پنجاب حکومت کی ایک سالہ کارکردگی مایوس کن ہے، چودھری ظہیرالدین

پنجاب حکومت کی ایک سالہ کارکردگی مایوس کن ہے، چودھری ظہیرالدین

لاہور (جنرل رپورٹر)پاکستان مسلم لیگ پنجاب کے جنر ل سیکرٹری چودھری ظہیرالدین خاں اور سیکرٹری اطلاعات سیمل کامران نے مسلم لیگ ہاﺅس میں ہونے والی پریس کانفرنس میں پنجاب حکومت کی ایک سالہ کارکردگی سے متعلق جاری ہونیوالے حقائق نامہ میں حکومت کی کارکردگی کو انتہائی مایوس کن قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ملک میں برسراقتدار جماعت کے عرصہ اقتدار میں مہنگائی ، بے روزگاری ، بجلی ، گیس کی لوڈ شیڈنگ ،، لاقانونیت ،دہشتگردی، ناکام منصوبے دینے، کھوکھلے " ایم او یوز" سائن کرنے اور جھوٹے وعدے کرنے کے حوالے سے اگلے پچھلے تمام ریکارڈ ٹوٹے ،بالخصوص اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں 100 سو سے 150 سو فیصد تک اضافہ ہوا ،بجلی ، گیس کی فراہمی کے حوالے سے پنجاب کے عوام اور صنعتی شعبہ کے ساتھ امتیازی سلوک برتا گیا ماضی میں احتجاجی مظاہروں کی سرکاری سرپرستی کرنے والی پنجاب حکومت آج خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ گزشتہ چھ سالوںیں ماسوائے بڑکوں اور جھوٹے وعدوں کے practically ایک میگا واٹ بھی بجلی genertae نہیں کر سکے۔ انہوں نے کہا کہ ہر جماعت جب برسر اقتدار آتی ہے تو اس طرح کے initiatives /projects لاتی ہے جو ان کے flagship projects ہوتے ہیں ۔ الحمد للہ پاکستان مسلم لیگ کی حکومت نے چوہدری پرویز الہیٰ صاحب کی زیر قیادت پنجاب کے عوام کی فلاح اور ترقی کے لئے منصوبے شروع بھی کئے اور ان کو پایہ تکمیل تک بھی پہنچایا۔ مگر اس حکومت کو یہ کریڈٹ حاصل ہے کہ گذشتہ چھ سالوں کے دوران انہوں نے جتنے بھی projects start کئے ان کو انہیں اپنے ہاتھوں سے wind up کرنا پڑا۔ پیل سستی روٹی ، میکینکل تندور ،پیلی ٹیکسی ، گرین ٹریکٹر سکیم اور دانش سکول کے ناکام اور ڈھونگ منصوبے اپنے انجام کو پہنچے اور ان منصوبوں کا فخر سے اجراءکرنے والے اس کے ذکر سے بھی شرمندگی محسوس کرتے رہے ۔انہوں نے مذید کہا کہ اگر سستی روٹی Pro Poor scheme تھیاور اس کے لئے قانون سازی کی گئی۔ سستی روٹی اتھارٹی بنائی گئی کیونکہ یہ خود ساختہ خادم اعلی کا وژن تھا اور پنجاب کے عوام کو سستی روٹی فراہم کرنا ان کا وعدہ تھا۔ میاں صاحب نے جوش خطابت میں فرمایا تھا کہ اگر دو روپے کی سستی روٹی نہ دی تو ان کا نام بدل دیں مگر آج قانون بھی موجود ہے، سستی روٹی اتھارٹی بھی موجود ہے، خادم اعلی بھی موجود ہیں، ان کا نام بھی میاں محمد شہباز شریف ہی ہے مگر اگر کچھ نہیں ہے تو وہ ہے دو روپے کی سستی روٹی ۔2گزشتہ پانچ سالوں میں عوام کو دانش سکول کے قصے سنانے والے آج دانش سکول کا نام لینا بھی بھول گئے ہیں۔ ہم ان سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ کیا ان 10 دانش سکولوں کے بعد پنجاب میں تعلیم عام ہو گئی ہے؟ یہ توکہتے تھے کہ تعلیم میں ایسے ریفارمز لے کر آئیں گے کہ قائد اعظم اور علامہ اقبال کا خواب پورا ہو گا ۔ مگر حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ یہاں حالات یہ ہیں کہ 42 کالجز پچھلے 6 سالوں سے مکمل موجود ہیں مگر ان میں آج تک سٹاف تعینات نہیں کیا جا سکا۔اس کی وجہ صرف اور صرف یہ ہے کہ وہ چوہدری پرویز الہی صاحب کے دور کے منصوبے تھے۔حکو مت کی نااہلی کی وجہ سے گزشتہ سال67لاکھ بچے سکو ل نہیں جا سکے۔3 اچھی حکومتیں ایسے initiatives لیتی ہیں جن سے عوام خوشحال ہوں ان کو ریلیف ملے مگر پنجاب حکومت نے ہمیشہ اس کے برعکس کیا۔کسانوں سے سستی گندم خریدی اورمہنگی بیچ کر 25 ارب منافع کمایا ۔ یہ حکومت کسان دشمن حکومت ہے۔ گندم سستی خرید کر مہنگی بیچی جاتی رہی۔ گندم کی قیمت میں اضافہ کرنے کے بجائے آٹا مہنگا کر دیا گیا تاکہ غریب کسان کا نہیں بلکہ سرمایہ دار کا فائدہ ہو۔ گنے کی قیمت میں اضافہ کرنے کے بجائے چینی کی قیمت میں اضافہ کیا گیا تاکہ کسان کے بجائے کارخانہ دار کا بھلہ ہو۔ 4 وہ صوبہ جو چوہدری پرویز الہٰی کے دور حکومت کے آخری دن 100 ارب کا سرپلس تھا آجتقریبا 600 سو ارب روپے کا مقروض ہو چکا ہے ، کشکول توڑنے کا نعرہ لگانے والوں نے نہ صرف کشکول کا سائز بڑا کر لیا ہے بلکہ نام نہاد یوتھ قرضہ سکیم کے ذریعے ہر نوجوان کے ہاتھ سودی قرضوں کا کشکول تھما دیا ہے حالانکہ اب تو یہ این ایف سی ایوارڈ کے تحت سالانہ 100 ارب روپے اضافی ان کو ملتے ہیں۔عوام یہ پوچھنے پر حق بجانب ہیں کہ وہ 100 ارب کہاں گیا؟ عوام یہ پوچھنا چاہتے ہیں کہ کیا social sector allocations میں اسی تناسب سے اضافہ ہوا ہے اگر نہیں تو وہ 100 ارب روپے سالانہ کہاں جاتا ہے؟ 5 1122 چوہدری پرویز الہیٰ دور کا عوامی فلاحی منصوبہ ہے یہ چوہدری پرویز الہیٰ دور کے عوامی مفاد کے منصوبوں میں سے ایک بہترین منصوبہ ہے جسکی بلا امتیاز ہر طبقہ حتی کہ یہ خود بھی تععیف کرتے ہیں موجودہ حکمرانوں کو اتنی توفیق نہیں ہوئی کہ اس کو expand کرتے اگر حکمرانوں کے دل میں عوام کا درد ہوتا تو آج پنجاب کے ہر قصبے میں 1122 نظر آتی on the other hand ان کے حالات یہ ہیں کہ 6    یہ وہ واحد حکومت ہے جو ہسپتالوں میں مریضوں کو زندگی دینے کے بجائے موت بانٹ رہی ہے ۔پنجاب کی تاریخ میں پہلی بار سرکاری ہسپتالوں میں حکومتی سرپرستی میں جعلی ادویات استعمال کروائی گئیں اور 150 سو سے زائد مریض جاں بحق ہوئے ۔ جہاں خسرہ سے 6 سو بچے جاں بحق اور ڈینگی سے 55 ہزار زائد متاثر ہوئے ، چوہدری پرویزالہٰی کے پولیو فری پنجاب میں آج پھر سے پولیو نے سر اٹھایا۔پہلی دفعہ وطن عزیر پو لیو کے بڑ ھتے ہوئے مرض کی وجہ سے پا بندیوں کا شکار بن گیا ہے جس کے باعث بیرون ملک جانے والے ہر شخص کیلئے پو لیو کے قطرے پینا لازمی ہے۔ گیسٹرو کا مرض پنجاب میں اتنا بڑ ھ چکا ہے کہ ہر روز500 سے زائد لوگوں میں گیسٹرو کے مرض کی تشخیص ہو رہی ہے۔ ہسپتالوں کی حا لت خراب ہو چکی ہے۔ دور دراز کے علاقوں میں تو ڈا کٹر بھی میسر نہیں ہے۔ جہاں ڈا کٹر ہیں وہاں ادویات نہیں ہیں، وہاں وینٹی لیٹرنہیں ہیں۔ لاہور جیسے شہر میں جہاں ہر روز دور دراز سے ہزاروں مریض آتے ہیں لیکن سر کاری ہسپتالوں میں وینٹی لیٹر نہ ہونے کی وجہ سے ان کو شدید مشکلات کا سا منا کر نا پڑا ہے بعض اوقات تو لوگوں کی جان بھی چلی جاتی ہے لیکن ہمارے حکمرانوںنے تو بس جنگلہ بس ہی بنانی ہے ۔ان کے لئے تعلیم ، صحت، امن و مان، بے روزگاری نیز ہر مسئلے سے زیادہ اہم گجو متہ سے شاہدرہ تک کا سفر کرنا ہے۔آج کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میںچوہدری پرویز الہیٰ کی 1122 تو موجود ہوتی ہے مریض بروقت ہسپتال تو پہنچ جاتا ہے مگر مناسب علاج اور فری ادویات نہ ملنے کی وجہ سے اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔ 7    یہ حکومت direction less & vision lessحکومت ہے جس کی سب سے بڑی مثال یہ ہے کہ اگر چھ سال بعدچوہدری پرویز الہیٰ کے منصوبے کے مطابق میٹرو ٹرین ہی چلنی تھی تو جنگلہ بس کا ڈرامہ کیوں کیا گیا ، آپ کو یاد ہو گا کہ جب لاہور میں میٹرو بس چلائی گئی تو اس وقت تقریبا 75 ارب روپے خرچ ہوئے اب لاہور میں ہی میٹرو ٹرین چلائے جانی ہے جس پر تقریبا 120 ارب سے زائد خرچ ہونا ہے اسی طرح ابھی راولپنڈی میں میٹرو بس چلا رہے ہیں اور بعد میں ٹرین چلائیں گے۔ آپ خود سوچیں کہ اس وقت میٹرو ٹرین کا وہی forigen funded project جس نے 28 ارب میں مکمل ہونا تھا آج 1 سو 20 ارب سے زائد میں مکمل ہو گا۔ یہ نا اہل حکمران پنجاب کے غریب عوام کا 250 سو ارب روپیہ ایسے ڈراموں پر لگا رہے ہیں۔ صرف لاہور میں 85 % آبادی کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں۔ 8مسلم لیگ نون کی حکومت نے اپنی نالائقی اور نا اہلی کی وجہ سے اداروں کو تباہ کر دیا ہے ان کمیشن مافیہ حکمرانوں ن محض کمیشن کی خاطر صفائی کا انتظام بھی ٹھیکے پر دے دیا ہے اور ہزاروںواسا ملازمین کو بے روزگار کرکے ان کے گھروں کے چولھے بجھائے گئے۔9    ان سرمایہ دار حکمرانوں نے تنخواہ دار طبقے کی زندگی اجیرن کر کے رکھ دی ہے اپنے حقوق کے حصول کے لئے آ ج ہر طبقہ سڑکوں پر سراپائے احتجاج ہے۔ جبکہ چوہدری پرویز الہیٰ کے دور میں تو کبھی ایسا نہیں ہوتا تھا۔ ڈاکٹر ہسپتالوں میں تھے سڑکوں پر نہیں۔۔۔ اساتذہ سکولوں میں تھے سڑکوں پر نہیں۔۔۔ کلرک دفتروں میں تھے سڑکوں پر نہیں۔۔ مزدور کارخانوں میں تھے سڑکوں پر نہیں۔انہی ٰ نااہل حکمرانوں نے چوہدری پرویز الہٰی کے دور حکومت کے منصوبوں کو مسلسل بند رکھ کر انتقامی کارروائی جاری رکھی اور خزانے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ان میں وزیر آباد کارڈیالوجی ہسپتال ، سیرت اکیڈمی ، مری بلک واٹر سپلائی سکیم ،پنجاب اسمبلی کی نئی عمارت سمیت صوبہ بھر میں ہسپتالوں اور کالجز کے سینکڑوں منصوبے شامل ہیں ۔10     حکومت عوام کے جان و مال کے تحفظ اور لاءاینڈ آرڈر میں بہتری لانے میں بری طرح ناکام رہی ، صوبہ میں ساڑھے تین لاکھ سنگین جرائم ہوئے 5 ہزار قتل ،12 ہزار 8 سو 62 اغواءاور اغواءبرائے تاوان کی وارداتیں ہوئیں حکومت کی نااہلی کے باعث اغواءبرائے تاوان اور بھتہ خوری کا جرم عام ہوا ، 31 ہزار ڈکیتیاں 220 شہری خونی ڈکیتیوں کے دوران جاں بحق ہوئے ، خواتین سے زیادتی اور اجتماعی زیادتی کے 25 سو واقعات کے ساتھ پنجاب خواتین کے خلاف جرائم میں چھٹے سال بھی نمبر ون صوبہ رہا ، 31 ہزار ڈکیتی کی وارداتیں ہوئیں اصل وارداتیں ان اعدادوشمار سے 2 گنا زیادہ ہیں ۔ ہر روز صرف لاہور شہر میں150 سے زائد ڈکیتیوں کی وارداتیں ہو رہی ہیں، ڈا کو پو لیس واردویوں میں لو گوں کو لوٹ رہے ہیں اور قا نون کے رکھوالے صرف تھانوں میں بند ہو چکے ہیں۔11 امن وامان کی خراب صورتحا ل کی بڑی وجہ حکمرا ن خو دہیں جب نام نہاد خادم اعلیٰ کے گھر پر2500 پولیس اہلکار چو بیس گھنٹے ڈیوٹی دیں گے تو پھر عام آدمی کا تحفظ کون کرے گا۔ دوسری طرف ہر تین گھنٹے بعد حوا کی بیٹی سے زیادتی کے واقعات سامنے آ رہے ہیں جن میں خادم اعلیٰ کا شہر لا ہور سب سے سر فہر ست ہے ۔ حکمرانوں کی نااہلی کہ وجہ سے پنجاب جرائم میں بھی بازی لے گیا ہے۔12 موجودہ حکمرانوں نے پنجاب میں جرائم کی دنیا میں ایک نیا کلچر متعارف کروایا ہے اور وہ کلچر ہے بھتہ خوری اور پرچی کا کلچر، اور اس میں بھی خادم اعلی کا شہر لاہوربہت آگے نکل گیا ہے۔ جہاں حکمران خود دہشتگردوں اور جرائم پیشہ افراد کی پشت پناہی کریں وہاں بھلا اور کیا نتیجہ نکلے گا؟ 13پہلے میاں صاحب لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے sponsered احتجاج کرواتے تھے ٹینٹ میں بھی بیٹھا کرتے تھے مگر آج جب ان کے بڑے بھائی جان وزیر اعظم ہیں تو حالات یہ ہیں کہبجلی کی قیمت میں78 فیصد تک اضافہ کیا گیا ہے جس سے پانچ روپے بجلی کا یونٹ بڑ ھ کر18 روپے ہو چکا ہے۔ مگر آج میاں صاحب خاموش ہیں۔ 14 نواز لیگ نے انتخابی مہم کے دوران عوام سے جتنے بھی وعدے کیے تھے ان میں سے کسی ایک کا پور ا ہونا درکنار عمل کے حوالے سے پیش رفت تک نہ کرسکی بالخصوص بجلی ، گیس کی لوڈ شیڈنگ میں کمی لانے کی بجائے اس کی پالیسیاں اضافہ کا سبب بنیں.حکو مت انرجی کے منصو بوں کا علان تو زور شور سے کرتی ہے لیکن عملی طور پر کچھ بھی نہیں کیا جارہا،480ارب روپے کے گردشی قرضوں کے باوجود بجلی کا بے قابو جن بو تل میں بند نہیں کیا جاسکا، لو ڈ شیڈنگ اس قدر بڑ ھ چکی ہے کہ 500 کے قریب صنعتی ادارے بند ہو چکے ہیں اور مالکان نے اپنا سر مایہ بیرون ملک منتقل کردیا ہے جس کی وجہ سے بے روز گاری میں تاریخ ساز اضافہ ہو چکا ہے اور لوگ اپنے بچوں کو فروخت کر نے پر آ گئے ہیں۔15 تاریخ میں پہلی بار پنجاب میں CNG سٹیشنز طویل ترین دورانیہ کے لیے 100 فیصد بند کیے گئے ۔16    چوہدری پرویز الہٰی کے دور حکومت میں صوبہ بھر میں 37 ہزار کلو میٹر سڑکیں تعمیر کرکے ایک نیا ریکارڈ قائم کیا گیا موجودہ حکمرانوں نے اس انفراسٹرکچر کو تباہ کردیا فارم ٹو مارکیٹ ہزاروں کلو میٹر سڑکوں کے مرمتی فنڈ جاری نہ کرکے انہیں کھنڈرات میں بدل دیا گیا اور صوبہ کے 36 اضلاع کے وسائل لاہور تک محدود کردیئے گئے ،پنجاب صرف لاہور نہیں ہے اس میں چولستان، ڈیرہ غازی خان اور راجن پور جیسے اضلاع بھی ہیں اور ان پسمانہ اضلاع کو آج تک PHA کے برابر کا فنڈ بھی نہیں دیا گیا۔ کیا اس سے ان پسماندہ اضلاع کے عوام کا احساس محرومی نہیں بڑھے گا؟ 17    good governance کا ڈھنڈھورا پیٹنے والی یہ حکومت Bad Practice کا نادر نمونہ ہے ۔بجٹ رولز سے انحراف اور financial dicipline کا قتل اس حکومت کا خاصہ رہا۔ block allocations اور re appropreations جیسی سنگین خلاف ورزیاں اس حکومت کا طرہ امتیاز رہا۔ بلا شبہ یہ مالی بے ضابطگیاں تاریخ کا حصہ ہیں دوسری جانب انہیں nfc ایواڈز کی مد میں 100 ارب اضافی ہر سال ملتے ہیں عوام یہ پوچھنے پر حق بجانب ہیں کہ کیا social sector allocations میں بھی اسی حساب سے اضافہ ہوا ہے اگر نہیں تو پھر وہ 100 ارب سالانہ کہاں جاتے رہے؟ 18    Provincial Finance Commission (PFC) عملا ختم ہو چکا ہے کیونکہ آج تک اس اارے کی ایک بھی میٹنگ نہیں بلائی گئی ۔ گذشتہ 6 سالوں کے دوران پنجاب کے وسائل کی تقسیم ضروریات اور مسائل کو مد نظر رکھ کر کبھی نہیں ہوئی ۔ صوبے کے عوام حکمرانوں کے رحم و کرم پر ہیں جسکو جتنا گاہیں نواز دیں۔ 19     بیرونی سر مایہ کاری کی طرف دیکھیں تو پتہ چلتا ہے کہ سر مایہ داروں کی حکومت نے سر مایہ داروں کے مفادات کو تحفظ دینے کیلئے بیرونی سر مایہ کاری پر ٹیکس کی چھوٹ دیکر بلیک منی کو وائٹ کر نے کا نیا راستہ کھو لا ، کشکول توڑنے کا نعرہ لگا کر عوام سے ووٹ لینے والوں نے ایک سال کے دوران دس ارب ڈالر کے بیرونی قرضے لئے جس سے پاکستان کی آ ئندہ دو نسلیں بھی مقروض ہو گئی ہیں۔20     ڈا کے اور فاقے عوام کا مقدر بن چکے ہیں، خواتین کی سرے عام عزتیں پامال ہو رہیں ہیں، رہی سہی کسر گھنٹوں لوڈ شیڈنگ پوری کر رہی ہے۔ اگر حکومت نے عوام کو ریلیف دینے کیلئے فوری اقدامات نہ کئے تو لوگ سڑکوں پر آکر اپنا حق خود لینے پر مجبور ہو جائیں گے۔21    ہر چوتھے دن فورن انوسٹمنٹ لانے کا ڈرامہ کر کے کبھی لندن کبھی ترکی کبی چائنہ جاتے ہیں مگر آج تک سوائے ایم او یوز کے کچھ بھی نہیں ہوا۔ آپ جانتے ہیں کہ یورپ جا کر انہوں نے پورا ایک ہفتہ قیام کیا اور وہاں پر کانفرنس بھی کی تھی مگر لوگوں نے ان کو کہا کہ آپ کا گروب اور آپ کی فیملی ایشیاءکیے سب سے بڑے financial investors ہیں جن کی یورپ میں investments ہیں ۔ آپ خود یوری میں investment کرتے ہیں اور ہمیں کہتے ہیں کہ پاکستان میں پیسہ لگاو¾۔ یہی وجہ ہے کہ آج تک سینکڑوں MOUZ سائن ہونے کے باوجود حکمران Investors کا اعتماد بحال نہیں کر سکے۔ کیونکہ اس کے لئے خود مثال بننا پڑتا ہے۔ 22    ان حکمرانوں نے پنجاب کے غریب کسانوں کے ساتھ سوتیلی ماں والا سلوک کیا گیا چینی اور آٹے کی قیمت میں تو اضافہ ہوا مگر گنے اور گندم کی قیمت نہ بڑھائی گئی ۔23    توانائی کا ایک بھی منصوبہ مکمل نہ ہوسکا ،40 فیصد سے زائد سرکاری سکول اساتذہ اور بنیادی سہولتوں سے محروم رہے پنجاب حکومت مفت اور لازمی تعلیم کی فراہمی کے لیے قانون سازی میں ناکام رہی جبکہ 8 کلب کو آئی ٹی یونیورسٹی میں تبدیل کرنے کا وعدہ چھٹے سال بعد بھی پورا نہ ہوسکا ۔24    بلٹ پروف گاڑیاں بیچنے کے اعلانات کرنے والوں نے انہیں آج بھی زیر استعمال رکھا ہوا ہے ، پنجاب حکومت کی بجلی چوری کے خلاف مہم بھی بااثر حکومتی افراد کے ملوث پائے جانے کے بعد روک دی گئی ۔25    انتخابات سے پہلے قوم کو اس تاثر کے ساتھ گمراہ کیا گیا کہ ن لیگ کی قیادت تجربہ کار اور حالات سے سبق سیکھ چکی ہے مگر ابتدائی 6 ماہ میں ہی ماضی کی ناکام گورننس کو دہرا کر ملک کو پھر 90 کی دہائی میں دھکیل دیا گیا اور ملک کو ایشیاءکا اقتصادی ٹائیگر بنانے کے دعوے داروں نے اسے ایشیاءکا مقروض ترین ملک بنا دیا ۔اس موقع پر یوتھ ونگ پنجاب کے صدر چوہدری ذوالفقار پپن ،ٹریڈرز ونگ کے صدر شیخ عمر حیات ،وکلاءونگ کے صدر عالمگیر ایڈووکیٹ،لیبرو نگ کے صدر سجاد بلوچ اور شعبہ خواتین کی جنرل سیکرٹری ماجدہ زیدی بھی موجود تھیں۔                                   

مزید : میٹروپولیٹن 1

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...