ظالمو! اب قادری آ رہا ہے!

ظالمو! اب قادری آ رہا ہے!
ظالمو! اب قادری آ رہا ہے!

جماعت اسلامی کے مرکزی امیر قبلہ قاضی حسین احمد بڑی نفیس شخصیت تھے۔ سیاست میں ہونے کی وجہ سے کچھ ڈپلومیسی سے کام لیتے، لیکن مجموعی طور پر وہ بہت صاف گو تھے۔ اگر کسی بات کے جواب یا راز داری کا مسئلہ ہوتا تو جواب گول کر جاتے، بات کو دوسری طرف موڑ دیتے تھے، ہماری ان کے ساتھ نیاز مندی ہمیشہ قائم رہی۔ اکثر سخت سوال بھی کر لیتے جواب مسکراتے ہوئے ہی دیا جاتا، ایک زمانے میں یہ قول بہت مشہور ہوا ”ظالمو! قاضی آ رہا ہے“۔ یہ دراصل ان کا استحصال اور استحصالی معاشرے کے خلاف اعلان جنگ تھا اور ہم نے ان کو سوشلسٹ قرار دے دیا تھا۔

قاضی حسین احمد یوں یاد آئے کہ ہمارے محترم قبلہ ”شیخ الاسلام“ ڈاکٹر علامہ طاہر القادری مدظلہ العالی نے اپنی پاکستان آمد کا اعلان کر دیا اور کیا دھماکہ خیز اعلان کیا کہ دل چاہتا ہے، قاضی صاحب والا ٹائٹل ان سے موسوم کر دیا جائے اور کہا جائے ”ظالمو قادری آ رہا ہے“ یہ زیادہ موزوں بھی ہو گا کہ قاضی حسین احمد تو معاشرے کی اصلاح کی بات کرتے اور عوامی حقوق کا ذکر کرتے تھے، لیکن ہمارے قبلہ گاہی نے تو انقلاب کا اعلان کر دیا ہے وہ موجودہ نظام ہی کو تسلیم نہیں کرتے۔ مطلب یہ کہ وہ اگر موجودہ نظام طریق حکومت اور طریق انتخاب کے علاوہ الیکشن کمشن اور دوسرے اداروں کو نہیں مانتے تو صرف یہ کہہ دینا کافی نہیں کہ جو کچھ بھی ہو گا آئین کے دائرہ کار کے اندر ہو گا، ہم نے دوست وکلاءاور آئینی ماہرین سے بہت سر کھپایا کہ وہ ہمیں یہ سمجھا سکیں کہ انقلاب کیا ہوتا ہے۔ اس کے معنی کیا ہیں اور کیا 1973ءکے آئین میں کوئی ایسا آرٹیکل ہے جو انقلاب کی اجازت دیتا ہو۔ ڈاکٹر طاہر القادری کے ساتھ ہمارے تعلقات (بطور اخبار نویس) بڑے اچھے رہے اور اب بھی ہمیں ان کا احترام ہے اس لئے ان کے بارے میں کچھ لکھتے وقت ہمیں محتاط بھی رہنا پڑتا ہے۔ آج تو ہم ان کی حمایت میں یہ ضرور کہیں گے یہ جو اپنے پرویز رشید ہیں، جو سینیٹر بھی ہیں اور وزیر اطلاعات کے عہدہ پر فائز ہیں۔ نفیس انسان ہیں ہمیشہ اچھی باتیں کرتے ہیں۔ افسوس ہے کہ انہوں نے ڈاکٹر طاہر القادری کو شعبدہ باز قرار دے دیا ہے اور جو اشارہ کیا اس میں بھی کچھ ترمیم کی ضرورت ہے اور پھر یہ بھی کیوں ہو، کیونکہ جس طرف محترم پرویز رشید نے اشارہ کیا وہ واقعہ تو لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے میں موجود ہے جو پی ایل ڈی میں محفوظ ہے اس لئے ان کو ایسا نہیں کہنا چاہئے تھا، وہ حکمران جماعت کے ترجمان اور پرانے سیاسی کارکن ہیں ان کو تو احتیاط سے کام لینا چاہئے، ماضی کی کسی بات کا طعنہ دینے کی بجائے حال کے حوالے سے بات کرنا چاہئے۔

جہاں تک ڈاکٹر طاہر القادری کا سوال ہے، تو وہ اس طرح کی گفتگو حکمت عملی کے تحت کرتے ہیں اور پھر ان کو کسی کی کوئی پرواہ نہیںہوتی۔ کوئی جو مرضی کہتا رہے۔ اب اگر کوئی (یعنی رانا ثناءاللہ) یہ سمجھے کہ ڈاکٹر طاہر القادری افراتفری پیدا کرنا چاہتے ہیں تو سمجھتے رہیں وہ تو دراصل انقلاب کے لئے تشریف لا رہے ہیں اور ہر انقلابی اپنی جان ہتھیلی پر رکھے ہوتا ہے، کہ خطرہ تو بہرحال موجود ر ہتا ہے اب اگر کسی انقلابی کو انقلابی عمل شروع کرنے سے قبل ہی کچھ ہو جائے تو انقلاب بے چارہ کیا کرے گا۔ ایک دور1970ءوالا بھی تھا، ہر روز جلسہ ہوتا اور انقلابی تقریریں اور شاعری ہوتی تھی۔ اسی باغ میں ہی حبیب جالب نے اپنی معرکتہ الآرا نظمیں پڑھیں۔ یہ نہ پوچھئے کہ پھر انقلاب آیا، اس سلسلے میں ہم نے بھی ایک بزرگ انقلابی سے پوچھا حضور! انقلاب آ گیا۔ کہاں گیا تو انہوں نے جواب دیا ہم نے تو انقلاب کے پاﺅں میں رسہ باندھ کر اسے کھینچا اور کھینچ کر موچی دروازے تک لے آئے تھے۔ یہاں سے رسہ تڑوا کر بھاگ گیا تو ہم کیا کریں۔

بہرحال شیخ الاسلام انقلاب لانے کی بات کرتے اور موجودہ جاری اور جمہوری نظام کو قطعی طور پر رد کرتے ہیں، لیکن انہوں نے انقلاب چھپا کر رکھا ہوا ہے یہ نہیں بتاتے کہ انقلاب کیا ہو گا اور کیسا نظام لائے گا۔ یہ راز کی بات ہے تاہم انہوں نے تحفظ ہی کی تو بات کی ہے۔ وہ کہتے ہیں ”خطرہ ہے میری جان کو، مجھے یا میرے خاندان یا کسی قریب ترین ساتھی کو کچھ ہوا تو ذمہ دار وفاقی اور پنجاب حکومت ہو گی“ پھر اس خطرے کا حل بھی خود ہی پیش فرماتے ہیں کہ23جون کو فوج اسلام آباد کے ہوائی اڈے کا کنٹرول سنبھال لے۔ چلئے آپ کی یہ بات تسلیم، ایئر پورٹ کے بعد بھی تو آپ نے کہیں جانا ہے اور پھر انقلاب کی قیادت بھی تو کرنا ہے، تو محترم اب ذرا آگے بڑھئے اور فوج سے مطالبہ کیجئے کہ وہ از خود اختیارات (سوموٹو) کے تحت آپ کی حفاظت کی ذمہ داری مستقل طور پر سنبھال لے۔ اس سے بھی آسان تو یہ ہے کہ آپ فوج ہی سے کہئے کہ وہ آپ کے انقلابی فلسفے کو تسلیم کر لے اور پھر انقلاب کو کوئی روک سکتا ہے؟

محترم ڈاکٹر طاہر القادری سے ہمارا ہمیشہ یہی مطالبہ رہا ہے کہ وہ سیاست سے دامن بچائیں اور دینی کام کرتے رہیں کہ وہ جدید دور کے تقاضوں کے مطابق کر رہے ہیں اور کرتے رہیں کہ اس میں عزت اور احترام زیادہ ہے۔ خود ڈاکٹر طاہر القادری اعتراف اور دعویٰ کرتے ہیں کہ کینیڈا کی شہریت ان کے علمی کام کی وجہ سے دی گئی ہے اور کیا لینا ہے، لیکن وہ تو پاکستان کو منہاج القرآن سمجھتے ہیں اور خواہش ہے کہ انتخابات تو ان کو راس نہیں آئے۔ اب انقلاب ہی ایک راستہ ہے، جو ان کو تخت پر بٹھا سکتا ہے اور اگر انقلاب ہی کے لئے کام کرنا ہے تو پھر فوج سے تحفظ مانگنا اور موت سے ڈرنا ”چہ معنی دارد“۔

بات کو ختم کرنے سے قبل اپنے رپورٹر ساتھیوں کی طرف سے یاد دہانی کا شکریہ یہ بالکل درست ہے کہ جب 12اکتوبر1999ءکو جنرل(ر) پرویز مشرف کے لئے فوج نے میاں محمد نواز شریف کی حکومت کو معطل کر کے اقتدار سنبھال لیا تو ڈاکٹر طاہر القادری نے لاہور پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس میں اسے انقلاب قرار دیا اور جنرل(ر) پرویز مشرف کے اقدام کی تعریف کی تھی۔ پریس کانفرنس ہی کے دوران وہ اُٹھ کر ذرا دور گئے کہ موبائل پر جی ایچ کیو سے کال ہے، واپس آ کر انہوں نے بتایا بھی یہی۔ وہاں موجود تمام جرنلسٹ حیران تھے کہ بات کیسے ہو گئی کہ پورے ملک میں تو نظام مواصلات جام کر دیا گیا ہے، تو ڈاکٹر صاحب نے توضیح کی یہ خصوصی ٹرانسمیشن ہے۔

مزید : کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...