اللہ کے واسطے حکومت مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کرے ،مولانا سمیع الحق

اللہ کے واسطے حکومت مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کرے ،مولانا سمیع الحق

                                           لاہور( سٹاف رپورٹر)جمعیت علمائے اسلام (س) کے سربراہ مولانا سمیع الحق نے کہا ہے کہ اللہ کے واسطے حکومت مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کرے اوراگر حکومت کو ہمارے ساتھ مذاکرات پر اعتماد نہیں تو کسی اور کو اس میں شامل کرلیا جائے ہم اپنی بھرپور حمایت جاری رکھیں گے ،23اپریل سے مذاکرات کے سلسلہ میں تمام معاملات معطل ہیں اور مذاکراتی کمیٹی عملاًغیر فعال ہے ، کراچی واقعہ اور تفتان میں زائر ین پر حملے میں غیر ملکی قوتیں ملوث ہیں اگر طالبان کا کوئی گروپ بھی ملو ث ہے تو اسے بے نقاب کیا جائے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز مسجد کبریٰ میں مرکزی انتخابی مرحلہ مکمل ہونے کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کیا ۔ مولانا سمیع الحق کو دوبارہ متفقہ طور پر امیر جبکہ سیکرٹری جنرل کے عہدے کےلئے خفیہ ووٹنگ میں مولانا عبد الرﺅف فاروقی کو منتخب کر لیا گیا ۔ مولانا مفتی عبد الرحمن درخواستی کو پنجاب کا صدر جبکہ مفتی خالد محمود کو جنرل سیکرٹری منتخب کیا گیا ۔مولانا سمیع الحق نے مزید کہا کہ ہم آپریشن کو قطعاً کسی مسئلے کا حل نہیں سمجھتے اور ہمارا مطالبہ ہے کہ ملک میں پائیدار امن کے لئے دوبارہ مذاکرات کا آغاز کیا جائے ۔ مذاکرات کے جہاز کو ٹیک آف ہی نہیں ہونے دیا گیا ۔وزیر اعظم اور وزیر داخلہ سیکرٹریٹ نے ہماری طرف سے مسلسل رابطوں کے باوجود کوئی جواب نہیں دیا اور حکومت نے ہمیں بیچ چوراہے چھوڑ دیا ہے ۔ انہو ں نے کہا کہ آپریشن کیوجہ سے شمالی وزیرستان سے لوگوں نے نقل مکانی شروع کر دی ہے ہمارا خیبر پختوانخواہ کی صوبائی حکومت سے مطالبہ ہے کہ متاثرین کو سہولیات کی فراہمی کا بندوبست کیا جائے ،گرمیوں کی تعطیلات کی وجہ سے بند تعلیمی اداروں کو ان متاثرین کے لئے کھولا جائے جبکہ ہم مدارس کے منتظمین سے بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اپنے دروازے متاثرین کے لئے کھولیں۔ جمعیت علمائے اسلام متاثرین کو سہولیات کی فراہمی کے لئے بھرپور اقدامات کرے گی اور ہم قوم سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ بھی تعاون کریں ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سے مطالبہ ہے کہ اللہ کے لئے مذاکرات کی بحالی کی جائے اور جس طرح طالبان نے کہا ہے کہ انکے دروازے مذاکرات کے لئے کھلے ہیں حکومت بھی اسی عزم کا اظہا ر کرے ۔ انہوں نے کہا کہ یہا ں بیرونی قوتیں طالبان کی آڑ میں دہشتگردی کرا رہی ہیں ، بھارت نے ممبئی حملوں کے بعد آج تک ہمارا پیچھا نہیں چھوڑا پھر ہمارے حکمران اس حوالے سے خاموش کیوں ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نواز شریف سے مطالبہ ہے کہ وہ جرات کا مظاہرہ کریں اور بتا دیں کہ مذاکرات کو سبوتاژ کرنے میں کوئی رکاوٹ ہے ۔انہوں نے کہا کہ بعض اداروں میں اعتماد کا فقدان ہے ۔ ملک حالت جنگ ہیں اس لئے تمام اداروں کو ایک صفحے پر دیکھنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے پرویز مشرف کو باہر جانے کی اجازت ملنے کے سوال کے جواب میں کہا کہ پرویز مشرف باہر چلا گیا تو پھر ا س ملک کا اللہ ہی حافظ ہے ۔

مولانا سمیع الحق

مزید : صفحہ اول