اقوام متحدہ کی موصل اور تکریت پرقبضے کی شدید مذمت

اقوام متحدہ کی موصل اور تکریت پرقبضے کی شدید مذمت

                                                            نیو یا رک(آن لائن) اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل نے عراق میں شدت پسندوں کی جانب سے موصل اور تکریت پر حملوں کے بعد قبضہ کرنے کی شدید مذمت کر تے ہو ئے کہا ہے کہ موصل سے پانچ لاکھ افراد کی نقل مکانی کے بعد شہر میں حالات انتہائی خطرناک ہیں غیر ملکی خبر رسا ں ادارے کے مطا بقاقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے اپنے ایک بیا ن کہاہے کہ عالمی برادری کو متحد ہو کر عراق کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرنا چاہیے۔اس سے پہلے عراق میں یونیسیف کے سربراہ مارزیو بابیل کا کہنا تھا کہ موصل میں صورتحال انتہائی پریشان کن ہے۔دریں اثنا وزیرِ اعظم نوری المالکی نے کہا ہے کہ شدت پسندوں کے خلاف لڑنے کی بجائے فرار ہونے والے سکیورٹی اہلکاروں کو سزائیں دی جائیں گی۔ ادھر موصل سے آخری اطلاعات ملنے تک شدت پسندوں کے قبضے کے بعد تقریباً پانچ لاکھ افراد نقل مکانی کر چکے ہیں۔ تکریت بغداد کے شمال میں ڈیڑھ سو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے،موصل پر شدت پسندوں کے قبضے کے بعد عراقی وزیرِ اعظم نے پارلیمان سے وہاں ایمرجنسی نافذ کرنے کی درخواست کی ہے تاکہ انھیں مزید اختیارات مل سکیں۔ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے پارلیمان سے ملک میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا کہا ہے جس سے انھیں مزید اختیارات مل جائیں گے اور وہ کرفیو نافذ کر سکیں گے۔ادھر امریکہ نے کہا ہے کہ موصل سے آنے والے اطلاعات سے ثابت ہو رہا ہے کہ دولتِ اسلامیہ پورے خطے کے لیے خطرہ بن چکی ہے۔امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان جین پساکی کا کہنا ہے کہ موصل کی صورتِ حال ’بہت زیادہ سنگین‘ ہے اور امریکہ چاہتا ہے کہ موصل سے شدت پسندوں کے خلاف مضبوط اور مربوط کارروائی کی جائے

مزید : عالمی منظر