سیاست دان اپنی قومی ذمہ داریاں پوری کریں

سیاست دان اپنی قومی ذمہ داریاں پوری کریں

امریکی ڈرون طیاروں نے ساڑھے پانچ ماہ کے بعد پاکستان کے قبائلی علاقوں پر پھر حملے شروع کر دیئے ہیں۔ شمالی وزیرستان اور ڈانڈ درپہ خیل میں کئے گئے حملوں میں ایک پک اپ اور چارمکانوں کو نشانہ بنایا گیا جن سے متعدد افراد ہلاک ہو گئے۔ ادھر دہشت گردوں نے صوبہ پختونخوا میں لیویز چیک پوسٹ اور گاڑی پر حملے کئے ہیں، جن سے5 افرادجاں بحق ہو گئے۔ ٹانک میں بھی ایک جھڑپ کے دوران دو دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔ دوسری طرف اسلامک موومنٹ آف ازبکستان نامی تنظیم نے دعویٰ کیا ہے کہ کراچی ایئر پورٹ پر حملہ انہوں نے کیا جو قبائلی علاقوں میں فوجی آپریشن کا ردعمل ہے۔ پاکستان کے فارمیشن کمانڈرز کی کانفرنس میں دہشت گردوں کے خلاف فضائی حملے تیز کرنے اور ان کے ٹھکانے مکمل طور پر تباہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ لندن سے تقریر کرتے ہوئے ایم کیو ایم کے رہنما الطاف حسین نے کہا ہے کہ پاکستان کو دہشت گردوں سے نجات دلانے کا وقت آ گیا ہے، دہشت گردی کے خلاف فوج کا ساتھ دیں گے۔ سابق وفاقی وزیر سیدہ عابدہ حسین نے کہا ہے کہ دہشت گردوں سے نمٹنے کے لئے کراچی فوج کے حوالے کیا جائے۔ پاکستان آنے سے پہلے ڈاکٹر طاہر القادری نے مطالبہ کیا ہے کہ حکمران دہشت گردوں کے سرپرست ہیں، اس لئے ان کی پاکستان آمد کے بعدفوج کو ان کی سیکیورٹی کا انتظام کرنا چاہئے۔ حافظ سعید نے کہا ہے کہ کراچی ایئرپورٹ پر حملے کے پیچھے مودی حکومت کا ہاتھ ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید نے کہا ہے کہ طالبان، عمران خان اور قادری سٹرٹیجک پارٹنر ہیں۔ طالبان دفاعی اداروں، عمران خان جمہوریت اور طاہرالقادری آئین پر حملہ آور ہیں۔ خیبرپختونخوا سے آفتاب شیر پاﺅ نے طالبان سے مذاکرات کے لئے کہا ہے۔

دہشت گردوں سے نمٹنے کے لئے جہاں فیصلہ کن کارروائی کے لئے تیاریاں مکمل ہیں وہاں ہماری سیاسی قیادت بھی اس سلسلے میں بٹی ہوئی نظر آتی ہے۔ اگر حکومتی سیاسی قیادت اور فوجی قیادت اس سلسلے میں یکسو اور جامع منصوبوں پر عمل کرنے کے لئے تیار ہے، تو اپوزیشن کی بعض جماعتیں طالبان سے مذاکرات کرنے کی بات کر رہی ہیں۔ اب تک قوم جس قدر دہشت گردی بھگت چکی اس کے بعد ایسی کارروائیاں کرنے والوں کے متعلق قوم میں کوئی دو آراءنہیں ہیں، جو سیاسی لیڈر شپ عوام سے ہٹ کر آراءکا اظہار کر رہی ہے اب تک وہ اپنی جماعتوں کے اوپر کی سطح پر کسی عوامی تائید و حمایت کی بنیاد کے بغیر ہی رہ گئی ہے۔ تاہم ان کے نقطہ نظر میں بھی اپنی جگہ اس وقت تک ایک وزن موجود تھا، جب تک طالبان یا دوسرے دہشت گرد گروہوں کو مذاکرات کے ذریعے راہ راست پر لانے کی کوئی امید موجود تھی، لیکن مذاکرات میں مصروف ہونے کے باوجود طالبان نے اپنی کارروائیاں جاری رکھ کر اور پھر ایک محدود وقت کے لئے جنگ بندی کر کے دوبارہ بڑی بڑی وارداتیں شروع کردینے کا جو رویہ اختیار کیا، ملکی سالمیت اور دفاع کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچانے کے جن منصوبوں کو کامیاب بنانے کے لئے شرمناک کارروائیاں کیں ان کے بعد ان سے کسی طرح کے مذاکرات کی کوئی گنجائش نہیں رہی۔ جنگ کرنے والوں کے ساتھ جنگ ہی کی جا سکتی ہے۔

سیاسی اور عسکری قیادت کی طرف سے قومی سلامتی کے خلاف مسلسل سرگرم دہشت گردوں کے خلاف آخری، جامع اور نتیجہ خیز کارروائی کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ پوری قوم کا فیصلہ ہے۔ اس کے بعد مذاکرات اور دوسری تجاویز کی بھانت بھانت کی آوازیں اب ختم ہونی چاہئیں۔ پوری قوم کو اس جنگ کے لئے سینہ سپر ہونا ہے۔ اپنی بہادر مسلح افواج کے پیچھے کھڑے ہونا ہے۔ امریکہ افغانستان کے علاقوں سے ان لوگوں کا صفایا کر رہا ہے، یہ ہمارے لئے بھی موقع ہے کہ ہم ان کا اپنے علاقوں سے صفایا کرکے قوم و ملک کے سکون اور امن کا سامان کریں اور دہشت گردی سے ہمیشہ کے لئے نجات پاکر ملکی ترقی اور خوش حالی کی راہیں ہموار کریں۔ اس کے لئے حکومتی مشینری کے تمام کل پرزوں کو سنجیدہ ہونا چاہئے۔ وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید کی طرف سے عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری کے خلاف دیئے گئے بیانات کو ان کی جماعت کے لوگ بہت کرارے اور مزیدار جان کر ان سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں، لیکن یہ وقت اس لطف اندوزی کا نہیں،بلکہ تمام محب وطن حلقوں کو دہشت گردی کے خلاف ایک پیج پر لانے کا وقت ہے۔ اس جنگ کے لئے شاید ہمیں ملک میں ایمرجنسی نافذ کرنے کی ضرورت ہو۔ اس ساری صورت حال میں ہمارے دشمن کی طرف سے ہمیں زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچانے اور دنیا میں بدنام کرنے کی بھرپور کوششیں کی جائیں گی۔ اگر ہم نے خارجی محاذ کے بجائے اپنے اندرونی محاذ پر بھی ایک دوسرے پر پھبتیاں کسنے کا یہ سلسلہ جاری رکھا تو پھر ہم اپنے قومی مفادات کا تحفظ اور قومی یکجہتی و ہم آہنگی کے مقاصد آخر کس طرح حاصل کر سکیں گے؟

عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری کو بھی دہشت گردوں سے اس فیصلہ کن جنگ کے دوران کچھ عرصہ کے لئے اپنا احتجاج اور ”انقلاب“ ملتوی کر کے قوم کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف کھڑے ہونا چاہئے۔ ڈاکٹر طاہر القادری فوج کو اپنی سیکیورٹی کے لئے پکار رہے ہیں، لیکن انہیں سوچنا چاہئے کہ اپنی سرزمین پر گھس آنے والی دشمن کی فوج سے نبرد آزما پاک فوج اس نازک موقع پر طاہر القادری کی سیکیورٹی کی ذمہ داریاں ادا کرے گی یا دہشت گردوں سے دو دو ہاتھ کرنے کے منصوبوں پر عمل کرے گی۔ کیا عین ایسے موقع پر ڈاکٹر طاہر القادری اور عمران خان کو اپنے احتجاج کے ذریعے سیکیورٹی اداروں کی تمام تر توجہ اپنی طرف مبذول کرا کے دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں قوم کے سیکیورٹی منصوبوں کو کمزورکرنا چاہئے یا بھرپور اور غیر مشروط انداز میں باقی قوم کے ساتھ اپنی مسلح افواج کے پیچھے کھڑے ہونا چاہئے۔ کیا اپنے فوج کے ساتھ ہونے یا اپنے ساتھ فوج کے ہونے کا تاثر دینے والے ڈاکٹر طاہر القادری کو فوج اور پوری قوم کی آزمائش کی اس گھڑی میں فوج اور دوسرے سیکیورٹی اداروں کی توجہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بجائے مختلف دوسری اطراف میں مبذول کرانا کسی بھی منطق کے لحاظ سے مناسب و موزوں ہے؟

وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو خط لکھا ہے، جس میں ان سے کہا ہے کہ آئیں مل کر خطے میں امن اور خوشحالی کے لئے کام کریں۔ پاکستان مسئلہ کشمیر سمیت تمام متنازعہ امور کا با معنی مذاکرات سے حل چاہتا ہے۔ وزیراعظم کی طرف سے ایک ہمسایہ ملک کے وزیراعظم کو لکھا گیا یہ خط پاکستانی قوم کی امن کی خواہش کا عکاس ہے۔ ماضی میں جاری رہنے والے بے نتیجہ مذاکرات کے بجائے اگر بامعنی اور بامقصد مذاکرات کے ذریعے دونوں ملکوں کے درمیان موجود کشمیر، سرکریک، سیاچن اور پانی کے مسئلے حل کرنے کی کوشش کی جائے تو ان میں کامیابی کوئی ان ہونی بات نہیں، لیکن اس کے ساتھ ہی ساتھ ہمیں اپنے گھر کو بھی درست اور تیار رکھنا ہے۔ اندرونی مسائل کے سلسلے میں قوم یکجا اور ایک آواز ہو جائے، تو پھر ان مسائل کا حل ہونے میں کوئی تاخیر نہیں ہو گی۔ کل جماعتی کانفرنس انہی مقاصد کے لئے بلائی گئی تھی۔ اب اگر ایک نئی کل جماعتی کانفرنس نہیں تو وزیراعظم کی طرف سے دہشت گردوں سے نمٹنے کے سلسلے میں حکومت اور افواج پاکستان سے اختلاف رکھنے والے چند گنے چنے سیاست دانوں سے بات چیت کر کے انہیں اعتماد میں ضرور لینا چاہئے۔ موجودہ صورت حال میں جب کسی کا مُنہ ایک طرف ہے اور کسی کا دوسری طرف، دہشت گردی کی جنگ جیتی نہیں جا سکتی۔ تمام زمینی حقائق سے ان سیاست دانوں کو آگاہ کر کے اپنے پروگرام سے آگاہ کیا جائے، تو انہیں اعتماد میں لینا مشکل کام نہیں۔ اندرونی محاذ میں ہم سیاست سے پاک کراچی آپریشن اور سیاسی سرپرستی میں پلنے والے جرائم پیشہ لوگوں سے نجات پا لیں، تو پھر کسی بھی طرح کے دہشت گرد گروہوں کو ملک کے کسی بھی کونے میں پناہ نہیں مل سکے گی۔ قومی سیاسی جماعتوں کی قیادت محب وطن اور دردمند لوگوں پر مشتمل ہے، نظام حکومت اور حکومتی پالیسیوں سے متعلق انہیں ہزار اختلافات ہو سکتے ہیں، لیکن وہ قومی سلامتی اور استحکام و سالمیت کے کاموں سے یقینا کسی طرح منہ نہیں موڑ سکتے۔ یہ کام حکومت وقت کا ہے کہ وہ اپنے گھر کو درست کرے، تمام مختلف رنگا رنگ آوازوں کو قوم و ملک کے استحکام کے لئے ایک آواز میں تبدیل کرے، یہ سب ہوگیا تو پھر ہمارے محترم وزیراعظم کو کسی ہمسایہ ملک کے حاکم کو یہ کہنے کی ضرورت نہیں رہے گی کہ آئیں مل کر خطے میں امن کے لئے کام کریں، بلکہ وہ خود اس مقصد کے لئے ہماری آشیر باد کے منتظر رہیں گے۔کیا اس نکتے اور اس کی مبادیات کو ہمارے حکمران سمجھتے اور اس پر عمل کرنے کا کوئی ارادہ رکھتے ہیں؟

مزید : اداریہ