سارجنٹ برگ ڈاہل اور صدر اوباما کی مشکلات(1)

سارجنٹ برگ ڈاہل اور صدر اوباما کی مشکلات(1)
 سارجنٹ برگ ڈاہل اور صدر اوباما کی مشکلات(1)

 

سارجنٹ برگ ڈاہل کے شہر سن ویلی آئی ڈاہو میں جشن کی تقریبات منسوخ کردی گئی ہیں۔ کہا گیا ہے کہ سیکیورٹی خدشات کے باعث یہ جشن منسوخ کیا گیا، لیکن عام خیال یہ ہے کہ سارجنٹ برگ ڈاہل، جنہیں اب تک ہیرو قرار دیا جارہا تھا، اب زیروبن چکے ہیں، انہیں غدار قرار دیا جارہا ہے۔ اس صورت حال نے صدر باراک اوباما کے لئے بھی مشکلات پیدا کردی ہیں۔ صدر بارک اوباما جنہیں حیرت انگیز طورپر چند جنوبی ریاستوں میں ووٹ بھی مل گئے تھے، لیکن یہ بدستور ان ریاستوں میں سخت ناپسندیدہ شخصیت ہیں۔ ان ریاستوں سے تعلق رکھنے والے انتہا پسندری پبلیکن وائٹ ہاﺅس پر نازل ہونے والی ہر ناگہانی کو باراک اوباما کے تابوت میں آخری کیل قرار دے دیتے ہیں۔ اس وقت پھر یہی صورت حال بن چکی ہے۔ کبھی گوانتاناموجیل کے قیدیوں کو خطرناک قرار دیا جارہا ہے ، کبھی اس سودے بازی کو امریکی حکومت کا دہشت گردوں کے آگے جھک جانا قرار دیا جاتا ہے اور کبھی دہشت گردوں کو برابر کی طاقت قرار دینا امریکی مفادات اور امریکی شان کے خلاف قرار دیا جاتا ہے.... دہشت گردوں کے ہاتھوں مارے جانے والوں کی تعداد بتا کر بھی جذبات میں ابال پیدا کیا جاتا ہے۔ یہ وہی اعتراضات ہیں جو ہمارے ہاں طالبان سے مذاکرات کے سلسلے میںد ہرائے جاتے ہیں۔

سارجنٹ برگ ڈاہل کے طالبان کی حراست میں جانے کو پانچ سال ہوچکے تھے۔ اب ان کی رہائی کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ صدر باراک اوباما بہت پہلے انہیں رہا کرانا چاہتے تھے، لیکن اس وقت کی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن اور اس وقت کے سی آئی اے کے سربراہ لیون پینٹا نے اس تجویز کی مخالفت کی تھی، اس وقت صورت حال یہ ہے کہ ہیلری کلنٹن آئندہ کی صدارتی امیدوار ہیں۔ برگ ڈاہل کا معاملہ ابتدا میں انسانی ہمدردی کا معاملہ سمجھا جارہا تھا، جسے امریکی ووٹر بے حد اہمیت دیتے ہیں۔ اس لئے ہیلری کلنٹن اس کی حمایت کررہی ہیں۔ ہیلری کلنٹن نے آخر اپنی نامزدگی کے لئے ڈیموکریٹس سے ووٹ لینا ہوں گے، اس لئے ایک برسراقتدار ڈیموکریٹ صدر کی مخالفت انہیں مہنگی پڑ سکتی ہے۔ ڈیموکریٹس اپنے صدر کے خلاف چلنے والے کسی صدارتی امیدوار کو ہرگز نامزد نہیں کریں گے، ری پبلکن سینیٹر جان میکین نے پہلے روز برگ ذاہل کی رہائی کو سراہا اور دوسرے روز اپنا مو¿قف بدل لیا۔ ظاہر ہے سینٹر میکین بھی اپنی جماعت ری پبلیکن پارٹی ،جسے جی او پی، یعنی گرینڈ اولڈ پارٹی بھی کہا جاتا ہے، اس موقع کو صدر اوباما کوزچ کرنے کے لئے استعمال کرنے پر تلی ہوئی ہے۔ پارٹی برگ ڈاہل کی وفاداری کو نشانہ بنانے سے گریز کرتی ہے ،کیونکہ اس کا تعلق جنوب کی اس گوری آبادی سے ہے جو ری پبلیکن کا اثاثہ ہے، البتہ ری پبلیکن اس معاملے کو اس حوالے سے تنقید کا نشانہ بناتے ہیں کہ اس معاملے پر کانگریس کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔

آسٹریلوی امریکن روپرٹ مرڈاک کامیڈیا گروپ فوکس نیوز کٹڑری پبلیکن حمایتی ہے۔ صدارتی انتخابات میں اس چینل کو صدر اوباما کے مخالفین نے خوب استعمال کیا، حتیٰ کہ اس چینل نے صدرباراک اوباما کی انتخابی مہم کے اشتہار تک لینے سے انکار کردیا تھا۔ اس چینل کی نشریات میں وہ تمام عناصر بدرجہ اتم پائے جاتے ہیں جو ری پبلیکن کا خاصا ہیں۔اس چینل کی اسرائیل نوازی اور اسلام دشمنی بھی حد سے بڑھی ہوئی ہے۔ دی اوریلی فیکٹر کا میزبان، مصنف ، کالم نگار بل اوریلی اسلام دشمنی میں جہل مرکب کا نمونہ ہے۔ ڈیلی بیسٹ ....The Daily Beast....کے مضمون نگار ڈین عبداللہ نے ”بل اوریلی: مسلمان کا شکاری “کے عنوان سے ایک کالم میں اوریلی کی خوب خبر لی ہے۔ ڈین عبداللہ لکھتا ہے کہ اوریلی محض مسلمانوں کا شکاری ہی نہیں،Islamadarبھی ہے۔ یعنی ایسا راڈار جو مسلمانوں کو کھوج نکالتا ہے ۔ بدھ کی رات اپنے پروگرام میں اوریلی نے برگ ڈاہل کے باپ رابرٹ برگ ڈاہل کو مسلمان قرار دے دیااور اس کی دلیل یہ تھی کہ مَیں کہتا ہوں کہ رابرٹ برگ ڈاہل شکل سے مسلمان لگتاہے ،کیونکہ وہ شکل سے ہی مسلمان لگتا ہے “۔ ڈین عبداللہ، اوریلی کے اس طرز استدلال پر کہتا ہے کہ ”یہ بدترین صحافت کی انتہاہے“ ۔

 اس کے بعد اوریلی نے اس استدلال کے حق میں کچھ نقاط بیان کئے۔ (الف ) وہ مکمل طورپر مسلمان دکھائی دیتا ہے۔ (ب) اس نے پشتو میں بات کی جو طالبان کی زبان ہے....(حالانکہ رابرٹ برگ ڈاہل نے پشتو کا صرف ایک لفظ بولا ٹوٹا پھوٹا اور مفہوم سے عاری ) ۔(ج) اس نے ”اللہ “ کا شکر ادا کیا ہے۔ ڈین عبداللہ نے لکھا ہے کہ رابرٹ تو سفید قمیض ، خاکی پینٹ اور نیلی ٹائی پہنے ہوئے تھا۔ تو کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ کپڑوں کی مشہور چین ”GAP“کے سارے ملازم جو ایسا لباس پہنتے ہیں، مسلمان ہیں ؟ ہاں اگر اوریلی اسے داڑھی کی وجہ سے مسلمان قرار دے رہا ہے تو بروکلین کے Vipster(داڑھیاں بڑھانے والا ایک طبقہ ) تو سارے مسلمان ہوں گے۔ اورy Duck Dynast کے درازریشن اداکار بھی مسلمان ہوں گے۔ اور پشتو جو لگ بھگ پانچ کروڑ پشتونوں کی زبان ہے جو افغانستان اور پاکستان میں رہتے ہیں، صرف طالبان کی زبان کیوں کر قرار دی جاسکتی ہے۔ رہا ”اللہ “ کا شکر تو عرب دنیا میں رہنے والے سارے عیسائی ”اللہ کا شکر“ ہی ادا کرتے ہیں ، گویا اوریلی کی نظر میں سارے عرب عیسائی مسلمان ہیں.... (پاکستان میں بھی اکثر عیسائی بھائی ”اللہ کا شکر“ ہی کہتے ہیں )

جہاں تک سارجنٹ برگ ڈاہل کا تعلق ہے، اس کے بارے میں متضاد آرا ہیں ۔ اس نے اپنے والدین کے نام آخری ای میل میں لکھا تھا: ”مستقبل ایک بہترین چیز ہے، جسے کسی جھوٹ پر ضائع نہیں کیا جاسکتا۔ زندگی اس قدر مختصر ہے کہ اسے دوسروں کی تذلیل اور انہیں گنہ گار ثابت کرنے میں ضائع نہیں کیا جاسکتا ،نہ ہی اسے احمقوں کے احمقانہ خیالات جو سراسرغلط بھی ہوں ،کی نذر کیا جاسکتا ہے۔مَیں ان کے خیالات (آئیڈیاز) کو دیکھ چکا ہوں اور مجھے امریکن ہونے پر بھی شرم محسوس ہوتی ہے۔ ان کا خود کو درست خیال کرنا بے حد خوف ناک، ان کا تکبرانہ رویہ نہایت کریہہ ہے “۔ برگ ڈاہل نے اس ای میل میں امریکی فوج پر بھی تنقید کی تھی۔ اس نے لکھا: ”امریکی فوج میں دیانت داری پر آپ کو نشانہ بنایا جائے گا اور اگر آپ دھوکا باز ہیں فریبی ہیں تو خواہ گندگی کا تو بڑا کیوں نہ ہوں آپ کو ترقی ملے گی اور آپ کو اجازت ہوگی کہ جوچاہے کرتے پھریں، سارا نظام غلط ہے.... (لگتا ہے امریکہ میں بھی نظام کی درستی کے لئے شیخ الاسلام کی خدمات درکار ہوں گی) ۔مجھے اپنے امریکی ہونے پر شرمندگی محسوس ہوتی ہے۔ اور ”امریکی سپاہی“ کا خطاب محض احمقوں کا جھوٹ ہے۔ یہاں جو کچھ ہورہا ہے، مجھے اس پر سخت افسوس ہے۔ ان (افغانوں) لوگوں کو مدو کی ضرورت ہے، لیکن دنیا کا سب سے بڑا فریب کار ملک انہیں کہتاہے کہ تم کچھ بھی نہیں ہو، تم سب احمق ہو اور تمہیں زندہ رہنے کا سلیقہ تک نہیں ہے۔ ہمیں ان کی ذرا بھر پرواہ نہیں ہوتی، جب ان کے بچے ہمارے آرمڈٹرکوں کے ساتھ ساتھ بھاگتے ہیں تو ہم ان کے بارے میں عجیب عجیب باتیں کرتے ہیں اور ان کا مضحکہ اڑاتے ہیں۔ ہم ان کے منہ پر ان کی ہنسی اڑاتے ہیں اور ان کی تضحیک کرتے ہیں۔ مجھے اس سب کچھ پر بے حد افسوس ہے۔ امریکی ہونا سخت خوف ناک اور بے حد کریہہ ہے ،ہاں بھئی چند مزید خالی بکسے آرہے ہیں، انہیں کھولنے میں کوئی جھجک محسوس نہ کریں اور انہیں استعمال کریں....(اشارہ امریکی فوجیوں کی اموات اور بکسے میں بند ہوکر لاشوں کی امریکہ روانگی کے بارے میں ہے ۔)

مجھے معلوم نہیں کہ اب برگ ڈاہل کے ساتھ کیا سلوک ہوگا۔ لیکن طالبان کی جاری کردہ وڈیومیں خودبندھا ہوا نہیں دکھائی دے رہا۔ البتہ وہ کبھی کبھی آنسو پونچھتا دکھائی دیتا ہے ،ایسا لگتا ہے وہ بہت اداس ہے۔ ایک طالب اسے کہتا ہے :”جاﺅ خیر سے اب ادھر نہ آنا ورنہ اب جانہیں پاﺅ گے “ ۔اس پر دوسرے طالبان ہنس پڑتے ہیں۔ امریکی میڈیا نے اسے دھمکی قرار دیا ہے، لیکن میرا خیال ہے کہ یہ بھی ایک دوستانہ مذاق ہے۔ جب امریکی ہیلی کاپٹر اسے لینے آتا ہے تو وہ کسی اشتیاق یا بے قراری کا کوئی مظاہرہ نہیں کرتا، اس نے کرتا شلوار پہنی ہوئی ہے، امریکی طالبان کی جیپ سے ہیلی کاپٹر تک مسلسل اس کی جسمانی تلاشی لیتے رہتے ہیں۔ ہیلی کاپٹر پر سوار ہونے سے پہلے ایک بار پھر اس کے سارے جسم کو ٹٹولا جاتا ہے۔

صدراوباما آخری امریکی کو طالبان کی قید سے رہا کرانا چاہتے تھے۔ اس بہانے سے وہ گوانتانا موجیل کا کچھ بوجھ بھی کم کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ آخری امریکی سپاہی کو ہر قیمت پر واپس لانے میں انہیں جس پذیرائی کی توقع تھی ،وہ نہیں ملی۔ صدر اوباما جو اپنی صدارت کے پہلے روز سے اپنی ٹوپی میں سرخاب کے پر لگانے میں لگے رہے ہیں، ابیٹ آباد واقعہ کا جھوٹ سچ اسی سلسلے کی کڑی تھا، جبکہ یہ اس سلسلے کا آخری سرخاب کا پر تھا۔ وہ گوانتانا مو جیل کا بوجھ بھی جوں کا توں آنے والے ڈیموکریٹ صدارتی امیدوار کے لئے چھوڑ کر نہیں جانا چاہتے۔ امریکی صدارت اتنی مشکل نہیں ہے، اس کے پیچھے اسٹیبلشمنٹ کی خواہشات، مدد اور سوچ کارفرما رہتی ہے، لیکن امریکہ کی صدارتی امیدواری تلوار کی دھار پر چلنے کے مترادف ہے۔ جانے والا صدر اگر آنے والے امیدوار کے لئے بہت سارا ملبہ چھوڑ جائے تو کامیابی بے حد مشکل ہوجاتی ہے۔ ہیلری کلنٹن صدر اوباما کا چھوڑا ہوا ملبہ اٹھانے کے لئے ہرگز تیار نہیں ہوں گی، یہی وجہ ہے کہ انہوں نے صدر اوباما کی صدارتی مدت کے خاتمے سے پہلے اور صدراوباما کی خواہش کے برعکس وزارت خارجہ چھوڑدی تھی۔ بطور وزیر خارجہ وہ جس بات کی حمایت نہیں کرسکتی تھیں، اب اس کی حمایت کررہی ہیں۔ صدر باراک اوباما نے پہلا سیاہ فام صدر منتخب ہوکر امریکی تاریخ میں ایک سنگ میل نصب کیا ہے، دوسرا سنگ میل (خاتون صدر )ہیلری کلنٹن اپنے نام کرنا چاہتی ہیں۔ انہیں صدر باراک اوباما کی صدارت کے تمام برے اثرات سے خود کو محفوظ رکھنا ہوگا، صدر باراک اوباما کا سرخاب کے پروں کی تلاش کا شوق اچھا ہو یا برا، اسے ہیلری کلنٹن کی راہ میں روڑا نہیں بننا چاہئے۔ (جاری ہے )

مزید : کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...