رمضان : مسلمان فٹ بالرز کیلئے کھیل اور مذہب میں توازن رکھنا مشکل

رمضان : مسلمان فٹ بالرز کیلئے کھیل اور مذہب میں توازن رکھنا مشکل


ساؤپالو( نیٹ نیوز) ورلڈ کپ فٹبال کے دوسرے راؤنڈ کے آغاز کے ساتھ ہی رمضان بھی شرو ع ہوجائے گا۔ ممکنہ طور پر 28 جون کو پہلا روزہ ہوگا۔ کہا جار ہا ہے کہ دنیا کے کئی ٹاپ فٹ بالرز کی کارکردگی ماہ صیام میں روزوں کے سبب متاثر ہوسکتی ہے۔ 1986 کے بعد پہلا موقع ہے کہ ورلڈ کپ کے میچز رمضان بھی کھیلے جائیں گے۔ کئی ٹیموں میں مسلم اسٹار شامل ہیں جبکہ ایران اور الجزائر کی ٹیموں میں تمام پلیئرز مسلمان ہیں۔ البتہ رمضان سے جرمن، فرنچ اور آئیوری کوسٹ متاثر ہوسکتی ہیں کیوں کہ یہ ٹیمیں دوسرے مرحلے تک کوالیفائی کرسکتی ہیں۔ مبصرین کا خیال ہے کہ فرانس کے ٹاپ پلیئر کریم بن زیما، ماموڈو ساخو، باقری ساگنا اور موسٰی سسوکو، سوئٹرز لینڈ کے شرڈان شقیری ، جرمنی کے میسوت اوزل، سامی خضیرہ اور آئیوری کوسٹ کوسٹ کے یحیٰ طورے اور ان کے بھائی کولو طورے،بیلجیم کے مارونائے فیلانی اور موسیٰ ڈیمبلے جیسے پلیئرز کے لیے مشکل ہوگا کہ وہ مذہبی فرائض اور کھیل میں کس طرح توازن پیدا کرتے ہیں۔

مزید : کھیل اور کھلاڑی

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...