نیاچیلنج،سیالکوٹی مُنڈے اور نوجوان قیادت!

نیاچیلنج،سیالکوٹی مُنڈے اور نوجوان قیادت!
نیاچیلنج،سیالکوٹی مُنڈے اور نوجوان قیادت!

قدرت کے کھیل نرالے....کراچی ائرپورٹ پر دہشت گردوں کا حملہ فوری طور پر ناکام بنا دیا گیا ،لیکن حکومتی کارکردگی پر تنقید ہو رہی ہے۔غنیمت ہے کہ روائتی انداز میں تنقید سے حکومت مخالف جماعتیں اپنے جذبات کی تسکین کررہی ہیں،تاہم تنقید کے جوش میں یہ بات فراموش کر دی گئی کہ حملہ ضرور ہوا، اس میں حکومتی اقدامات میں کمی اور کوتاہی بھی ہو سکتی ہے، مگر ہماری فوج،رینجرز، ائرپورٹ سیکیورٹی فورس اور پولیس کے جوانوں نے اپنی جان کی قربانی دے کر دہشت گردوں کے ناپاک عزائم کو ناکام بناتے ہوئے تمام حملہ آوروں کو ائرپورٹ پر ہی موت کے گھاٹ اتارا۔ یہ کوئی معمولی کام نہیں، اس کی غیر معمولی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے فوج اور دیگر اداروں کی کارکردگی کو نمایاں طور پر سراہا جانا چاہیے اور محض حکومتی کارکردگی پر مخصوص انداز میں برہمی،اپنے جذبات کی تسکین اور سیاسی فرض کی ادائیگی ہی ضروری نہ سمجھی جائے۔ برہم ہونے کے بجائے حکومت کو اپوزیشن کی باتوں کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔عوام اور اداروں کا تحفظ یقینی بنانا چاہیے۔

دوسری سیاسی جماعتوں کی طرح پاکستان تحریک انصاف کی ”کورکمیٹی“ کے اجلاس میں حکومت کو شہریوں اور حساس تنصیبات کے تحفظ میں ناکام قرار دیا گیا۔ دراصل اسلام آباد، فیصل آباد اور سیالکوٹ میں بھرپور جلسوں کے بعد عمران خان اور ان کے ساتھ بڑی فارم میں دکھائی دے رہے ہیں۔سیالکوٹ کے جلسے کو بطور خاص پُرجوش اور احتجاجی تحریک کے لئے مفید سمجھا جا رہا ہے۔ہمارے نزدیک عمران خان اور ان کے ساتھیوں کا یہ اعتماد اور اطمینان، جلسوں میں نوجوانوں کی بھرپور شرکت اور واضح دکھائی دینے والے جوش و خروش کی وجہ سے محسوس کیا جا رہا ہے۔عمران خان کے لب و لہجے میں تبدیلی بھی اسی لئے نظر آ رہی ہے۔ خاص طور پر انہوں نے انصاف کے معاملے میں جس طرح ججز صاحبان کو مخاطب کرتے ہوئے سوال کیا ہے کہ گزشتہ عام انتخابات میں دھاندلی ہوئی۔اس حوالے سے قوم جج صاحبان کی طرف دیکھ رہی ہے، کیا انصاف ملے گا؟ یاد رکھیں کہ ایک دن آپ نے بھی اللہ کے حضور پیش ہونا ہے۔کیا ہمیں، عوام کو سڑکوں پر لا کر ہی انصاف حاصل کرنا پڑے گا؟؟ عمران خان کا یہ انداز، جلسوں میں نوجوانوں کی بھرپور شرکت کی وجہ سے دیکھنے کو مل رہا ہے۔زندہ دل لاہوری اور سیالکوٹی منڈے، جناح سٹیڈیم میں اکٹھے ہوئے تو عمران خان ہی نہیں، شیخ رشید،شاہ محمود قریشی، اعجاز چودھری اور میاں محمود الرشید بھی موڈ میں آ گئے۔

جج صاحبان کو عمران خان نے اسی موڈ میں حصول انصاف کے حوالے سے مخاطب کیا۔شیخ رشید نے بھارت کے دورے میں کشمیری لیڈروں سے نہ ملنے پر وزیراعظم نوازشریف پر تنقیدکی تو ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا کہ مظلوم ، بے بس اور حکمرانوں کے ستائے لوگوں کی آخری امید اور آس عمران خان ہیں۔ ساری جماعتوں کی کانفرنس بلا کر آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے۔شاہ محمود قریشی نے ”راز“ کی بات لوگوں کو یہ بتائی کہ عمران خان ہی غیر ملکی بینکوں میں پڑے ہوئے دو سو ارب ڈالر واپس لائیں گے۔اعجاز چودھری نے مقامی سیاست کے حوالے سے کہاکہ سیالکوٹ کا چھوٹا فرعون ہوشیار ہو جائے۔ہمارا نوجوان عثمان ڈار اس کا بھرپور مقابلہ کرے گا۔انہوں نے زرعی اجناس بھارت سے منگوانے پر احتجاج کرنے والے اوکاڑہ کے 6065کسانوں کے خلاف مقدمے کی مذمت کرتے ہوئے حکومت پر شدید تنقید بھی کی۔محمود الرشید نے جلسے کے شرکاءکے جوش اور جذبے کا ذکر کرتے ہوئے واضح کیا کہ یہ کاررواں، اقتدار کے ایوانوں کو ہلا کر رکھ دے گا۔ حکومتی ہتھکنڈوں اور ناانصافیوں کو پنجاب اسمبلی میں زیر بحث لا کر اصل حقائق منظر عام پر لائے جائیں گے۔نوجوانوں کے جوش و خروش کو احتجاجی تحریک کے لئے استعمال کیا جائے گا۔

جناح سٹیڈیم سیالکوٹ میں ہونے والے جلسے میں مختلف شہروں سے لوگ آئے ہوئے تھے۔ان میں 70سے 80فیصد نوجوان تھے۔لاہور میں ان کی دیوانگی کا یہ عالم تھا کہ قذافی سٹیڈیم میں ڈیڑھ گھنٹے تک ڈھول کی تھاپ پر تھرکتے رہے۔ عمران خان کے گیتوں اور پارٹی ترانوں پر مسلسل رقص کرتے رہے۔ اس وقت درجہ حرارت 47 ڈگری سے اوپر تھا، لیکن سورج کی گرمی کی انہیں پروا نہیں تھی۔ اس دوران خواتین بار بار فوٹو سیشن میں مصروف رہیں کہ یہ نئی روایت پاکستان تحریک انصاف کی سیاست کا حصہ بن چکی ہے۔تپتی دھوپ میں جھلستے نوجوانوں کو دیکھ کر وہاں سے گزرتے ہوئے لوگوں نے ازراہ ہمدردی، مشورہ دیا کہ زیادہ دیر اس جوش اور خروش کا اظہار نہ کریں، ایسا نہ ہو کہ سن سٹروک ہونے سے نوجوان بیمار پڑ جائیں، مگر وہاں کسی کو ہوش نہیں تھا۔اس جوش و خروش میں نمایاں اضافہ اس وقت ہوا، جب اعجاز چودھری، ڈاکٹر یاسمین راشد، عندلیب عباس اور شبیر سیال کے ہمراہ عبدالعلیم خان، میاں اسلم اقبال اور دیگر رہنما بھی دکھائی دیئے۔اس اشتراک عمل کو ”بیوٹی فل“ قرار دیا گیا۔

میاں اسلم اقبال کا کہنا تھا کہ کپتان عمران خان کی قیادت میں ہم سب کارکنان متحد ہیں اور ہمارا احتجاج انشاءاللہ جلد رنگ لائے گا۔قذافی سٹیڈیم میں دو گھنٹے تک ہلا گلا کرنے کے بعد چار بجے یہ قافلہ روانہ ہوا تو اس میں خورشید محمود قصوری ساتھیوں سمیت شامل ہو گئے۔سب سے پہلا شاندار اور متاثر کن استقبال کامونکی میں پارٹی کے نوجوان رہنما رانا ساجد شوکت اور ان کے ساتھیوں نے کیا۔رانا ساجد شوکت کے والد رانا شوکت اور بھائی رانا الیاس بھی علاقے کی ہر دلعزیز سیاسی اور سماجی شخصیت کے طور پر مشہور ہیں۔2011ءمیں ایک بہت بڑے جلسے میں رانا ساجد اور رانا الیاس نے پاکستان تحریک انصاف کا پرچم بلند کرنے کا اعلان کیا تھا تو اس وقت کے صوبائی صدر محمود الرشید اور مرکزی رہنما شاہ محمود قریشی نے پارٹی میں ان کی شمولیت کو نوجوان قیادت اور قیمتی اثاثہ قرار دیا تھا۔رانا ساجد نے قافلے میں شامل رہنماﺅں کی تواضح کرتے ہوئے جلسے کے بعد واپسی پر اپنے ڈیرے میں رات کے کھانے کی دعوت بھی دی۔وہ کہتے ہیں: ”میرے والد اور بڑے بھائی نے مجھے یہی تعلیم دی ہے کہ زیادہ شور نہ کرو، عملی طور پر پارٹی اور کارکنوں کی خدمت کو اولیت دی جائے“۔

گوجرانوالہ میں رانا نعیم اور سمبڑیال میں بریگیڈیئر (ر) گھمن کی استقبالیہ تقریبات بھی شاندار تھیں۔ اعجاز چودھری اور دیگر رہنما تو جگہ جگہ ٹریفک جام اور کارکنوں کے ساتھ ہاتھ ملانے کی وجہ سے جلسے میں تاخیر سے پہنچے، لیکن ہم ان سے 40منٹ پہلے جناح سٹیڈیم آ گئے۔ وہاں یہ بات شدت سے محسوس ہوئی کہ جلسے میں نوجوانوں کی تعداد 70سے 80فیصد تھی۔ان کا جوش و خروش دیدنی تھا۔ عمران خان کی آمد سے قبل اور بعدازاں اپنے لیڈر کی آمد پر ان کا جوش و جذبہ متاثرکن تھا۔ اسلام آباد اور فیصل آباد میں بھی زیادہ تعداد نوجوانوں کی تھی اور یہ بات پاکستان تحریک انصاف کے لئے تقویت کا باعث ہے۔ البتہ خواتین کی تعداد اس پارٹی کے ماضی کو دیکھتے ہوئے اتنی زیادہ نہیں تھی کہ اسے اطمینان بخش قرار دیا جائے۔سیالکوٹی منڈے سارے جلسے پر چھائے ہوئے تھے۔جوش کے ساتھ ہوش کا دامن انہوں نے پکڑ رکھا تھا۔سوا دو گھنٹے کی کارروائی میں کوئی بدنظمی نہیں ہوئی۔ مقررین کی نقلیں مہذب انداز میں کی جاتی رہیں۔ہنسی مذاق اور جملے بازی سارا وقت جاری رہی۔خواتین بھی زور دار تالیوں اور پُرجوش نعروں سے اپنی موجودگی کا احساس دلاتی رہیں۔

اس کامیاب جلسے کے بعد لاہور اور گوجرانوالہ میں رہائش پذیر پارٹی رہنماﺅں اور کارکنوں کی بڑی تعداد نے کامونکی میں رانا ساجد شوکت اور رانا الیاس شوکت کے پُرتکلف عشایئے کا بھی لطف اٹھایا۔انہوں نے بتایا کہ عموماً سیاسی جلسوں کا اختتام آدھی رات کو ہوتا ہے۔کھانے کا بندوبست نہیں ہوتا۔واپس لاہور بھی پہنچنا ہوتا ہے۔ہم نے فیصلہ کیا کہ پارٹی رہنماﺅں اور کارکنوں کی اتنی خدمت تو کریں کہ وہ کھانا کھا کر گھروں کو جائیں۔اس جذبے کو سبھی نے سراہا۔ اعجاز چودھری نے کہا کہ نوجوان ساتھی رانا ساجد نے کھانا کھلایا ہے، اس وجہ سے ان کی تعریف نہیں کی جا رہی۔ حقیقت یہی ہے کہ ان کا جذبہ لائق تحسین ہی نہیں، قابل تقلید بھی ہے۔

پارٹی رہنما سعدیہ سہیل ایم پی اے بھی کام اور کارکردگی پر یقین رکھتی ہیں۔بہت کم و قت میں وہ مقبولیت میں بہت سوں کو پیچھے چھوڑ گئی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ یوتھ ہی ہماری پارٹی کا سرمایہ ہے۔ہمیں اپنے نوجوانوں کی حوصلہ افزائی اور قدر کرنی چاہیے، وہ وقت جلد آنے والا ہے، جب پارٹی پروگرام پر قابلِ فخر انداز میں عملدرآمد ہوگا اور اس کام میں نوجوان قیادت اور کارکن پیش پیش ہوں گے۔قائداعظم محمد علی جناحؒ نے بجا طور پر نوجوانوں کو ”ہراول دستہ“ قرار دیا تھا۔عمران خان بھی اسی حوالے سے نوجوان قیادت کا خیال رکھتے ہیں۔ہمیں فخر ہے کہ پاکستان تحریک انصاف میں نوجوانوں کی تعداد بہت زیادہ ہے اور وہ کچھ کر گزرنے کا جذبہ رکھتے ہیں۔یہ باتیں سن کر ہم نے کہا کہ بلدیاتی الیکشن کے موقع پر معلوم ہوگا کہ مرکزی قیادت کس حد تک نوجوانوں کو آگے بڑھنے اور اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا موقع دیتی ہے؟....اسی طرح پارٹی معاملات چلانے کے لئے بھی نوجوان قیادت کو کتنی اہمیت دی جاتی ہے؟....خدا کرے، سیاست میں قول و فعل کا تضاد جلد ختم ہو جائے۔

مزید : کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...