کیا بات ہے۔۔۔!

کیا بات ہے۔۔۔!
کیا بات ہے۔۔۔!

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

سی این جی سٹیشن کے سامنے گاڑیوں کی لمبی لائنیں لگی ہوئی تھیں۔ ٹوٹے پھوٹے رکشے سے لے کر پیجیرو تک ڈرائیور سی این جی کے حصول کے لئے گھنٹوں سڑک کنارے کھڑے گرمی کی شدت سے بے حال ہو رہے تھے ۔اچانک ایک سر پھرا شخص پیجرو گاڑی کے سامنے آیا اور مالک سے بولا: ’’ شرم کرو چالیس لاکھ کی گاڑی ہے اور پچھلے کئی گھنٹوں سے چند ٹکے بچانے کے لئے لائین میں کھڑے ہو‘‘۔۔۔پیجرو کے مالک کو یہ بات انتہائی ناگوار گزری ۔اس نے بھی سنانا شروع کر دیں اور دیکھتے ہی دیکھتے سڑک پر میدان جنگ سج گیا ۔سی این جی کا حصول کتنا مشکل ہے ،اس کا اندازہ وہی کر سکتا ہے جو لائین میں کھڑا ہو ۔سنا ہے کہ بعض لوگ نماز کے لئیے اتنی جلدی نہیں اٹھتے، جتنی جلدی سی این جی بھروانے کے لئے سی این جی سٹیشن پر پہنچ جاتے ہیں ۔ ہمارے ایک دوست ہیں جو ویسے تو حاتم طائی کی قبر کو لات مارتے ہیں ،لیکن سی این جی بھروانے کے لئے رات کو ہی گاڑی پٹرول پمپ پر کھڑی کر دیتے ہیں اور جب سی این جی مل جاتی ہے تو پھر تمام غیر ضروری کام بھی بڑی خوشی سے کرتے ہیں،حالانکہ ایسا کرنے میں اپنا وقت تو وہ ضائع کرتے ہی ہیں، قومی وسائل کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں۔

اکثر اوقات دیکھا گیا ہے کہ کسی سڑک پر معمولی سی رکاوٹ بھی ہو تو آنے والی گاڑیوں میں سوار ایک منٹ کا انتظار کرنا گوارا نہیں کرتے اور پیچھے سے ہی یو ٹرن لے کر، چاہے بڑا چکر لگانا پڑے راستہ اختیار کر لیتے ہیں،جبکہ سی این جی بھروانے کے لئے وہ انتہائی سکون سے کئی گھنٹے گزار دیتے ہیں ۔ٹھیک ہے کہ سی این جی کی قیمت پٹرول کی نسبت کم ہے، لیکن لوگ جس شدت سے انتظار کرتے ہیں لگتا ہے، جیسے سی این جی انہیں مفت مل رہی ہے ۔سرکاری ملازم جو دفتر جانے کے ٹائم کی کبھی پروا نہیں کرتے ،سی این جی بھروانے کے لئے جس طرح وہ وقت کی پابندی کرتے ہیں، انہیں دیکھ کر اپنی گھڑی کا ٹائم ٹھیک کیا جا سکتا ہے ۔سی این جی سٹیشن کے سامنے منظر دیکھ کر سمجھ نہیں آتی کہ یہ لوگ پیسے بچا رہے ہیں۔یا ۔وقت ؟

ویسے بھی ہماری قوم کا مزاج عجیب و غریب ہے ،سارا دن لوڈ شیڈنگ کا رونا روتے ہیں ۔جب لائٹ ہوتی ہے تو کبھی نہیں دیکھا کہ گھر کی کتنی لائٹیں اور پنکھے اضافی چل رہے ہیں؟توانائی کے بحران کے خاتمے کے حوالے سے ساری کوششیں اپنی جگہ ! اگر وطن عزیز کا ہر گھر یہ فیصلہ کر لے کہ آج کے بعد ہم اپنے گھر میں بجلی کے استعمال میں نصف تک کمی لائیں گے تو دیکھتے ہی دیکھتے لوڈ شیڈنگ کا مسئلہ ختم ہو سکتا ہے،لیکن ایسی سوچ کہاں ؟۔۔۔ہم لوگ تو ماچس کی ایک تیلی بچانے کے لئے سوئی گیس کے چولہے کو جلتا چھوڑ دیتے ہیں ۔گھر کے ملازم کئی گھنٹے استری چلتی چھوڑ دیتے ہیں، کوئی پرواہ ہی نہیں کرتا۔گھر کی صفائی میں پانی کا استعمال اتنے بے دریغ طریقے سے کرتے ہیں ناقابل معافی جرم ہے۔۔۔۔ہاں،تو بات ہورہی تھی سی این جی کی۔۔۔ایک دانشور طبقے کی رائے ہے کہ بڑی گاڑیوں کو سی این جی کی سہولت نہیں ملنی چاہئے۔ سی این جی صرف پبلک ٹرانسپورٹ کو ملنی چاہئے ، اس سے پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں کمی آئے گی اور اس کا براہِ راست فائدہ عام آدمی کو ہوگا۔

مزید : کالم