واہگہ برانچ میں جعلی اشٹام پیپروں پر رجسٹر یوں کی تعداد 70سے بڑھ گئی

واہگہ برانچ میں جعلی اشٹام پیپروں پر رجسٹر یوں کی تعداد 70سے بڑھ گئی

 لاہور(اپنے نمائندے سے)محکمہ ریونیو کے شعبہ رجسٹریشن واہگہ برانچ میں جعلی اشٹام پیپرز کے ساتھ تیار کی جانے والی رجسٹریوں کی تعداد70سے تجاوز کر گئی ڈی ڈی او رجسٹریشن ہر قسم کی قانونی کاروائی سے بری الذمہ،جبکہ رجسٹری محرروں کو شامل تفشیش کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا محکمہ ریونیو کے انکوائری آفیسرنے پرائیویٹ افراد کے خلاف مقدمات کا اندراج کرتے ہوئے سرکاری سٹاف کے کردار کا تعین کرنے کیے فائل سست روی کا شکار کر دی خزانہ برانچ میں ویری فکیشن کے لیے بھجوائے جانے والے کیس بھی التوا میں ڈال دئیے گئے روزنامہ پاکستان کو ملنے والی معلومات کے مطابق محکمہ ریونیو کے شعبہ رجسٹریشن برانچ واہگہ ٹاؤن میں 70سے زائدجعلی رجسٹری دستاویزات پاس کیے جانے کا انکشاف ہو رہا ہے جس میں ڈی ڈی او رجسٹریشن سے لیکر عملہ رجسٹری محرر آر ایم ون اور سٹاف خزانہ برانچ بھی برائے راست شامل ہیں مزید معلوم ہوا کہ ہے واہگہ ٹاؤن کی حدود میں�آنے والے رحیم گارڈن سوسائٹی سے منسلک ان رجسٹری کاغذات کو منیر نامی اشٹام فروش نے تحریر کیا تھا اور اس ضمن میں3جعلی رجسٹریاں پکڑے جانے کی اطلاعات ملی ہیں تاہم بورڈ آف ریونیو کے سینئر سٹیمپ انسپکٹر نے اس فراڈ جعلسازی سے پردہ اٹھایا اور ھکومت کو لاکھوں روپے کا نقصان پہنچانے والے لینڈ مافیا اور سرکاری ملازمین کو بھی بے نقاب کر دیا جس کے بعد ایڈیشنل ڈسٹرکٹ کلکٹر ریونیو اور ایڈیشنل ڈسٹرکٹ کلکٹر جنرل اسفند یار بلوچ نے نوٹس لیا اور سب رجسٹرار راوی ٹاؤن کو انکوائری آفیسر مقرر کرتے ہوئے اس وقوعہ کی تفصیلی رپورٹ مرتب کرنے کی ہدایت کی سب رجسٹرار راوی ٹاؤن چوہدری محمد ارشد جن کے پاس موجودہ اطلاعات میں واہگہ ٹاؤن کا چارج ہے نے انکشاف ہونے کے بعد اپنے ریونیو سٹاف کو بچانے کے چکر میں پرائیویٹ افراد کے خلاف 3ایف آئی آر درج کروا دیں حالانکہ اس کیس کو محکمہ پولیس میں بھیجنے کی بجائے سرکاری ملازمین کے ملوث ہونے کے سبب محکمہ اینٹی کرپشن کو بھیجنا چاہیے تھاذرائع نے ڈی جی اینٹی کرپشن پنجاب عابد جاوید اور ڈائریکٹر اینٹی کرپشن لاہور طارق محمود سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ اس کیس کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے قانونی کاروائی کریں تا کہ پنجاب حکومت کے30لاکھ سے زائد رقوم کو ہڑپ کرنے والے سرکاری و غیر سرکاری مافیا کو قانون کی گرفت میں لایا جا سکے دوسری جانب ذرائع نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ یہ تو صرف واہگہ ٹاؤن کی حد تک ایک کیس سامنے آیا ہے اس سے قبل راوی ٹاؤن میں بھی600سے زائد جعلی رجسٹریاں پاس کی گئی تھی جو کہ موجودہ انکوائری آفیسر چوہدری ارشد کی تعیناتی کے دوران ہوئی تھیں شہریوں کی بڑی تعداد نے ڈی سی او لاہور سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر اس کیس کو محکمہ اینٹی کرپشن کے سپرد کریں تا کہ اس میں ملوث سرکاری افسران ملازمین و پرائیویٹ مفاد کنندگان کے خلاف صیح معنوں میں قانونی کاروائی عمل میں لائی جا سکے اور گورنمنٹ کے لاکھوں روپے کے ریکوری بھی حاصل کی جا سکے۔

مزید : میٹروپولیٹن 1