مریم نواز، بلاول بھٹو:متبادل قیادت؟

مریم نواز، بلاول بھٹو:متبادل قیادت؟
مریم نواز، بلاول بھٹو:متبادل قیادت؟

وزیراعظم کی صاحبزادی مریم نواز شریف طلبہ و طالبات کی فیس واپسی پروگرام کے سلسلے میں بہاﺅالدین زکریا یونیورسٹی ملتان آئیں، تو ان کے لہجے اور اعتماد کو دیکھ کر بخوبی اندازہ ہوتا تھا کہ وہ خود کو مستقبل میں ایک بڑے چیلنج کے لئے تیار کر رہی ہیں۔ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اپوزیشن ،خصوصاً عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری کی طرف سے تنقید کے باوجود مریم نواز شریف پر اعتماد کر رہے ہیں اور انہیں بہت سے ایسے منصوبوں کی ذمہ داری سونپ چکے ہیں، جو بڑی اہمیت کے حامل ہیں، انہیں حال ہی میں ”اپنا گھر“ سکیم کی ذمہ داری بھی سونپ دی گئی ہے جو کم آمدنی والے افراد کے لئے اپنی نوعیت کا بہت اہم منصوبہ ہے۔ پاکستان میں موروثی سیاست تو ایک بڑی حقیقت ہے، تاہم ایسا بھی نہیں کہ بغیر کسی صلاحیت یا تربیت کے ایک نسل کے بعد دوسری نسل کو آگے لایا جا سکے۔ مریم نواز شریف کی یقینا گرومنگ کی جا رہی ہے اور انہیں اہم ترین منصوبوں کی نگرانی سونپ کر ایک طرح سے اُن کے اندر انتظامی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

مجھے تو مریم نواز کو دیکھ کر پاکستانی تاریخ کے تناظر میں کئی مماثلتیں نظر آ رہی ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو کے بھی بیٹے سیاست میں جگہ نہیں بنا سکے تھے، یہ وراثت بے نظیر بھٹو کے حصے میں آئی تھی۔ مجھے یاد ہے کہ1970ءکی دہائی میں ذوالفقار علی بھٹو اپنی بیٹی پنکی کو ہر اہم موقع پر اپنے ساتھ رکھتے تھے،ہر بیرون ملک دوروں میں بھی وہ انہیں اپنے ساتھ لے جاتے۔ اس طرح انہوں نے اپنی زندگی ہی میں اس بات کا اشارہ دے دیا تھا کہ اُن کی جانشین بے نظیر بھٹو ہیں، اُن کے بیٹے نہیں۔ بے نظیر بھٹو ایک ذہین اور باصلاحیت لڑکی تھیں۔ انہوں نے سیاست کے پیچ و خم کو بہت قریب سے دیکھا اور سمجھا۔ یہی وجہ ہے کہ جب انہیں چھوٹی عمر میں اپنے باپ کی سیاسی وراثت اور جماعت سنبھالنے کا موقع ملا تو انہوں نے کامیابی سے اپنے سیاسی سفر کا آغاز کیا۔ وہ دوبار ملک کی وزیراعظم بنیں اور دنیا سے اپنی صلاحیتوں کو منوایا۔ پھر وہ ایک سانحے کا شکار ہو کر دنیا سے رخصت ہو گئیں، لیکن پاکستانی سیاست میں ایک دائمی نقش چھوڑ گئیں۔

مَیں یہ تو نہیں کہتا کہ مریم نواز شریف بھی بے نظیر بھٹو کے پائے کی سیاسی رہنما ہیں، لیکن اتنا ضرور ہے کہ انہیں اپنے خاندان کی مکمل تائید حاصل ہے۔ اُن کے دونوں بھائی سیاست سے دور ہیں اور وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی سیاسی جانشینی مریم نواز شریف کے حصے میں آ چکی ہے۔ اگرچہ مخالفین یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ مریم نواز شریف میں ایسی کون سی صلاحیت ہے ، جس کی وجہ سے انہیں اتنے اہم مناسب سونپے جا رہے ہیں۔ وہ اسے خاندانی بادشاہت کی مثال قرار دیتے ہوئے رد کرتے ہیں، لیکن اُن کے یہ اعتراضات وزیراعظم میاں محمد نواز شریف خاطر میں نہیں لا رہے۔ یہی وجہ ہے کہ نوجوانوں کے لئے قرضہ سکیم، نیشنل انشورنس پالیسی، پسماندہ علاقوں کے طلبہ و طالبات کو فیس واپسی کی سکیم کے بعد انہیں” اپنا گھر “منصوبہ کی نگرانی بھی دے دی گئی ہے۔ مریم نواز شریف کے سامنے اب ایک بہت بڑا ٹاسک موجود ہے، انہیں اپنی صلاحیتوں سے ثابت کرنا ہے کہ وہ ان تمام عہدوں کی اہل ہیں۔

مسلم لیگ(ن) ہو یا پیپلزپارٹی ،خاندانی سیاست اُن کی پہچان ہے۔ پاکستانی عوام بھی خاندانی سیاست کو پسند کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پیپلزپارٹی میں آج تک بھٹو خاندان کا ڈنکا بج رہا ہے اور مسلم لیگ(ن) میں شریف فیملی کے بغیر جماعت مکمل نہیں ہوتی۔ بھٹو خاندان کا سحر کس حد تک موجود ہے، اس کا اندازہ اس امر سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ بلاول نسلاً تو زرداری ہیں، مگر اُن کے نام کے ساتھ ”بھٹو“ لگانا ضروری سمجھا گیا ہے۔ اُدھر بلاول بھٹو زرداری کو مستقبل کے لئے تیار کیا جا رہا ہے تو اِدھر مریم نواز شریف سیاسی میدان میں آگے بڑھ رہی ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا سیاست میں تربیت کے لئے اقتدار میں ہونا ضروری ہے؟ یا دوسرے لفظوں میں سیاست حد درجہ پروٹوکول میں گھری ہوئی زندگی کے ساتھ ہی سیکھی جا سکتی ہے.... جہاں تک بے نظیر بھٹو کا حوالہ آتا ہے، وہ ایک منفرد کردار کے طور پر ہماری سیاسی تاریخ کا حصہ بنتی ہیں۔ جب وہ سیاست میں پوری طرح ”اِن“ نہیں تھیں تو اُن کے والد کو پھانسی پر چڑھا دیا گیا تھا، بیرون ملک رہ کر انہوں نے جلا وطنی کے دن گزارے، ایک نوجوان لڑکی جو ابھی شادی شدہ بھی نہیںتھی، ایک ڈکٹیٹر کا مقابلہ کرنے پاکستان آ رہی تھی۔ یہ فیصلہ ہی اس بات کو ظاہرکرتا تھا کہ بے نظیر بھٹو ایک مضبوط اعصاب کی مالک لڑکی ہیں، جو اُس ڈکٹیٹر کے دور میں پاکستان آ رہی ہیں، جس نے اُن کے والد ذوالفقار علی بھٹو کو تختہ دار پر لٹکایا۔ 1986ءمیں جب وہ پاکستان واپس آئیں تو فقید المثال استقبال نے اُن کے حوصلے اور عزم کو مزید بڑھا دیا۔ انہوں نے پاکستان واپس آ کر پیپلزپارٹی کو منظم کیا اور آنے والے انتخابات میں اپنی پارٹی کی قیادت کرتے ہوئے اسے اکثریت دلانے میں کامیاب رہیں۔ پھر دنیا نے دیکھا کہ وہ پاکستان کی پہلی خاتون وزیراعظم بن گئیں۔ مَیں سمجھتا ہوں کہ بے نظیر بھٹو ہماری سیاست کا ایک آئیڈیل کردار ہیں ۔ انہیں جو مرتبہ حاصل ہوا، وہ پاکستان کے بہت کم سیاست دانوں کو ملا، اس کی وجہ اُن کی جرا¿ت مندی اور بہادری تھی۔ وہ چاہتیں تو باقی ماندہ زندگی بیرون ملک اپنے بچوں کے ساتھ گزار دیتیں، مگر وہ خطرات کے باوجود پاکستان آئیں اور2007ءمیں جامِ شہادت نوش کر کے دنیا سے رخصت ہو گئیں۔

اب جب کچھ حلقے یہ کہتے ہیں کہ مریم نواز شریف کو پاکستانی سیاست میں بے نظیر بھٹو کا خلاءپورا کرنے کے لئے آگے لایا جا رہا ہے، تو مجھے یہ بات کچھ زیادہ قائل نہیں کرتی، کیونکہ بے نظیر بھٹو جن امتحانات سے گزریں، مریم نواز شریف کو ابھی اُن سے کوئی سابقہ نہیں پڑا۔ ہاں بیگم کلثوم نواز نے مشکل دن ضرور دیکھے ہیں۔ جب پرویز مشرف کی طرف سے میاں محمد نواز شریف اور اُن کے ساتھیوں پر غداری کا مقدمہ قائم کیا گیا تو بیگم کلثوم نواز میدان میں اتریں اور انہوں نے اپنی پارٹی کو زندہ رکھا۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ مریم نواز ایک بڑی سیاسی جماعت کے پلیٹ فارم سے اپنی سیاست کا آغاز کر چکی ہیں۔ اُن پر ڈالی جانے والی ذمہ داریاں اُن کے سیاسی مستقبل کا تعین کریں گی۔ اگرشیڈول کے مطابق انتخابات 2018ءمیں ہوتے ہیں تو اس وقت تک میاں محمدنواز شریف اور آصف علی زرداری 70کی طرف بڑھ رہے ہوں گے۔ ظاہر ہے ایسے میں یہ ممکن نہیں کہ وہ اپنی سیاست کا یہی تسلسل برقرار رکھ سکیں، انہیں لامحالہ ایک متبادل کی ضرورت پڑے گی۔ پیپلزپارٹی کے پاس تو بلاول بھٹو زرداری کی شکل میں ایک واضح اور متعینہ متبادل موجود ہے، جسے پارٹی کے چیئرمین کا عہدہ بھی دیا جا چکا ہے ،تاہم مسلم لیگ(ن) کے پاس ایسی کوئی واضح قیادت نہیں ہے۔ شاید اسی خلاءکو پورا کرنے کے لئے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے مریم نواز کو فرنٹ لائن پر لانے کا فیصلہ کیا ہے۔

 وزیراعلیٰ میاں محمد شہباز شریف اپنے بیٹے حمزہ شہباز کو پہلے ہی پورے طور پر میدانِ سیاست میں اتار چکے ہیں، بلکہ انہیں غیر اعلانیہ طور پر پنجاب کے معاملات بھی سونپ رکھے ہیں، گویا بات اگر اِسی طرح آگے بڑھتی رہی، تو مسلم لیگ(ن) آنے والے انتخابات میں مریم نواز شریف کو مرکز اور حمزہ شہباز شریف کوصوبے میں اُتارے گی۔اگر ایک طرف دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کی یہ منصوبہ بندی ہے، تو دوسری طرف اُن کی مخالف سیاسی جماعتیں اسی موروثی سیاست کو ہدف بنا کر اُن کے خلاف علم بغاوت بلند کرنے کے در پے ہیں۔ عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری اسی مسئلے کو بنیاد بنا کر تحریک چلا رہے ہیں کہ موجودہ جمہوریت درحقیقت خاندانی بادشاہت ہے، جس میں چند خاندان پورے ملک کو یرغمال بنائے ہوئے ہیں۔لطف یہ ہے کہ طاہر القادری نے ابھی سے اپنے دونوں بیٹوں کو آگے کردیا ہے۔ کوئی بتاسکتا ہے کہ ان کی جماعت میں ان کے بعد کون ہے یا ان کی جماعت کا سیکرٹری جنرل کون ہے ؟ دیکھنا یہ ہے کہ عوام یہ سب کچھ کس نظر سے دیکھتے ہیں؟ وہ خود کو تبدیل کرتے ہیں یا خاندانی سیاست کے سحر میں مبتلا ہو کر یہی چاہتے ہیں کہ جئے بھٹو کا نعرہ لگائیں گے یا نواز شریف زندہ باد کہیں گے؟.... نوجوان قیادت کی ضرورت تو اب اس ملک کو ہے، کیونکہ سالہا سال کے سیاسی جغادری اب عوام کو کچھ دینے میں ناکام رہے ہیں، لیکن کیا یہ نوجوان قیادت مریم نواز شریف یا بلاول بھٹو زرداری کی شکل میں اُبھرے گی؟ اس کا فیصلہ آنے والا وقت کرے گا۔

مزید : کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...