھی شامل ہیں۔ترک حکام کا کہنا ہے کہ جنگجووں نے بدھ کی صبح موصل میں قائم ترکی کے قونصل خانے پر دھاوا بول کر 49 افراد کو یرغمال بنالیا تھا جن میں قونصل جنرل، ان کے اہلِ خانہ، سفارتی عملے کے اہلکار اور قونصل خانے کی حفاظت پر مامور ترک فوج کے اہلکار شامل ہیں۔ترک وزارتِ خارجہ کے مطابق جنگجو یرغمالیوں کو اپنے ہمراہ شہر کے کسی اور حصے کی طرف لے گئے ہیں۔ یرغمالیوں میں تین بچے بھی شامل ہیں۔اس سے قبل جنگجووں نے منگل کو موصل پر قبضے کے بعد شہر کے ایک بجلی گھر میں موجود 31 ترک ٹرک ڈرائیوروں کو بھی یرغمال بنالیا تھا جو وہاں ایندھن لے کر گئے تھے۔

ترک حکومت نے خبردار کیا ہے کہ اگر یرغمالیوں میں سے کسی کو بھی کوئی نقصان پہنچا تو انقرہ حکومت اس کا سخت ترین جواب دے گی۔صورتِ حال کے جائزے کے لیے ترک وزیرِاعظم رجب طیب اردگان نے صدر عبداللہ گل اور فوج اور انٹیلی جنس کے سربراہان کے ساتھ مشاورت کی ہے جب کہ امریکہ کے نائب صدر جو بائیڈن کو ٹیلی فون کرکے انہیں بھی صورتِ حال سے آگاہ کیا ہے۔ترک وزیر خارجہ احمد اوغلو نے نیٹو کا ہنگامی اجلاس طلب کیااجلاس میں سفارتکاروں نے ترکی کی حمایت کی اور انقرہ کی بھرپورمدد کا اعلان کیا۔ادھر امریکی وزیرخارجہ جان کیری نے عراقی ہم منصب سے ٹیلیفونک رابطہ کیا اورسیکورٹی صورتحال پرمدد کی پیشکش کی۔عراقی حکام نے امریکی صدر اوباما سے عسکریت کے خلاف فضائی حملے کرنے کی درخواست کی ہے۔ ذرائع کے مطابق اوباما انتظامیہ نے عسکریت پسندوں کے خلاف ڈرون حملوں سمیت مختلف آپشنز پر غور شرع کر دیا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان جین ساکی کا کہنا ہے کہ امریکہ چاہتا ہے کہ عسکریت پسندوں کے خلاف مضبوط اور مربوط کارروائی کی جائے۔دوسری جانب ایران نے بھی عراق کو سیکورٹی صورتحال پر کنٹرول کیلئے مدد کی پیشکش کی۔ عراقی وزیراعظم نوری المالکی کا کہنا ہے کہ القاعدہ سے دونوں شہر چھڑالئے جائیں گے۔دوسری جانب اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے عراق میں اسلامی انتہاپسند باغیوں کی پیش قدمی پر تشویش ظاہر کی ہے۔ سلامتی کونسل کے مطابق شمالی عراقی شہر موصل کے بعد تکریت پر سنی انتہاپسند باغیوں کا قبضہ خطے میں عدم استحکام کا باعث بنے گا۔ سلامتی کونسل نے انتہاپسند باغی گروپ اسلامک اسٹیٹ آف عراق اینڈ لیونٹ نامی اس تنظیم سے مطالبہ کیا کہ وہ یرغمال بنائے جانے والے ترک باشندوں کو فوری طور پر رہا کرے۔

مزید : عالمی منظر