دہشت گردوں کو حملے سے قبل دبوچیں

دہشت گردوں کو حملے سے قبل دبوچیں

کراچی جناح انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر حملہ کے نتیجہ میں طالبان اس حد تک پاکستان کو تنہا کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں کہ بین الاقوامی فضائی کمپنیوں نے کراچی میں اپنا رات کا آپریشن بند کر دیا ہے جب کہ کیتھے پیسفک ائیر لائن نے بنکاک کراچی سیکٹر میں اپنی فلائٹس کو بند کردیا ہے اس طرح پاکستان کرکٹ بورڈ اور ہمارے عوام کی پاکستان کے کرکٹ گراﺅنڈز میں بین الاقوامی ٹیموں کو کھیلتا دیکھنے کی خواہش بھی دم توڑ گئی ہے کراچی حملہ کے اگلے روز آئرلینڈ کی ٹیم نے اپنا دورہ منسوخ کیا جب کہ کراچی میں ہونے والے رمضان ٹورنامنٹ میں شرکت کیلئے آنے والے مختلف ممالک کے بڑے کھلاڑیوں جنوبی افریقہ کے ھرشل گبز کیوی آل راﺅنڈر جیکب اورام وغیرہ نے رمضان ٹورنامنٹ میں شرکت سے معذرت کرلی اسی تسلسل میں مالدیب کے صدر جو تجارتی مقاصد کیلئے پاکستان کے دورہ پر آرہے تھے اپنا دورہ منسوخ کردیا چائینز سرمایہ کار پہلے ہی طالبان کے ہدف پر ہیں طالبان کراچی حملے کے بعد یہ ثابت کرچکے ہیں کہ وہ جب چاہیں اور جہاں چاہیں اپنے ہدف تک پہنچ سکتے ہیں لہٰذا پاکستان کو معاشی طور پر نقصان پہنچانے کے لئے ان کا اگلا ہدف غیر ملکی سرمایہ کار بھی ہوسکتے ہیں طالبان جن کا مقصد پاکستان میں ایک خاص قسم کے اسلامی شرعی نظام کا نفاذ ہے اور یہ بات ان کے مذاکرات کے ایجنڈا پر پیش کردہ مطالبات سے بھی عیاں ہے کہ حکومت پاکستان 73ءکے متفقہ دستور کی جگہ پاکستان میں ان کا تجویز کردہ اسلام رائج کرے یہ الگ بات ہے کہ حکومت پاکستان ان غیر آئینی مطالبات کے باوجود بھی طالبان سے مذاکرات کیلئے ہاتھ پیر جوڑتی رہی ہے ۔ عراق میں ہونے والے حالیہ واقعات نے طالبان کے حوصلے مزید بلند کردئیے ہیں عراق میں اسامہ بن لادن کا جانشین ابوبکر بغدادی ابھر کر سامنے آگیا ہے جس نے اسامہ بن لادن کے خواب کو عراق میں حقیقت کا رنگ بھرنا شروع کیا ہے پہلے اس نے موصل پر قبضہ کیا اور ریاست اسلامیہ عراق و شام کے قیام کا اعلان کر دیا اور 24 گھنٹوں میں اس کے مٹھی بھر سپاہیوں نے تکر یت سمیت عراق کے کئی چھوٹے شہروں سے عراق کی امریکی تربیت یافتہ فوج کو پسپا کردیا اور بغداد کی طرف پیش قدمی شروع کردی اس واقع نے امریکہ یورپ ¾ سعودی عرب ¾ ایران اور اقوام متحدہ کو ہلا کر رکھ دیا اب اقوام متحدہ میں اجلاس ہونگے اور اس مسئلہ کا کوئی اجتماعی فوجی حل تلاش کیا جائے گا عراق میں ہونے والے ان واقعات سے پاکستان طالبان کو بھی تقویت ملی ہے عراق کی طرح پاکستانی طالبان یہ سمجھتے ہیں کہ پہاڑوں پر لڑنے سے بہتر ہے کہ جنگ کے دائرہ کار کو پاکستان کے بندوبستی علاقوں تک پھیلایا جائے اور اب ان کا ہدف پشاور ا ور اسلام آباد ہے انہیں معلوم ہے کہ ایک کلاشنکوف بردار سکندر اگر گھنٹوں اسلام آباد کو یرغمال بناسکتا ہے تو ان کے خیال میں بڑی عددی قوت اور اسلحہ کے ساتھ پشاور اور اسلام آباد پر بزور طاقت قبضہ کرسکتے ہیں عراق میں القاعدہ نے اپنی حکمت عملی کے ذریعہ عراق کو شیعہ سنی زون میں تبدیل کردیا ابتدا میں عراقی القاعدہ نے امام بارگاہوں پر دہشت گرد حملے کئے پھر عراق میں قائم شیعہ حکومت کو تنہا کردیا یہاں عراق اور پاکستان کے واقعات میں اس حد تک مماثلت ہے کہ طالبان پاکستان میں بھی اہل تشیع اور اپنے مخالف فرقہ کے سنی علماءکو اپنا نشانہ بناتے ہیں اس ساری صورت حال میں وقت گزارنے کی حکومتی پالیسی سمجھ سے بالاتر ہے ممکن ہے کہ حکومت بڑی جنگ شروع کرنے سے پہلے کسی مناسب وقت کا انتظار کر رہی ہو حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم اس معاملے کو عید کے بعد تک موخر کرنا چاہتے ہیں اور اس سے پہلے وہ بھارت سے معاملات کو سلجھانا چاہتے ہیں تاکہ ہماری مشرقی سرحدوں پر تناﺅ میں کمی آئے اور پوری قوت کے ساتھ طالبان کیخلاف ایک بڑا آپریشن کیا جائے پاکستان پر امریکہ کے ساتھ ساتھ چین کا دباﺅ بھی بڑھ رہا ہے کیونکہ چین سمجھتا ہے کہ پاکستانی سرحدوں سے ملحقہ مسلم اکثریتی چینی صوبے میں دہشت گرد کارروائیاں منحرف چینی مسلمان کرتے ہیں جو وزیرستان میں القاعدہ سے تربیت حاصل کرتے ہیں گزشتہ روز جنرل راحیل شریف کی سربراہی میں ہونے والے فارمیشن کمانڈرز کے اجلاس کے حوالہ سے جو اطلاعات موصول ہوئی ہیں ان کے مطابق فوج آپریشن کے لئے تیار ہے مگر وہ سیاسی قیادت کی پشت پناہی چاہتی ہے اور سمجھتی ہے کہ سیاسی قیادت اس جنگ کی ملکیت قبول کرے اس کے بغیر طالبان کے خلاف موثر آپریشن ممکن نہیں فوجی کمانڈروں نے بھی حتمی فیصلہ کیلئے گیند حکومت کی کورٹ میں پھینک دی ہے اور کسی واضح حکومتی پالیسی کے بغیر فوج مشرف کیانی ڈاکٹرئن کے مطابق دہشت گردوں کے خلاف جوابی کاررروائی جاری رکھے گی یعنی آپریشن نہیں صرف جوابی کارروائی پاکستان میں مشرف کیانی ڈاکٹرئن پر پندرہ سال سے عمل ہورہا ہے لیکن اس کے نتائج پوری قوم کے سامنے ہیں اس دفاعی پالیسی کے نتیجہ میں کتنے معصوم اور بے گناہوں کا خون بہہ چکا ہے ضرورت ہے کہ فوج اور حکومت ایک پیج پر آئیں وزیراعظم قوم کو اعتماد میں لیں اور دشمن کو حملہ سے قبل دبوچنے کی پالیسی اختیار کریں پاکستان میں اچھے اور برے طالبان کی تفریق کرنا ایک بے معنی بات ہے تمام طالبان دھڑوں کا مقصد ا پنی پسند کی شریعت پاکستان میں نافذ کرنا ہے اور اگر اچھے اور برے طالبان کی تفریق جاری رہی تو عالمی سطح پر دہشت گردی کی اس جنگ میں پاکستان تنہا رہ جائے گا۔ 6 ماہ کے تعطل کے بعد پاکستان میں ڈرون حملوں کا دوبارہ شروع ہونا اس تنہائی کی ابتدا ہے۔امریکہ نے ڈرون حملوں کا دوبارہ آغاز اس فہم کی بنیاد پر شروع کیا ہے کہ وہ سمجھتا ہے کہ پاکستان سے مذاکرات کی آڑ میں طالبان نے خود کو منظم کیا ہے اور اگر مزید وقت دیا گیا توکابل سے امریکی انخلاءکے بعد پاکستان اور افغان طالبان مل کر افغانستان میں عراق جیسی صورتحال پیدا کرسکتے ہیں۔ امریکہ کا خیال ہے کہ طالبان سے مذاکراتی عرصہ میں پاکستانی فوج نے بھی کوئی بڑی کارروائی نہیں کی اس لئے طالبان کی طاقت کو منتشر کرنے کے لئے ڈرون حملے کرنا ضروری ہیں دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لئے پاکستان پر مسلسل عالمی دباﺅ بڑھ رہا ہے اور اس کی تازہ مثال امریکی کانگریس کی پاکستان کی امداد وزیرستان میں فوجی آپریشن سے مشروط کرتا ہے۔

مزید : کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...