پاکستان میں بجٹ تقریر کیساتھ ہی قیمتوں میں اضا فہ ہو جاتا ہے

پاکستان میں بجٹ تقریر کیساتھ ہی قیمتوں میں اضا فہ ہو جاتا ہے

لاہور(انویسٹی گیشن سیل )پاکستان کا شمار دنیاکے ان چند ملکوں میں ہوتا ہے۔ جہاں بجٹ تقریر کے ساتھ ہی ملک میں اشیاءکی قیمتوں میں اضافہ تو ہوجاتا ہے۔ البتہ جو چیزیں سستی کی جاتی ہیں ان پر نئی قیمتوں کا اطلاق یکم جولائی کو مالی سال کے آغاز پر ہی ہوتا ہے۔ ملک میں بجٹ تقریر کے خاتمے کے ساتھ ہی دوکاندار اور تاجر اشیاءخوردونوش اور روزمرّہ کی دیگر اشیاءکی قیمتوں میں اضافہ کردیتے ہیں۔جو کہ غیر قانونی ہے۔ پاکستان میں مالی سال ہرسال یکم جولائی سے شروع ہوتا ہے۔ اور یکم جولائی سے قبل بجٹ تقریر کی روشنی میں اشیاءکی قیمتوں میںاضافہ کرنا خلاف قانون ہے۔ لیکن حکومتی اداروں کی غفلت اور سستی کی وجہ سے ہرسال ایسا ہوتا ہے۔اور مہنگائی سے قبل ہی عوام کو مہنگائی برداشت کرنا پڑتی ہے۔حالیہ وفاقی بجٹ کے بعد ملک میں پیٹرولیم مصنوعات پر اضافے کے ساتھ جی ایس ٹی کی وصولی اس کی ایک مثال ہے۔

 بجٹ تقریر

مزید : صفحہ آخر