اشرافیہ نواز ،عوام کش بجٹ

اشرافیہ نواز ،عوام کش بجٹ

مئی 2013 ءکے انتخابات سے قبل مسلم لیگ ن کی قیادت برملا اظہار کر رہی تھی کہ سابق حکومت نے ملک کی معیشت کا جنازہ نکال دیاہے ۔ افراط زر بڑھ گیاہے ، ملکی و بیرونی قرضوں میں بے تحاشا اضافہ ہوا ۔ بجلی کی لوڈشیڈنگ توانائی کے بحران نے ملکی صنعتی ترقی کا پہیہ جام کر دیاہے ۔ دنیاہمیں عالمی بھکاری کے نام سے جاننے لگی ہے ہم اقتدار میں آئے تو کشکول توڑ دیں گے لیکن مسلم لیگ ن کی حکومت نے اقتدار میں آ کر ایک سال میں ہی آئی ایم ایف ، ورلڈ بنک سے اتنے قرضے لےے کہ اب ان حکمرانوں کی شکلیں کشکول بن گئی ہیں ۔ کشکول چھوڑ کر حکمران کڑاہے میں بیٹھ گئے ہیں ۔ مہنگائی میں اضافہ ، افراط زر بڑھا اور تجارتی خسارے میں ایک سال کی مدت میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔ وفاقی وزیر خزانہ اسحق ڈار نے بجٹ پیش کر نے سے قبل اقتصادی سروے 2013-14 ءجاری کیاجس میں کہا گیا کہ افراط زر پر قابو نہیں پایا جاسکا ۔

دہشت گردی کیخلاف جنگ کے نقصانات ا کھرب ڈالر سے بڑھ گئے ہیں ۔ گندم ، آلو، پیاز، ٹماٹر اور پھلوں کی پیداوار اس عرصے میں کم ہو گئی ہے جس سے ان کی قیمتوں میں اضافہ ہوگیا ۔ ملک میں غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والوں کی تعداد پچاس فیصد ہے ۔ خوردونوش کی قیمتوں میں روز مرہ کی بنیادوں پر اضافہ ہورہاہے ۔ زرعی پیدوار میں کمی ہوئی ہے تو اس سے اندازہ لگا لیجئے کہ اقتصادی سروے میں ہی حکومت کی ایک سال کی کارکردگی سب کے سامنے کھول کر سامنے آ گئی ۔ بقول ان کے اقتدار میں آ کر ملک میں خوشحالی ، صنعتی ترقی کا عروج ہوگا یہ دعوے تو ہوا میں تحلیل ہوگئے اقتصادی سروے کے بعد بجٹ کی حیثیت کا کوئی جواز باقی نہیں رہا -ملک میں سوائے حکومتی پارٹی باقی تمام سیاسی `دینی` سماجی` مزدور` کسان `سرکاری ملازمین اپیکا نے بجٹ 2014-15 ءکو عوام کش قرار دیاہے ۔ کلرکوں ، مزدروں نے تنخواہوں اور اجرت میں اضافہ حاتم طائی کی قبر پر لات مارنے کے مترادف قرار دیاہے ۔

 عوام کا کہناہے کہ بجٹ میں مخصوص اور مراعات یافتہ اشرافیہ کو نوازا گیاہے ۔ بڑی گاڑیوں پر عائد ٹیکس واپس لیا گیا ہے معاشی ماہرین کہہ رہے ہی کہ چودہ کھرب خسارے کے بجٹ کے بعد اب منی بجٹ آئے گا اور خسارہ عوام کی جیبوں سے نکال کر پورا کیا جائے گا ۔ یعنی بجٹ میں سرکاری محنت کشوں کی تنخواہوں میں اضافہ کیا گیاہے وہ خسارہ پورا کرنے کے لیے واپس ان سے لیا جائے گا ۔ عوام نے ابھی” کھایا پیا کچھ نہیں گلاس توڑا بارہ آنے “ والا معاملہ ہے۔ مسلم لیگ ن کی حکومت نے عوام کو ایک سال میں ہی اتنا رسوا کر دیاہے جو پیپلز پارٹی کی حکومت5 سال میں نہ کر سکی ۔ اس بجٹ میں سارا بوجھ غریبوں پر ڈال دیاگیاہے ۔ گھی ، سیمنٹ مہنگا کر دیا گیاہے۔ بجلی کے استعمال کے گھریلو صارفین پر ایڈوانس ٹیکس لگانے کی تجویز ہے ۔ بڑی گاڑیوں پر دس فیصد ٹیکس واپس لینے سے صاف ظاہر ہے کہ اشرافیہ کو مراعات دی گئی ہیں ۔

 غریب میں تو اب سائیکل خریدنے کی سکت نہیں ۔ اسی بجٹ میں حکومت نے ٹیکسٹائل کی صنعت کے لیے مراعاتی پیکیج کا اعلان کیاہے جس کے تحت ٹیکسٹائل ایکسپورٹ ری فنانس اسکیم کا مارک اپ 9.4 سے کم ہو کر 7.5 فیصد سالانہ ہو جائے گا اسی بجٹ میں صحت پر 26 ارب ، تعلیم پر 64 ارب ، ایچ ای سی کے لیے 20ارب مختص کیے گئے ہیں تعلیم اور صحت پر مختص رقم اونٹ کے منہ میں زیرہ دینے کے مترادف ہے اس سے حقیقت معلوم ہوجاتی ہے کہ حکومت صحت و تعلیم کی ترقی کے لیے کس قدر مخلص ہے ۔ وفاقی وزیر خزانہ جب بجٹ تقریر دھواں دھار انداز میں بیان کر رہے تھے اور اپنی حکومت کی کامیابیوں اور سابقہ حکومت کی کارکردگی پر تنقید کر رہے تھے تو اس پر تو یہی تبصرہ کیا جاسکتاہے کہ جو آلو کی قیمت 30 روپے کی سطح پر نہ لاکر عوام کو ریلیف نہیں دلوا سکی اس بجٹ میں خیر کی توقع رکھنا اندھے کو چراغ دکھانے کے مترداف ہے ۔ یہ بجٹ حقیقت میں آئی ایم ایف ، ورلڈ بنک کا بجٹ تھا جو وفاقی وزیر خزانہ نے قوم کو پڑھ کر سنایا اور ڈرایا ۔

رہا حکومتی ارکان کی جانب سے بجٹ کو خوش آئند اور عوام دوست قرار دینے کا معاملہ تو اگلے ہی روز اقتدار کے ایوان اسلام آباد میں کلرکس سڑکوں پر احتجاج کرتے ہوئے نکلے تو ان پر لاٹھیوں ، گولیوں اور آنسو گیس کی بوچھاڑ کر دی گئی ۔ گڈ گورننس کا خاص طو ر پر پنجاب میں یہ حال ہے کہ گزشتہ روز وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجا ب کے شہر لاہور میں تین معصوم بچیاں گھر میں آگ لگنے کے باعث جاں بحق ہو گئیں جن میں ایک بچی کئی گھنٹے موت و حیات کی کشمکش میں سرکاری ہسپتالوں کے درمیان شٹل کاک بنی رہی کیونکہ نہ تو میو ہسپتال کا برن یونٹ فعال تھا نہ سروسز ہسپتال کا ۔ جناح ہسپتال میں گزشتہ سات سال سے برن یونٹ تو قائم ہے لیکن آپریشنل نہیں ہوسکا ۔ میو ہسپتال کا سرجیکل ٹاور بھی سات سال سے اپنے مکمل فعال ہونے کے لئے کسی مسیحا کی راہ تک رہاہے۔ بس مریض جائیں بھاڑ میں مرتے ہیں مریں ہم تو میٹرو بس میٹروٹرین چلائیں گے ۔ باقی رہ گئے عوام تو وہ شیر بنیں شیر ! ابھی چار سال شیر حکومت کے باقی ہیں اگلے بجٹ پر پر ملاقات ہو گی ۔

مزید : کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...