سعودی عرب میں ”صلِّ علیٰ نبینا “ شہر کا منصوبہ

سعودی عرب میں ”صلِّ علیٰ نبینا “ شہر کا منصوبہ
 سعودی عرب میں ”صلِّ علیٰ نبینا “ شہر کا منصوبہ

 

اللہ تعالیٰ نے سرزمین مقدس کے حکمرانوں (خدام الحرمین شریفین) کو یہ سعادت عطافرمائی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے آخری رسول ﷺ کے احکام اور تعلیمات کے مطابق نہایت مستحسن اور بابرکت منصوبے بروئے کار لانے میں ہمہ وقت سرگرم عمل رہتے ہیں۔ چنانچہ یہ اسی مبارک سلسلے کی کڑی ہے کہ سعودی عرب میں ایک لاکھ مربع میٹر پر ”صلِّ علیٰ نبینا “ کے زیرعنوان ایک عظیم الشان مرکز قائم کرنے کے منصوبے کا آغاز کیا گیا ہے، جس میں اللہ تعالیٰ کی توحید اور حضور خاتم الانبیاءوالمرسلین ﷺ کے ارشادات کی تعلیم و تبلیغ اور مخالفین اسلام کی ریشہ دوانیوں اور باطل نظریات کے انسداد کے انتظامات کئے جائیں گے، یہ عظیم الشان منصوبہ حدود حرم شریف سے باہر ”الحرمین ایکسپریس “ پر قائم کیا جارہا ہے، اسوہ¿ رسول اللہ ﷺ کو اجاگر کرنے اور غیرمسلموں کو اسلام کی دعوت دینے کے سلسلے میں اس نئے شہر میں مرکزی دفاتر کے علاوہ نمائش گاہ یونی ورسٹی ، لائبریری ، طباعت واشاعت ، اور مختلف زبانوں کے تراجم اور ضروریات زندگی فراہم کرنے کے مراکز کے ساتھ ساتھ حضور رسول کریم ﷺ کے اسوہ¿ حسنہ آپ ﷺ کی حیات مبارکہ اور حضرات صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے معرکہ آراءکارناموں پر ایک تاریخی انسائیکلوپیڈیا بھی مرتب کرنے کا اہتمام ہوگا جو تین لاکھ صفحات اور پانچ سو جلدوں پر مشتمل ہوگا، اس نادرانسائیکلوپیڈیا کی رجسٹریشن وزارت اطلاعات میں کی جاچکی ہے، اس سلسلے میں بتایا گیا ہے کہ سعودی عرب، مصر ، اور ملائیشیا سمیت مختلف ممالک کے جید علماءکرام اس انسائیکلوپیڈیا کی اسی جلدوں کو آخری شکل میں لاچکے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے اسماءحسنیٰ پر مشتمل دیدہ زیب نمائش بھی بروئے عمل لائی جارہی ہے۔

اس تاریخی شہر میں جو لائبریری قائم کی جارہی ہے اس میں دنیا کی مختلف زبانوں میں تراجم وتفاسیر قرآن کریم اور حضور خاتم الانبیاءمحسن انسانیت حضرت محمد ﷺ کی سیرت طیبہ پر طبع شدہ مختلف زبانوں کی کتب فراہم کرنے کے انتظامات کئے جارہے ہیں اور قرآن وسیرت پر مشتمل ایک ایسا میڈیا سنٹر قائم کیا جارہا ہے جو حضور رحمتہ اللعلمین ﷺ کی ذات اقدس پر درود شریف کے لئے ”صل علی نبینا “ کا آئینہ دار ہوگا، نیز اس پروجیکٹ کے تحت قائم ہونے والی یونیورسٹی میں قرآن وسنت کے ماہر گریجویٹ تیار کئے جائیں گے اور اس نئے شہر کے میڈیا سنٹر میں سیٹلائٹ کی مددسے ٹی وی نشریات مانیٹر کرنے کے علاوہ ویب سائٹس بھی اسوہ¿ حسنہ اور فروغ سیرت طیبہ کے لئے مخصوص ہوگا، بہر نوع سعودی عرب کے خدام الحرمین الشریفین امت مسلمہ کی ترقی اور خوشحالی اور اسلام کی صحیح تعلیمات کے فروغ، دنیائے اسلام کی مشکلات ومصائب کے ازالے اور عالم اسلام کے عازمین حج و معتمرین (عمرہ ادا کرنے والوں ) کے لئے سہولتیں فراہم کرنے کے سلسلے میں جو عظیم الشان کارنامے انجام دے رہے ہیں وہ پوری دنیا میں ایک روشن مثال ہیں۔

سعودی حکمرانوں نے نہ صرف اپنے ملکی باشندوں بلکہ پوری دنیا کے مسلمانوں کے لئے زندگی کے مختلف شعبوں میں جو سہولتیں فراہم کیں اور جو نئے نئے منصوبے معرض عمل میں لائے گئے ہیں دنیا کا کوئی بھی ملک اس کی مثال پیش نہیں کرسکتا۔ چنانچہ مکہ معظمہ، مدینہ منورہ، جدہ، ریاض ، دمام، الخبر ، دھران ، الاحسا، اورتبوک وغیرہ مختلف شہروں میں سعودی عرب کے قائم کردہ اداروں کا اگر تذکرہ کیا جائے تو اس کے لئے ضخیم کتب تیار ہوسکتی ہیں اور سعودی عرب کے مخلص اور امت مسلمہ کے انتہائی خیرخواہ اور ہمدرد خدام الحرمین الشریفین کے عظیم الشان کارناموں سے حقیقتاً وہی حضرات صحیح طورپر واقف ہیں جنہوں نے سرزمین مقدس کے مشاہدے کی سعادت حاصل کی ہے۔ بایں ہمہ دنیا کے ”حساسدین“ اور فتنہ گر سعودی حکمرانوں کے خلاف گمراہ کن اور کذب وافتراءپر مشتمل پروپیگنڈے اور شوشے چھوڑنے سے باز نہیں آتے، ایسے لوگ دراصل اسلام دشمن طاقتوں کے آلہ¿ کار ہیں، وہ عہد رسالت ﷺ کے منافقین کی مانند اسلام کا نام لے کر اور حضور محسن انسانیت ﷺ کی ذات اقدس پر درود بھیجنے کی آڑ میں سادہ لوح لوگوں کے جذبات سے کھیلتے اور اسلام دشمنوں سے مادی مفادات وصول کرنے کی خاطر اپنی دنیا اور آخرت دونوں برباد کررہے ہیں ۔

سعودی حکمران تو اللہ تعالیٰ اور اس کے آخری رسول ﷺ کی خوشنودی ،منشا اور رضامندی کے بغیر ایک لمحہ کے لئے نہیں رہ سکتے۔ کیا بیت اللہ شریف کے سائے میں مسجدالحرام کے مصلے پر اور مسجد نبوی ﷺ شریف میں حضور سید المرسلین ﷺ کی موجودگی اور حضور ﷺ کے سامنے کوئی امام اللہ تعالیٰ کے اور اس کے محبوب رسول کریم ﷺ کی منظوری اور اجازت کے بغیر کھڑا ہوسکتا ہے۔ سعودی عرب کے باشندوں، وہاں کے شیوخ اور علماءکرام کے دلوں میں اللہ اور اس کے آخری نبی ورسول اللہ ﷺ کے فرامین اور ارشادات کا کس قدر احترام جاں نثاری، اور فرماں برداری کے ایمان افروز جذبات واحساسات ہیں کہ پوری دنیائے اسلام کے لوگ اور امت مسلمہ کے جلیل القدر علماءو مشائخ بھی ان جیسی عقیدت ومحبت کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہیں۔ امروزہ اشاعت میں مسجد نبوی ﷺ کے امام و خطیب الشیخ عبدالعزیز بن صالح رحمة اللہ کی حضور رحمتہ اللعالمین علیہ الصلوٰة والسلام کی ذات اقدس کے ساتھ کس قدر گہری عقیدت ومحبت اور فرماں برداری ہے اس کی مختصر جھلک ملاحظہ فرمائیے۔ مفصل معلومات آئندہ کسی اشاعت میں نذر قارئین ہوں گی (انشاءاللہ )

پاکستانی صحافیوں کا سات رکنی وفد خادم الحرمین الشریفین شاہ فیصل بن عبدالعزیز ؒ کی دعوت پر حج کے مبارک موقع پر سعودی عرب کے دورے پر گیا تھا، اس خوش بخت وفد میں راقم الحروف مجاہد الحسینی بھی ایڈیٹر خدام الدین لاہور کی حیثیت سے شامل تھا، چنانچہ مدینہ منورہ میں حاضری کے وقت ایک روز اراکین وفد نے مسجد نبوی ﷺ کے امام خطیب سے شرف ملاقات کا پروگرام طے کیا، امام صاحب نے نماز مغرب کے فوراً بعد ملاقات کا اعزازعطا فرمایا۔ حاضری سے پہلے رکن وفد ضیاءالاسلام انصاری ایڈیٹر مشرق لاہور نے امام صاحب کی گفتگو ریکارڈ کرنے کے لئے مشین خریدی، اور حسب پروگرام مولوی محمد سعید ایڈیٹر پاکستان ٹائمز، شورش ملک روزنامہ جنگ راولپنڈی، ضیاءالاسلام انصاری اور راقم الحروف ہم چاروں امام صاحب کی رہائش گاہ پر حاضر ہوگئے۔ ہرایک نے پورے ادب واحترام کی حالت میں امام صاحب کی خدمت گرامی میں سلام عرض کیا۔ امام صاحب نے دھیمی آواز میں سلام کا جواب دیا اور صوفے پر بیٹھے اپنے خادم کے ساتھ سرگوشی کے انداز میں نہایت آہستگی کے ساتھ گفتگو کرنے لگے۔ ہم نے سمجھا کہ امام صاحب کے گلے میں کوئی خرابی ہے اسی لئے آہستہ دھیمی آوازمیں گفتگو کررہے ہیں ، ہم خاموشی کے حالت میں بیٹھے رہے، اس اثناءمیں ضیاءالاسلام انصاری نے ٹیپ ریکارڈ کی جانب اشارہ کرکے متوجہ کیا کہ اس کا کیا بنے گا ؟ ہم کیا کرسکتے تھے امام صاحب اونچی آواز میں ذرا بات چیت کریں تو ریکارڈنگ ممکن تھی۔

 مولوی محمد سعید صاحب نے میری جانب ہاتھ اٹھا کر امام صاحب کی خدمت میں دعا کی درخواست کا کہا۔ میں نے بہت ہی آہستہ حضرت شیخ کی خدمت میں پاکستان کے نوے ہزار قیدیوں کی رہائی اور بنگلہ دیش بن جانے کی صورت میں پاکستان کے استحکام اور امت مسلمہ کی وحدت وعظمت رفتہ کی بحالی کی دعا کا حوالہ دیا انہوں نے اسی پست آواز میں دعا کی، اور ہم سلام عرض کرکے باہر جانے لگے تو میں نے سوچا کہ امام صاحب کی گفتگو تو ہم ریکارڈ نہ کرسکے ان سے ضرور کچھ لکھوانا چاہئے۔ میرے ہاتھ میں ڈائری تھی۔ اسے امام صاحب کی خدمت میں پیش کرتے وقت عرض کیا۔ شیخ چند کلمات پاکستان کی بابت تحریر فرما دیجئے۔ چنانچہ امام صاحب نے ازراہ کرم کلمات تحریر کردیئے۔ سلام عرض کرکے ابھی دروازے تک گئے تھے کہ امام صاحب نے اپنے خادم کو الوداع کہنے کا حکم دیا ہوگا۔ ان سے میں نے پوچھا ۔ کیا امام صاحب کے گلے میں خرابی واقع ہوگئی ہے؟ نماز مغرب کی امامت میں تو آواز ٹھیک تھی۔ اس نے کہا کہ گلے میں خرابی نہیں بلکہ امام صاحب پورے مدینہ شہر میں اونچی آواز سے گفتگو نہیں کرتے وہ قرآن کی آیات کریمہ پر عمل کرتے ہیں لاترفعوااصواتکم فوق صوت النبی ۔ کہ تم نبی ﷺ کے حضور اپنی آواز اونچی نہ کیا کرو۔ ورنہ تمہارے اعمال ضائع ہوجائیں گے اور نہ ہی ان کا نام مبارک لے کر اس طرح پکارا کرو جس طرح تم ایک دوسرے کو بلاتے ہو،

امام وخطیب مسجد نبوی الشیخ عبدالعزیز بن صالح کو حکومت سعودیہ نے وزارت شﺅن اسلامیہ (مذہبی امور) کی پیشکش کی تو آپ نے فرمایا کہ وزارت کے دفاتر ریاض کے بجائے مدینہ منورہ میں لے آﺅ تاکہ میری مسجد نبوی ﷺ کی نمازیں قضا نہ ہوسکیں۔ ان کے واقعات اوربھی ہیں۔ بہرنوع ہم سعودی عرب کے تمام بڑے شہروں کا دورہ کرکے واپس پاکستان آئے تو پاکستان ٹائمز کے ایڈیٹر مولوی محمد سعید نے مولانا کوثر نیازی کو امام صاحب کے اس خط کا حوالہ دیا، تو انہوں نے مجھے اسلام آباد آنے کی دعوت دی، میں نے دوران ملاقات خط دکھایا تو انہوں نے جناب قائدعوام ذوالفقار علی بھٹو سے ملاقات کرنے کی تجویز پیش کرتے ہوئے ان سے ملاقات کا وقت طے کرلیا۔ حسب پروگرام بھٹو صاحب کی خدمت میں وہ خط پیش کیا گیا تو انہوں نے اسے بوسہ دیا، آنکھوں سے لگایا اور کوثر نیازی کو تاکیداً کہا کہ ابھی مدینہ منورہ کے امام صاحب کو پاکستان میں تشریف لانے کی دعوت دو ! چنانچہ کوثر نیازی صاحب نے امام مسجد نبوی ﷺ کو بھٹو صاحب کی طرف سے دعوت دی جسے امام صاحب نے قبول کرلیا اور فروری 1976ءکو امام مسجد نبوی ﷺ پہلی مرتبہ پاکستان میں تشریف لائے تھے کیونکہ مکہ معظمہ کے امام صاحبان تو کئی مرتبہ پاکستان رونق بخش چکے ہیں لیکن مسجد نبوی ﷺ کے امام و خطیب صاحب کی یہ پہلی اور آخری تشریف آوری تھی، ان کی آمد پر روزنامہ امروز اور روزنامہ مشرق لاہور نے خاص نمبر شائع کئے تھے اور صفحہ اول پر میرا مضمون مع اس خط کے عکس شائع کیا تھا۔ اس خط کا عکس مع مفصل معلومات پاکستان میں میری امام صاحب سے ملاقات پر مشتمل نہایت اہم باتیں پیش کی جائیں گی۔ ان سے حضور محسن انسانیت ، رحمتہ اللعالمین ﷺ کی ذات اقدس کے ساتھ محبت، عقیدت اور شیفتگی کا اندازہ لگایا جاسکے گا۔ (انشاءاللہ )

مزید : کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...