زرعی اجناس کی برآمدات میں رکاوٹوں کو دورکیاجارہاہے: ڈاکٹرفرخ جاوید

زرعی اجناس کی برآمدات میں رکاوٹوں کو دورکیاجارہاہے: ڈاکٹرفرخ جاوید

لاہور(کامرس رپورٹر)حکومت زرعی اجناس خصوصاً چاول اور آم کی پیداوار کو عالمی معیار کے مطابق بنانے اور برآمدمیں حائل روکاوٹوں کو دور کرنے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کر رہی ہے۔ یہ بات وزیر زراعت پنجاب ڈاکٹر فرخ جاوید نے زراعت ہاﺅس لاہور میں چاول کی پیداوار میں زرعی ادویات کی باقیات کے خاتمہ اور برآمد میں اضافہ کے لئے منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔ اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل زراعت (توسیع) پنجاب ڈاکٹر انجم علی، ڈائریکٹر جنرل زراعت (پیسٹ وارننگ) پنجاب ملک محمد فیاض، وفاقی محکمہ پلانٹ پروٹیکشن سے ڈاکٹر محمد اشفاق کے علاوہ رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے نمائندوں اور محکمہ زراعت کے افسران نے شرکت کی۔ چاول برآمد کنندگان کے نمائندوں نے وزیر زراعت کو بتایا کہ چاول میں زرعی باقیات (Residue)کی موجودگی کی وجہ سے پاکستانی چاول کی برآمد متاثر ہو رہی ہے لہٰذا اس کے فوری حل اور کاشتکاروں کی رہنمائی کے لئے فوری اقدامات کئے جائیں۔

ڈاکٹر فرخ جاوید نے رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے نمائندوں کو ہدایت کی کہ وہ ایسے کاشتکاروں کی فہرست فراہم کریں جن کے چاول خرید کر وہ ایکسپورٹ کرنا چاہتے ہیں تاکہ محکمہ زراعت کی طرف سے خصوصی طور پر ایسے کاشتکاروں کو دھان کی بیماریوں و کیڑوں سے حفاظت کے سلسلہ میں مکمل تربیت و آگاہی فراہم کی جا سکے ۔وزیر زراعت نے ہدایت کی کہ تمام سٹیک ہولڈرز بشمول محکمہ زراعت اوررائس ایکپسورٹ ایسوسی ایشن پاکستان زرعی ادویات کی باقیات سے پاک چاول کی پیداوار کے حصول کے لیے کاشتکاروں کی بروقت راہنمائی اور مدد کریں ۔انہوں نے محکمہ زراعت کے افسران اور چاول کے برآمد کنندگان کے نمائندوں پر مشتمل ایک بورڈ بنانے کا اعلان بھی کیاجو دھان کی فصل کی بیماریوں اور نقصان دہ کیڑوں کے بروقت تدارک کے لیے ماحول دوست زرعی زہروں کے استعمال کو یقینی بنانے نیز زرعی ادویات کی باقیات کے اثرات سے پاک چاول کی پیداوار اور برآمد میں اضافہ کے لیے اپنا کردار ادا کرے گا۔ ڈاکٹر انجم علی نے اجلاس کو بتایا کہ محکمہ زراعت کی طرف سے بروقت رہنمائی اور کاشتکاروں کی طرف سے سفارشات پربروقت عمل کی وجہ سے دھان کی فصل پر بوررزکے حملہ کا کوئی مسئلہ نہیں ہے ۔ اجلاس میں چاول میں زرعی ادویات کی باقیات کی ٹیسٹنگ و مانیٹرنگ کے نظام کو زیادہ موثر بنانے کے لیے سہولتوں کا جائزہ لیا گیا ۔

مزید : کامرس