عوام بجلی کو ترسیں اور متعلقہ حکام ٹھنڈے کمروں میں بیٹھے رہیں یہ سلسلہ نہیں چلے گا ،شہباز شریف

عوام بجلی کو ترسیں اور متعلقہ حکام ٹھنڈے کمروں میں بیٹھے رہیں یہ سلسلہ نہیں ...

                                               لاہور(جنرل رپورٹر) وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف نے کہا ہے کہ قائداعظم سولرپارک میں پنجاب حکومت اپنے وسائل سے ایک ہزار میگاواٹ کا سولر منصوبہ لگائے گی جبکہ 100 میگاواٹ کے سولر منصوبے کو رواں سال کے اختتام تک مکمل کر لیا جائے گا۔ سولر سمیت توانائی کے دیگر منصوبوں کی مقررہ مدت میں تکمیل کے حوالے سے تمام وفاقی و صوبائی متعلقہ ادارے باہمی کوآرڈینیشن سے کام کریں اور منصوبوں کو تیزرفتاری سے آگے بڑھایا جائے تاکہ توانائی بحران میں جلد سے جلد کمی لائی جاسکے ۔ توانائی منصوبوں کی مقررہ مدت کے اندر تکمیل میں کسی قسم کی تاخیرکسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ وہ یہاں ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کر رہے تھے جس میں قائداعظم سولر پارک بہاولپور میں سولر منصوبے پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے سولر پاور منصوبے کیلئے ٹرانسمیشن لائن بچھانے کے حوالے سے ٹائم لائن پر عمل نہ کرنے پر متعلقہ اداروں کے حکام کی سرزنش کرتے ہوئے سخت برہمی کا اظہار کیا اور متعلقہ حکام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مجھے صرف نتائج چاہئیں، آپ کو توانائی منصوبوں پر عملدرآمد کی اہم اور قومی ذمہ داری سونپی گئی ہے جسے پورا کرنا آپ کا فرض ہے اور اس فرض کی ادائیگی میں کوئی غفلت یا کوتاہی ناقابل برداشت ہے۔ انہوں نے کہا کہ سولرپاور منصوبے پر تیز رفتاری سے کام جاری رکھنے کیلئے تمام متعلقہ ادارے اپنی ذمہ داریوں کا احساس کریں اور اس منصوبے کو روایتی انداز کی بجائے فاسٹ ٹریک پر آگے بڑھایا جائے۔ عوام بجلی کو ترسےں اور متعلقہ حکام ٹھنڈے کمروں میں بیٹھے رہیں، یہ سلسلہ آئندہ نہیں چلے گا۔ عوام کی توقعا ت پر پورا نہ اترنے اور نتائج نہ دینے والے افسروں کو عہدوں پر رہنے کا کوئی حق نہیں۔ کارکردگی دکھانے والا افسر ہی اپنے عہدے پر رہ سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ سولر منصوبے کے حوالے سے بجلی کی ترسیل کے نظام کے ساتھ ٹرانسمیشن لائن کے حوالے سے پہلے سے مقرر کردہ ٹائم لائن پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا اور متعلقہ اداروں کو مقررہ مدت کے اندر تمام کام مکمل کرنا ہوگا۔ توانائی منصوبوں کی بروقت تکمیل کے حوالے سے وسائل کی کوئی کمی نہیں۔ حکومت نے پہلے بھی اس سلسلے میں وسائل فراہم کئے ہیں اور آئندہ بھی کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی و صوبائی متعلقہ ادارے آپس میں قریبی رابطہ رکھیں اور منصوبے پر تیزرفتاری سے عملدرآمد کیلئے مقررکردہ اہداف کے حصول کیلئے کوئی کسر اٹھا نہ رکھی جائے۔ میں عوام کو جوابدہ ہوں، مجھے صرف نتائج چاہئیں۔ عوام کی توقعات پر پورا اترنے کیلئے تمام متعلقہ اداروں کو انتہائی فعال اور متحرک کردار ادا کرنا ہوگا اور توانائی منصوبوں کی مقررہ مدت میں تکمیل کو ہرصورت یقینی بنانا ہوگا۔ اس موقع پروفاقی سیکرٹری پانی و بجلی نرگس سیٹھی نے کہا کہ وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف کے وژن کے مطابق سولر منصوبے کے حوالے سے بجلی کے ترسیلی نظام، ٹرانسمیشن لائن بچھانے اور دیگرامور کو مقررہ کردہ ٹائم لائن کے اندر مکمل کرنے کیلئے ہرممکن اقدام اٹھایا جائے گا اور اس ضمن میں آئندہ چند روز میں وزیراعلیٰ کو رپورٹ پیش کی جائے گی۔معاون خصوصی عزم الحق، چیف سیکرٹری،وفاقی سیکرٹری پانی و بجلی، چیئرمین قائداعظم سولر پارک ، صدر بینک آف پنجاب ، نیپرا، این ٹی ڈی سی ، میپکو اور دیگر متعلقہ اداروں کے حکام سمیت اعلیٰ افسران نے اجلاس میں شرکت کی۔وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف سے چائنہ سٹےٹ کنسٹرکشن اےنڈانجےنئرنگ کمپنی کے نائب صدرچن گاﺅ کائے کی سربراہی مےں اعلی سطح کے وفد نے ےہاں ملاقات کی ۔ ملاقات میں انفراسٹرکچر کے منصوبوں میں سرماےہ کاری کے حوالے سے تبادلہ خیال ہوا-چےئرمےن منصوبہ بندی و ترقےات، سےکرٹری خزانہ،کمشنر لاہورڈوےژن اور ڈی جی اےل ڈی اے بھی اس موقع پر موجود تھے ۔وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف نے چین کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان اور چین دوستی کے لا زوال رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں-چین کی حکومت نے 32ارب ڈالر کے سرماےہ کاری پیکیج کا اعلان کر کے پاکستانی عوام کے دل جیت لئے ہیں-انہوں نے کہاکہ کسی بھی ملک کی ترقی میں جدید انفراسٹر کچر اہم کردار ادا کرتا ہے-پنجاب حکومت صوبے میں جدیداور معیاری انفراسٹرکچر کی فراہمی کے لئے جامع پروگرام پر عمل پیراہے-چین کی متعدد کمپنیاں پاکستان میں توانائی سمیت مختلف شعبوں میں سرماےہ کاری کر رہی ہےں-انہوں نے کہاکہ پاکستان اور چین کے درمیان بڑھتے ہوئے تجارتی تعاون سے دونوں ملکوں کی دوستی مضبوط سے مضبوط تر ہوئی ہے-چائنہ سٹےٹ کنسٹرکشن اےنڈ انجےنئرنگ کمپنی کے نائب صدرچن گاﺅ کائے نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف قائد انہ صلاحیتوںکے مالک ہیں-پنجاب حکومت کے ساتھ انفراسٹرکچر کے شعبے میں تعاون کو فروغ دےنا چاہتے ہیں-

مزید : صفحہ اول